وہ پاکستان میں ہی موجود ہے اور بڑی گیم کھیل رہا ہے۔طاہر سواتی

آج ہمیں صرف اتنا یاد ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف امریکہ کو اڈے دیے تھے، اسی وجہ سے پاکستان میں خودکش حملے شروع ہوئے اور آج بھی افغان طالبان ہمیں اس کے طعنے دیتے رہتے ہیں۔
لیکن نئی نسل کو نہیں پتہ کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اس جنگ کو ٹالنے کے لیے کتنی کوششیں کی تھیں۔
جنرل محمود نے کابل اور قندھار کے کتنے چکر لگائے،
خود جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس کی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک افغان طالبان کی حمایت سے دستبردار ہونا اور دوسرا کھٹمنڈو میں واجپائی سے ہاتھ ملانا تھا۔
اس وقت سعودی عرب کے وزیر خارجہ شاہ فیصل مرحوم کے بیٹے سعود الفیصل تھے۔
انہوں نے 1975ء سے لیکر اپنی وفات 2015ء تک سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں تھیں ۔
یہ چالیس سالہ عرصہ سعودی عرب کی تاریخ میں کسی وزیر خارجہ کا سب سے لمبا دورانیہ ہے۔ اس سے آپ اس کے تجربے اور قابلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
جب سعود الفیصل ملا عمر سے ملاقات کے لیے قندھار پہنچے تو سب سے پہلے تو ترجمان کی ضرورت پیش آئی کیونکہ ملا عمر کو عربی پر زیادہ دسترس حاصل نہیں تھی۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو شخص امیر المؤمنین بن کر پوری افغان قوم کے فیصلے کر رہا تھا، اس کا علمی معیار کیا تھا۔ جس کو عربی پر دسترس نہ ہو، وہ قرآن پاک کی کتنی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا۔
بہرحال سعود الفیصل نے پیشکش کی کہ شیخ لادن 9/11 کے حملوں میں ملوث ہیں، وہ ہمارے شہری ہیں، آپ اسے ہمارے حوالے کردیں، ہم اس پر اپنی عدالتوں میں مقدمہ چلائیں گے۔
جس پر ملا عمر نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا، ہمیں آپ کے عدالتی نظام پر اعتبار نہیں۔ جس پر سعود الفیصل غصہ ہو گئے کہ آپ ہمارے نظام پر اعتماد نہیں کر رہے جبکہ آپ کا سارا نظام ہمارے مرہون منت ہے۔
خیر اگلے دن جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے تو سعود الفیصل نے شرارت کے موڈ میں کہا کہ کل کے مذاکرات میں تو آپ نے شیخ کی حوالگی پر آمادگی ظاہر کر دی تھی، آج کیوں مکر رہے ہیں؟
یہ سنتے ہی ملا عمر غصے سے آگ بگولا ہو گئے کہ میں نے کب وعدہ کیا؟ پھر اندر گئے، پانی کی ایک بالٹی اٹھائی اور اپنے سر پر ڈال دی۔
جو شخص ایک معمولی بات پر اتنے طیش میں آ رہا تھا، اس کا سیاسی وژن کیا ہوگا۔
اس سے پہلے 9/11 کے فوراً بعد کا واقعہ ہے۔ طالبان رہنماؤں کا ایک وفد قندھار گیا۔ ملا عمر کو سمجھانے کی کوشش کی:
"القاعدہ نے 110 منزلہ ٹوئن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ سخت ردِعمل دے گا۔ ہمیں صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔"
ملا عمر نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
"مجھے یقین نہیں آتا کہ دنیا میں کوئی 110 منزلہ عمارت بھی ہے۔ اسے ہوائی جہاز سے اڑا دینا بھی ممکن ہے؟ یہ سب بکواس ہے۔ بھاڑ میں جاؤ، اور دوبارہ کبھی مجھے اپنی شکلیں مت دکھانا۔"
یہ تھا ان کا وژن۔ پھر پاکستان اور سعودی عرب نے ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ نہ ملا رہا، نہ شیخ رہا، افغانستان کھنڈرات میں بدل گیا۔ اس وقت لوگ یہ بھاشن دیتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں نفاذِ اسلامی نظام سے خطرہ ہے۔
آج وہی نظام نافذ ہے لیکن امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں۔ ان کو جو شیخ اور اس کی تنظیم سے خطرہ تھا، اسے مٹا دیا، اور انہیں طالبان سے لکھوا دیا کہ جو مرضی نظام نافذ کرو، لیکن دنیا بھر میں ہمارے مفادات کو ٹھیس پہنچی تو دوبارہ آئیں گے۔
اور طالبان ایسے سیدھے ہو گئے کہ پڑوس میں اتنی بڑی جنگ لگی ہوئی ہے، امریکہ کے خلاف عملی اقدام تو دور کی بات ہے، کوئی بیان سننے میں آ رہا ہے؟
آج ایرانی ملا بھی اسی زعم میں مبتلا ہیں، تباہی ان کا مقدر ہے۔ بعد میں ان کے پیروکار ساری زندگی پاکستان کو گالیاں دیں گے اور آج پاکستان کی کوششیں کسی کو یاد نہیں ہوں گی۔
تازہ ترین:
امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اپنے بقیہ تخمینہ شدہ 440 کلوگرام اعلیٰ افزودگی والے یورینیم ہیکسافلوورائیڈ کے ذخیرے کو "پیکیکس ماؤنٹین" منتقل کر دیا ہے، جو ایک گرینائٹ میں دفن بنکر ہے اور 80 سے 100 میٹر کی گہرائی میں واقع ہے اور بنکر برسٹر بم برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران کی فوجی کمانڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ 'مکمل فتح تک' لڑتے رہیں گے۔
برطانوی بحریہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے "ہرمز اتحاد" کی قیادت کرے گی اور امریکہ اور فرانس کے ساتھ مل کر بارودی سرنگوں سے صفائی کا کام کرے گی۔
اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق، امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی پر کام کر رہے ہیں، تاکہ اس دوران 15 نکات پر مذاکرات ہوسکیںُ۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔اس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ
ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق ایک ’بہت اہم تحفہ‘ دیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق یہ تحفہ آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیلی حکام سے ملاقات اور ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے پاکستان کے سفر پر روانہ ہو گئے ہیں۔
اور اسرائیل نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات میں ہمارا بھی نمائندہ ہونا چاہیے۔ جس پر پاکستان کے حکام نے وضاحت کی ہے کہ چونکہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے اسرائیل کے کسی نمائندے کو ویزا دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جس پر اسرائیل کی وزارت خارجہ کا موقف سامنے آیا ہے کہ اسے ویزے کی ضرورت نہیں، وہ پاکستان میں ہی موجود ہے اور بڑی گیم کھیل رہا ہے، بس حکومت اس کی پیرول پر رہائی یقینی بنائے۔
واپس کریں