دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران اور عرب ممالک کی سامراج مخالف پالیسی میں فرق۔بادشاہ عادل
No image عرب ،اسرائیل جنگ کے دوران، شاہ فیصل نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف تیل کی پابندی (آئل ایمبارگو) کی قیادت کی تاکہ اسرائیل کی حمایت پر احتجاج کیا جا سکے۔ انہوں نے مشہور طور پر ہنری کسنجر سے کہا:
ہم اور ہمارے آباؤ اجداد کھجور اور دودھ پر زندہ رہے ہیں، اور ہم آسانی سے دوبارہ صحرا میں جا کر رہ سکتے ہیں۔
شاہ فیصل ، قذافی ، ذوالفقار علی بھٹو اور صدام حسین نے Muslim unity کو promote کرنے کے لیے western hegemony کے خلاف اکmuslim alliance بنایا اور پیڑوڈالر کو چیلنج کرنے منصوبہ تیار کیا ۔ 1974 میں لاھور میں Islamic Summit Conference کروائ امریکی سامراج نے سب سے پہلے شاہ فیصل کو اپنے ہی بھتیجے پرنس فیصل بن مساد بن عبدالعزیز السعود سے گولی مروا کر شہید کروایا ، بھٹو کو پھانسی چڑوا دیا گیا اسی طرح قذافی اور صدام حیسن کو داعش اور نیٹو کے زریعے شہید کروایا۔
ایران کے آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی سامراج مخالف strategy مختلف رکھی ، آیت اللہ خمینی نے سب سے پہلے انقلابی جماعت پر کام کیا اک منظم جماعت تیار کی پھر اس جماعت سامراج آلہ کار قیادت رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا خاتمہ کیا انقلاب کے بعد ادارہ جاتی بنیادوں پر institutional strengthening پر کام کیا آج اس لیے ایران کیsystem resilience اور team building کے combination نے دنیا کی ایک بڑی سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہی ہے ایران کا نظام کسی ایک فرد پر نہیں کھڑا ہے بلکہ اداروں کی resilience اور team management کے مرعون منت ہے اس لیے امریکہ کے پہلے حملے میں 80 کے قریب ٹاپ لیڈرشپ شہید ہو گئ امریکہ کو یقین تھا کہ قذافی ، صدام ، شاہ فیصل یا بھٹو کی طرح آیت اللہ خامنائ کو بھی شہید کر ایران میں رجیم چینج کر لیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اس کے بعاد پھر 40 کے قریب second leadership کو بھی شہید کر دیا لیکن ایران نے جھکنے کا نام نہیں لیا بلکہ اس سے بھی اعلی قیادت اوپر آ گئی یہ سب نظریاتی اور اجارہجاتی تربیت کا نتیجہ ہے۔
عرب کے شاہ فیصل ، قذافی ، صدام حسین یا پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو اک شخصی قیادت تھی وہ اپنی ٹیم یا سامراج مخالف جماعت تیار نہ کر سکے لیڈر کو مار دیا گیا اور کہانی ختم ہو گئ لیکن ایران اک ادارہ جاتی ، نظریاتی اور جماعتی بنیادوں پر کھڑا ہے اس لیے آج سامراج کا مقابلہ کر رہا ہے۔
ہمیں بھی ہیروازم کے تصور سے نکل کر جماعت سازی پر believe کرنا پڑے گا موجودہ فرسودہ نظام کے متبادل جماعت پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور اک تربیت یافتہ جماعت ہی پاکستان میں حقیقی تبدیلی لا کر سامراج کی غلامی کے نظام سے پیچھا چھڑا سکتی ہے اور اک آزاد اور خودمختیار ریاست کی بنیاد رکھ سکتی ہے ۔
آج فرسودہ نظام نے عمران خان کو اک ہیرو یعنی شخصیت کے طور پر اٹھایا اپنا کام لیا اور اندر ڈال دیا سارے تبدیلی کے نعرے دھرے رہ گیے کل کسی اور ہیرو بنا کر آگے لے آۓ گا اور ہم اس کے پیچھے دوڑ پڑھیں گے۔
واپس کریں