دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
فیلڈ مارشل کی شیعہ علما سے میٹنگ ۔
No image فیلڈ مارشل کی شیعہ علما سے میٹنگ ۔ ایک عام سی خبر تھی ۔ اس میٹنگ میں جو پیغام دیا گیا اس کے اور بھی طریقے موجود تھے ۔ ان علماء کرام میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کا فون نمبر مقامی تھانے کو معلوم نہ ہو لیکن ریاست نے انہیں اس طرح عزت دی کہ اس کے اعلی ترین عہدے دار وہاں موجود تھے ۔
اس موقع پر علماء کرام کو مرغن کھانا پیش کیا گیا حلوہ بھی یقینی طور پر کسی مائر حلوائی سے پکوا کر دستر خوان پر رکھا گیا ہو گا بادام ملائی کھویا مار کر ۔ کیونکہ علما مہمان ہوں اور میزبان کوئی ہم جیسا عامی ہو یا ریاست ان بنیادی چیزوں کا خیال ضرور رکھا جاتا ہے ۔
پیغام بھی بہت واضح اور دو بدو تھا کہ کسی دوسرے ملک کے بیرونی جھگڑے کو ملک کے اندر نہ گھسیٹا جاے ۔ پاکستان کی ایران بارے جو پالیسی ہے وہ سب دنیا پر واضح ہے ۔ ایرانی متعدد مرتبہ اس کا شکریہ ادا کر چکے ہیں ۔ پاکستان نے برادر اسلامی ملک کے خلاف کوئی اڈہ نہیں دیا نہ کوئی گزر گاہ نہ زمین پر نہ سمندر میں نہ ہوا میں ۔ تو براہ کرم ایسا کچھ مت کر بیٹھیے گا جو ملک کے لیے کسی پریشانی کا سبب بنے ۔یہ بھی اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ اٹھائیس فروری کو ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد پاکستان میں منظم طریقے سے ہنگامے پھوٹ پڑے تھے
کراچی سے لیکر گلگت تک لپیٹ میں آ گئے تھے
جلاو گھیراو میں بہت ساری قیمتی املاک کا نقصان ہوا اور چھبیس قیمتی انسانی جانوں کو بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ان ہنگاموں میں ملاوں کا کردار ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔
کراچی کا ایک نوجوان ملا جو خاصا فیشن ایبل ہے ہم رنگ لباس کی زیب و زینب کا خیال رکھتا ہے داڑھی اور بال مہنگے رنگوں سے ڈیزائن کرواتا ہے ۔ مقتدر حلقوں سے ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ۔ اس نے نوجوانوں کو جلوس میں شامل ہونے کی ترغیب دی ۔ پھر اس کا بیان آیا کہ حکومت نے اگر ایران کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھایا تو تمام سنی اور شیعہ گھروں میں نہیں بیٹھیں گے اور تمام امریکی تنصیبات ہمارا ہدف ہوں گی
۔ ایک دوسرا سیاسی ملا دھرنے میں بیٹھ کر تقریر کرتا رہا کہ ملک کے اندر امریکی اڈوں کا صفایا ہونا چاہیے ۔ گلگت بلتستان میں ایک ملا نے اس حد تک اشتعال انگیزی کی کہ افواج اور حکومت کے سربراہان کو خارج از اسلام قرار دیا اور اس کے پھیلاے گئے شر سے متاثر ہو کر مشتعل نوجوانوں نے نہ صرف قیمتی املاک کو نذر آتش کیا بلکہ چار انسانی جانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔
دوسرے دن یہ ملا معافی مانگتا نظر آیا کہ مجھ سے بے احتیاطی ہو گئی تھی مجھے معاف کر دیا جاے ۔ پاکستان کا ہر صاحب عقل و شعور انسان پچھلے چالیس سالوں سے چیخ رہا ہے کہ یہاں سعودی اور ایرانی پراکسیز بنائی جا رہی ہیں ۔ آج سے بیس سال قبل پاکستان کے ایک اعلی سطح کے ڈپلومیٹ نے مجھے بتایا تھا کہ ایک ایرانی ڈپلومیٹ نے اسے بتایا ہے کہ پاکستان میں ہمارے لوگ اتنے منظم ہو چکے ہیں کہ ہمارے ایک اشارے پر وہ سارے ملک کو جام کر سکتے ہیں
سعودی بھی ایسا ہی سونچتے تھے ۔ لیکن اب ریاست کی پالیسی واضح ہے کہ پاکستان کی سالمیت پر اب کوئی سمجھوتہ کوئی خاموشی نہیں برتی جاے گی۔
اس ملک کے اکثریتی مسلک سے تعلق رکھنے والی ایک جماعت جب ریاست کے لیے چیلنج بنی تو اسے سبق سکھا دیا گیا تھا ۔ یہ دوسروں کے لیے بھی ایک واضح میسج تھا لیکن لگتا ہے شیعہ ملاوں کی سمجھ میں نہیں آیا
انہوں نے اس میٹنگ کے بعد منظم طریقے سے شر پسندی کو ہوا دینے کی کوشش کی جسے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا بھی ڈسکس کر رہا ہے ۔ اسلام آباد کا ایک ملا کہہ رہا ہے کہ دوران ملاقات علما سے مخاطب ہونے کا انداز شائستہ نہیں تھا اور وہ علما کے شایان شان نہیں تھا ۔ پھر یہ بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ اگر تمہیں ایران اتنا ہی پسند ہے تو تم وہاں چلے جاو ۔
ایسی غیر ذمہ دارانہ زبان سوشل میڈیا پر تو استعمال ہو سکتی ہے لیکن کسی اعلی سطح کے سرکاری اجلاس کے دوران ہر گز نہیں ۔
لیکن وہ ملا ہی کیا جو لفظوں سے کھیلنا نہ جانتا ہو
ایک ملا کہہ رہا تھا کہ یہاں سے لاکھوں لوگ فلسطین کے لیے جانیں قربان کرنے کو وہاں جانے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے ۔ اگر تمہیں ڈونلد ٹرنمپ اور نتین یاہو پیارے ہیں تو تم وہاں چلے جاو ۔ یقین جانیے ان میں سے کچھ کو میں جانتا ہوں جو یورپ امریکہ کے ویزے کے لیے سفارشیں اور سپانسرز تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ایران عراق بحرین کویت محرم پڑھنے کی کوشش کرتا ہو ۔ انہیں صرف ڈالر پونڈ اور یورو سے محبت ہے ۔ گرمی کے موسم میں جرمنی ہالینڈ اور بیلجیئم کے مجلسی دئورے پر تشریف لائے ہوے ایک ملا نے مجھے کہا تھا میرا ویزہ اتنا بڑھوا دیجیے کہ کم از کم یہ گرمیاں میں یہاں گزار سکوں ۔
میرے سنی شیعہ بھائیو مکہ مدینہ نجف کربلا مشہد کے مقدس مقامات ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔
ہم سنی ہیں تو مدینے والے نبی ص اور ان کے جانثار صحابہ رض کے شیعہ ہیں تو مولا علی علیہ السلام کے اور نام لیوا ہیں تو کربلا والوں کے ۔ ہم نے اور ہمارے آباو اجداد کو کلمہ ان دین فروش ملاوں نے نہیں پڑھایا تھا ۔
پچھلے چالیس سالوں سے ان ملاوں کو طاقتور بنانے اور ڈھیل دینے کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں ۔ ہمارے وہ اباو اجداد جنہوں نے اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اتفاق و اتحاد سے بہترین وقت گزارا آج ان کی اولایں ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہی ہیں تو کن کی بدولت؟ انہی فرقہ پرست اور شرپسند ملاوں کی بدولت ۔
جنہوں نے ملکی و بین الاقوامی قوتوں کے ایجنٹ بن کر اپنے گھر دولت سے بھر لیے ہماری آنکھوں کے سامنے سائیکلوں بسوں سے اتر کر پراڈووں پر سوار ہوے کچے گھروں کو محلات میں بدل ڈالا اور ہمارے بچے مروا کر ہمارے گھروں کو اجاڑ ڈالا ۔ انہیں اپنا رہبر اپنا رہنما اور اپنا چوہدری نہ بناو ۔ یہ تمہارے گھروں تمہاری مسجدوں اور امام بارگاہوں میں فتنہ و فساد کے بیج بو کر تمہارے بچوں کے منہ س نوالے چھین لینے والا تمہاری محنت اور خون پسینے کی کمائی پر بغیر محنت کے پلنے والا استحصالی طبقہ ہے
۔ اپنا کام دکھا کر اپنا ہاتھ تمہارے سامنے پھیلانے والا طبقہ ہے ۔ جو تمہارے سامنے اپنا ہاتھ پھیلانے والا ہوتا ہے وہ تمہارا معزز رہنما اور تمہارا چوہدری کیسے ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر علی شریعتی نے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر منافقت کی چلتی پھرتی تصویر دیکھنا چاہو تو ان کو دیکھ لو ۔ یہ تمہارے پاس آ کر دین اور خون امام ع بیچ کر اپنا معاوضہ نقد سکہ رائج الوقت میں وصول کرتے ہیں اور تمہیں ادھار پر ٹرخاتے ہیں کہ اس کا ثواب تمہیں تمہاری موت کے بعد تمہاری قبر روشن ہونے کی صورت میں ملے گا
تم اپنے اپنے مذہب مسلک سے جڑے رہو ۔ اللہ اس کے رسول ص صحابہ و اہل بیت سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ان کا روزگار ہے ۔ خدا را اپنے بچوں کو ان کی پہنچ سے دور رکھو ۔ یہ خون فروش طبقہ ہے اور وہ خون پاک امام ع کا ہو یا ہم جیسے گناہ گاروں کا ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر فساد مت پھیلاو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ القرآن ) ۔ Sibte Hassan gillani
واپس کریں