جنگ بندی ، میزائیل حملے جاری، ایران کی 6 سخت شرائط سامنے آگئیں

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کی 78 ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائیاں ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت کی جا رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس نئی لہر کے دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت کئی اہم مقامات پر ملٹی وارہیڈ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔ان کارروائیوں میں عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے، جو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایرانی حکام نے مزید کہا کہ اب تک پاسدارانِ انقلاب کی تمام جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر ان قوتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سخت پیغام بھی دیا گیا ہے۔
ایک فوجی اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ سوشل میڈیا اور بیانات سے توجہ ہٹا کر آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر نظر رکھیں کیونکہ ایران جلد ایک بڑا ’سرپرائز‘ دینے والا ہے جس کے اہم نتائج سامنے آئیں گے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے مسلسل حملے اور بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں، جس کے عالمی سطح پر سکیورٹی اور معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 6 اہم اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں، جنہیں ایک نئے قانونی اور سکیورٹی فریم ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی ممالک اور ثالثوں نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
اہلکار کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے، جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے، جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ممالک یا ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اور سیاسی حلقے ان شرائط کو سنجیدگی سے لینے پر زور دے رہے ہیں۔
ایک اور اہلکار کے مطابق ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت تحمل کے ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب اسے فضائی برتری حاصل ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایران اپنی شرائط کے مطابق کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز
واپس کریں