ایران کی توانائی تنصیبات پر امریکی حملے مزید دس روز کے لیے مؤخر

ایران پر امریکا اور نا جائز صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ کو ایک مہینہ مکمل ہو رہا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے، اہم ترین بحری راستے سے آمد و رفت متاثر ہوئی اور خلیجی ممالک میں بھاری نقصان ہوا۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے دنیا نے جس ملک کی طرف نظریں اٹھائیں وہ پاکستان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران کی حکومت کی درخواست پر وہ توانائی تنصیبات پر حملوں کا عرصہ دس روز کے لیے، یعنی 6 اپریل تک، مؤخر کر رہے ہیں۔ یہ توقف محض کسی ایک ملک کی سفارتی کوشش کا نتیجہ نہیں لیکن اس کے پیچھے پاکستان کی انتھک محنت ضرور کارفرما ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل سے جاری ہیں اور ایران امریکی 15 نکاتی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ یہ تجویز پابندیوں میں نرمی، سویلین ایٹمی تعاون، ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر پابندیاں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی مضبوط نگرانی اور آبنائے ہرمز میں بحری گزر گاہ کی ضمانت جیسے اہم نکات پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی اتفاقی نہیں۔ پاکستان واحد مسلم اکثریتی ملک ہے جو جوہری ہتھیاروں کا حامل ہے اور امریکا کے ساتھ قریبی تعلق کے باوجود وہ سر زمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی نہیں کرتا۔ اس کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ گزشتہ ایک سال میں مضبوط تعلقات استوار کیے ہیں اور ایران کے ساتھ بھی باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جامع تصفیے کے لیے با معنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور پر عزم ہے۔ یہ بیان پاکستانی قیادت کی سنجیدگی اور اعتماد کا آئینہ دار ہے۔ تاہم مذاکرات کی کامیابی اور باقاعدہ امن کے قیام کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکا جنگی معاوضہ ادا کرے اور ایرانی خود مختاری پر حملوں کا اعتراف کرے۔ دوسری جانب، امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے سے کم کسی بات پر راضی نہیں۔ اس کشمکش میں عالمی امن تو داؤ پر لگا ہی ہوا ہے، عالمی معیشت بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں، ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں، توانائی کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا اپنے موقف میں لچک پیدا کرے اور ایران بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے۔ پاکستان نے ثالث کے طور پر جو اعتماد حاصل کیا ہے، وہ نہ صرف ہماری سفارتی بالغ نظری کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل سمجھتی ہے۔ مذاکرات کی کامیابی ہی اس خطے اور پوری دنیا کے لیے امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
واپس کریں