دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران؟ وہ تو شیعہ ملک ہے نا۔فرحان بادشاہ
No image میرے نزدیک ایران کے کردار کو محض اس کے شیعہ تشخص تک محدود کرنا نہ صرف ایک سادہ کاری ہے بلکہ عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی ہے۔ میں ایران کو اُن ریاستوں میں شمار کرتا ہوں جو موجودہ عالمی طاقت کے غیر منصفانہ ڈھانچے کے خلاف ایک واضح اور عملی مزاحمت کی علامت ہیں۔ اس تناظر میں، ایران کا امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا ہونا میرے لیے محض ایک جغرافیائی یا مسلکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ آج کے عالمی نظام میں انصاف اور طاقت کے درمیان ایک گہرا تضاد موجود ہے۔ جب کہیں کھلی جارحیت یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں اور عالمی ادارے یا بڑی طاقتیں خاموشی اختیار کرتی ہیں، تو ایسے میں جو ریاستیں اس خاموشی کو توڑتی ہیں، وہ ایک مختلف اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اسی لیے میں ایران سمیت اُن ممالک کو، جو اس نظام کو چیلنج کرتے ہیں، ایک متبادل سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میرے نزدیک جنوبی امریکا، جنوبی افریقہ، شمالی کوریا، کیوبا، ویتنام، روس اور چین کے ساتھ ساتھ ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ڈٹنا ان کے حق پر ہونے کی بڑی دلیل ہے۔ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کی زمینوں پر قبضے، ایران پر بلاجواز حملے کی واضح مخالفت اچھی ہے یا نسل کشی کرنے والوں کو نوبل پیس انعام دینے کی سفارش کرنا بہتر ہے؟
پاکستان کے تناظر میں بھی، میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی شعور کی عکاسی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور حکومت نے ایران کی حمایت کی ہے، میں شکر گزار ہوں ان رہنماؤں کا جنہوں نے پہلی غلطیوں کو تسلیم کیا یا نہیں مگر ایک اور غلطی نہیں کی اور موجودہ حالات میں ایک اور غلطی سے بچنا اور ایک واضح موقف اختیار کرنا مجھے زیادہ اہم معلوم ہوتا ہے۔
مزید برآں، میری نظر میں دنیا بھر کے نوجوان اس وقت ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ فرقہ واریت، نسلی امتیاز اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر سوچیں، متحد ہو کر اس اپسٹین کی نرسری کے خلاف ہراول دستہ بنیں، تو وہ ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جدوجہد محض جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل علمی مکالمے، منظم احتجاج، اور سیاسی دباؤ کے ذریعے آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
قومی سطح پر، میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت، خصوصاً اس کے ایٹمی پروگرام کو اس کی خودمختاری اور بقا کے لیے ناگزیر سمجھتا ہوں۔ میرے خیال میں موجودہ عالمی حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عسکری طاقت، خاص طور پر قوت مزاحمت، اب بھی عالمی سیاست میں ایک اہم حقیقت ہے۔ اسی تناظر میں، میں شمالی کوریا کی پالیسی کو بھی ایک خاص زاویے سے دیکھتا ہوں، جہاں ریاست نے اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لیے سخت فیصلے کیے۔ ایسا وہ نہ کرتے تو امریکہ اب تک شمالی کوریا کو تہس نہس کر دیتا کیوں کہ عرب ممالک میں تو امریکہ کے صرف 5000 فوجی ہیں مگر صرف جاپان اور جنوبی کوریا میں ہی امریکہ کے 8000 فوجی موجود ہیں۔
آخر میں، میرے لیے یہ بحث محض ریاستوں کی حمایت یا مخالفت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سوال ہے : کیا ہم ایک ایسے عالمی نظام کو قبول کرتے رہیں گے جس میں طاقت ہی حق کا تعین کرتی ہے، یا ہم اس کے خلاف ایک زیادہ منصفانہ اور اصولی موقف اختیار کریں گے؟
واپس کریں