دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بوٹس آن دی گراونڈ۔احتشام الحق شامی
No image امریکہ ایک جانب ایران سے صلح کرنا چاہتا ہے تو ودسری جانب زمینی فوجی دستے خلیج کی جانب روانہ کر رہا ہے،اس منافقانہ روہے کااصل مقصد کیا ہے؟آیئے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکہ کا یہ دوہرا رویہ (صلح کی بات کرنا اور فوجی دستے بھیجنا) ایک سوچے سمجھے حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جسے "طاقت کے ذریعے امن" (Peace through Strength) کہا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فروری 2026 کے آخر سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں (جسے "Iran War 2026" کہا جا رہا ہے)۔ ایران نے جواب میں اسٹریٹ آف ہرمز کو اپنے کنٹرول میں کیا ، جو عالمی تیل کی 20فیصد سپلائی کا راستہ ہے، اور یوں خلیجِ فارس میں تناؤ بڑھ گیا۔ اس صورتِ حال میں ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف 15 نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھیج رہی ہے (جس میں ایک ماہ کی سیز فائر، ایران کا نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے اور دیگر شرائط شامل ہیں)، اور دوسری طرف خلیج کی طرف اضافی زمینی فوجی دستے بھیج رہی ہے۔
امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی کا مقصد کیا ہے؟ یہی کہ ایران پر امریکہ فوجی دباؤ بڑھانا تاکہ مذاکرات میں بہتر ڈیل مل سکے۔ امریکہ کے 50,000 سے زائد فوجی پہلے سے خلیج میں موجود ہیں۔ اب 82nd Airborne Division کے 1,000 سے 4,000 پیرا ٹروپرز (تیز ردعمل والے دستے) اور 2,500 میرینز خلیج کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ بظاہر یہ امریکہ فوجی دستے اسٹریٹ آف ہرمز کو محفوظ بنانے، ایرانی ساحل پر محدود آپریشن، یا خارگ آئی لینڈ (جہاں ایران کا 90فیصد تیل برآمد ہوتا ہے) پر ممکنہ قبضے کے لیے تیار رکھے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن "جو بھی ضروری ہو گا کریں گے"۔ فوجی تعیناتی ایران پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے کہ وہ امریکہ کے شرائط (خاص طور پر نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانا) قبول کرے۔ اگر بات نہ بنی تو فوری کارروائی ممکن ہو۔یعنی مزاکرات کے دوران "آپشنز کھلے رکھنا"
: ایران نے اسٹریٹ آف ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ دستے اسے دوبارہ کھلا رکھنے اور خلیجی ممالک (سعودی عرب، UAE وغیرہ) کے تیل کے تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے امریکہ کو بھی نقصان ہو رہا ہے تا کہ تیل کی سپلائی اور اتحادیوں کا تحفظ ممکن ہو۔
ایران نے کہا ہے کہ " امریکہ سےکوئی بات چیت نہیں ہو رہی" اور امریکہ کا منصوبہ "نامناسب" ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک حملے جاری ہیں، مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایران نے پاکستان، ترکی اور عمان جیسے ممالک کو ثالث بنانے کی کوششوں کا حوالہ دیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔
یقینا یہ تضاد امریکہ کی اسٹریٹجی یعنی حکمت عملی ہے۔ امریکہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، مگر اپنی شرائط پر جو ممکن نہیں کیونکہ مقصد خلیج میں آنے والے مزید امریکی فوجی دستے ایران کو کمزور پوزیشن میں لانے اور عالمی تیل کی مانگ کو محفوظ رکھنے کے لیے ہیں۔ تاہم اگر ایران نے 15 نکاتی پلان قبول کر لیا جو ممکن نہیں تو دستے واپس آ سکتے ہیں، ورنہ علاقے میں جنگی تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
واپس کریں