دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کفایت شعاری کی تلوار کس کی گردن پر چلتی ہے؟ ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب روپے کی کٹوتی
No image رواں مالی سال کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب روپے کی کٹوتی نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں معاشی بوجھ آخر کس کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے؟ سب سے زیادہ کمی صوبوں اور خصوصی علاقوں کے فنڈ میں ہوئی، یعنی وہ رقم جو براہ راست عوامی منصوبوں پر لگتی تھی، وہ پہلے کاٹی گئی۔ حکومت کا موقف ہے کہ امریکا ایران کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال نے مجبور کیا کہ کفایت شعاری اختیار کی جائے۔ یہ بات درست ہے کہ دنیا کا ہر ملک اور ہر خطہ اس ہلچل سے متاثر ہو رہا ہے، تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں، تجارتی راستے متاثر ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کفایت شعاری کی یہ تلوار کس کی گردن پر چلتی ہے؟ عام آدمی کو تو پہلے ہی روٹی روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ مہنگائی نے گھریلو بجٹ تباہ کر دیا ہے، بجلی اور گیس کے بل ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں، اور ترقیاتی فنڈ میں کٹوتی کا مطلب ہے کہ سڑک، اسکول، اسپتال اور پینے کے پانی کے منصوبے مزید التوا میں پڑ جائیں گے، یعنی قربانی دینے والا وہی طبقہ ہے جو پہلے ہی سب سے زیادہ قربانیاں دے چکا ہے۔
دوسری طرف حکمران اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقات کی سہولیات پر نظر ڈالیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ سرکاری گاڑیاں، بنگلے، غیر ملکی دورے، پروٹوکول، سبسڈی یافتہ بجلی اور گیس، یہ سب بدستور جاری ہیں، بس عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کچھ تھوڑی بہت کٹوتی کرنے کی اعلانات کر دیے گئے ہیں۔ ریاستی وسائل سے پورے ہونے والے اشرافیہ کے اخراجات نہ کسی احتساب کی زد میں آتے ہیں، نہ کسی کٹوتی کی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک سرکاری خزانے سے اشرافیہ کے اللے تللے بند نہیں ہوں گے، یہ ملک نہ مستحکم ہو سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتا ہے۔ یکے بعد دیگرے بننے والی حکومتوں کے تمام تر دعوؤں کے باوجود بڑے زمیندار، صنعت کار، کاروباری ادارے، کئی کئی لاکھ پنشن لینے والے ریٹائرڈ جج اور بڑے سرکاری افسران ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے۔ تگڑے محکموں اور اداروں کی مراعات پر کبھی سوال نہیں اٹھتا۔ جاگیرداری ڈھانچے پر کوئی ہاتھ نہیں پڑتا۔ اصل کفایت شعاری وہ ہوتی ہے جو اوپر سے شروع ہو، وزارتوں کے اخراجات، کابینہ کی سہولیات، سرکاری اداروں کے نقصانات، ان سب میں کٹوتی ہو۔ جب حکومت نیچے سے قربانی مانگے اور اوپر کو بچائے تو یہ پالیسی نہیں، نا انصافی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ معاشی فیصلوں میں سماجی انصاف کو بنیاد بنایا جائے اور یہ ثابت کیا جائے کہ پاکستان صرف غریب کو نچوڑنے کی نہیں، اشرافیہ کو جوابدہ بنانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں