
ڈاکٹرمنظر الحق بھائی ماہر امراضِ دل ہیں،کئی کتب کے مصنف اور فنونِ لطیفہ سے لگاو رکھتے ہیں۔ تعلق کراچی سے ہے لیکن چند برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ اپنی کتب کی رونمائی کے سلسلے میں چند ماہ قبل راولپنڈی تشریف لائے تھے لیکن منظر بھائی سے میری پہلے ملاقات راولپنڈی سے کراچی دوران سفر ہوئی،نہایت نفیس،ہنس مکھ اور دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں، ملنے کے بعد محسوس ہوا جیسے برسوں سے تعلق ہو۔کراچی میں بھی منظر بھائی سے ملاقات ہوئی،میرے پاس خود تشریف لائے ، عزت بخشی اور اپنی تازہ تصانیف بطور تحفہ عنایت کیں۔ لکھتے ہیں اور کیا خوب لکھتے ہیں۔ منظر بھائی اس وقت مکہ مکرمہ میں عمرے کی سعادت کے سلسلے میں موجود ہیں اوروہاں سے”بیدار ڈاٹ کام“ کے لیئے اپنی خصوصی تحریر”غار حرا سے ملاقات“ ارسال کی ہے۔آپ بھی پڑھیں،پڑھتے ہی چلے جائیں گے،گویا جیسے آپ خود مکہ مکرمہ میں موجود ہوں اور غار حرا کی جانب رواں دواں ہوں۔آپ بھی”غار حرا سے ملاقات“ کیجئے۔
غار حرا سے ملاقات۔ ہم ابتدائ دو دنوں میں ،مکہ شریف کی نفلی عبادات سے فارغ ہوئے اور پھر صبح شام، مولا رحمان و رحیم کی عدالت میں کھڑے رہتے۔مکہ مکرمہ کا قیام پورے چار مکمل دن اور ایک آدھا دن تھا۔ہم پچھلی دو دفعہ اس مقدس سرزمین پر جلوہ افروز ہو چکے تھے،پر دینی زیارات کا رخ کرنے سے قاصر رہے اور اس دفعہ ان تاریخی مقامات کو دیکھنے کا مصمم قصد کر بیٹھے تھے۔
ہم روزانہ سرائے خانے سے ابراہیم خلیل اللہ شاہراہ پر ،حرم شریف کی جانب ٹھمک ٹھمک پیدل چلے جاتے۔گو فاصلہ زیادہ نہ تھا،آگے انسانوں کے سمندر حد نگاہ تک نظر آتا اور ہم بھی اس میں شامل ہو کر، حاجیوں کے درمیان تیرنے لگتے۔ہر طرف سے "لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ" کی صدایں بلند ہو رہی ہوتیں اور بدن میں عجب قسم کی سنسی و کپکپی سی دوڑ جاتی اور لزرہ سا طاری ہو جاتا۔اللہ اکبر۔
فرض نمازیں حرم شریف کے احاطہ میں ادا کرتے،پر ماسوائے پہلے دن کے،اندرونی حصے میں قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی،جو صرف عمرہ کرنے والے،احرام میں لپٹے حاجیوں کے لیئے مختص تھا۔ہم کئ سال قبل ہر نماز کعبہ کو اپنی نگاہون میں رکھ کر،فرائض و سنت نمازیں ادا کر چکے تھے،لہذا یہ قدغن دل کو نہ بھائ اور پھر صحن سے نکل کر باہر کھلے آسمان کے نیچے،رحمت الہی کی آمد کے منتظر کھڑے رہتے اور رب العزت اپنے وعدے کے مطابق ،ٹھنڈی ٹھنڈی ہواں پر فرشتے معمور ہوتے،جو حرم شریف کو مشک و عنبر سے معطر کر دیتے۔سارے نمازی اس سحر انگیز ماحول میں گرفتار ہو جاتے،اپنی ذات کو اللہ کی ذات میں کھو دیتے ۔دوران نماز ہم اپنے جوم کو ہلکا محسوس کرتے،شاید رحمان و رحیم مقتدیوں کو فرشتوں کے پروں پر ساتوں آسمانوں اور کائنات کی سیر کراتا۔
اللہ اکبر۔
اس پرسرو و پرنور کیفیت میں سرائے خانہ واپسی ہوتی ،شاہراہ کے دونوں اطراف میں، جوآں و ادھڑ عمر کے گاڑی بان،زیارات کے لیئے اپنی خدمات ارزاں داموں پیش کرتے۔
ہم پہلے ہی برقی جن کے توسط سے،اخراجات کا تخمنیہ لگا چکے تھے اور ایک ادھیڑ عمر شخص سے سودا طے ہو گیا۔اس نے الصبح بعد نماز فجر نکلنے کی درخواست کی،یہ شکر خورے کو شکر پیش کرنے کے مترادف تھا اور ہم نے چھٹ پٹ حامی بھر لی ۔ وہ ہمیں ساری زیارات آدھے دن میں دکھانا چاہتا تھے،جس کے لیئے اس نے دو سو ریال کا مطالبہ کیا تھا،جو کسی صورت خطیر رقم نہ گھی،لہذا فورا زبانی معاہدہ طے ہو گیا۔
الصبح ضروریات زندگی سے فراغت پائ،نئے کپڑے زیب تن کیئے اور نماز الیل خشوع و خضوع سے ادا کی گئ۔ہم سحری اپنے سرائے خانے کے بجائے،قریبی ڈھابے میں کرتے، گرم گرم بل دار پراٹھے ،انڈوں کا خاگینہ اور کڑک میٹھی چائے سے ہماری تواضع کی جاتی۔آذان فجر سے پہلے اپنا مصلی پکڑا، حرم شریف کی جانب چل پڑے اور باہر صحن میں کھلے آسمان کے نیچے،تروتازہ فضاء اور ٹھنڈی ہوا میں، مصلی بچھا کر بیٹھ گئے۔نفلی و سنت نمازیں ہوئیں،دعائیں و مناجاتیں پڑھیں اور یہ سب مولا رحمان و رحیم کے حرم شریف میں ادا ہوئیں،جہاں ہر وقت اس کی رحمت کا سایہ محسوس ہوتا ہے۔موذن کی کھنکار سے آذان کی ابتداء ہوئ،نہایت شیرین پراثر آواز اور اللہ کا بلاوا خلقت کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔لوگ جوق در جوق چلے آرہے تھے،کچھ ہی عرصہ میں سارا صحن اور آس پاس کا علاقہ، انسانوں کا ٹڈی لشکر بن گیا۔نماز مکمل کر کے،حرم شریف سے باہر نکلنے کی کاروائ شروع کی اور دھکم پیل اور داو پیچ لڑانے کے بعد،شاہراہ ابراہیم خلیل اللہ پہنچ گئے۔
برقی باتونی آلے کے استعمال نے ،ڈھونڈنے کا عمل آسان بنا دیا ہے اور چند ساعتوں بعد ہی ، گاڑی بان ہمارے سامنے تھا ۔ گاڑی میں سوار ہوئے،حفاظتی پٹی پیٹ کے گرد کس لی اور اب ہم زیارتیں دیکھنے کے لیئے مشتاق تھے۔
گاڑی چوڑی کشادار شاہراہ پر فرٹے بھر رہی تھی،ہمارے خیالا کی رفتار بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی اور ہم مراقبے میں آج کی چنندہ زیارتوں کی کرامات و اہمیت پر غور و فکر کرنے میں مصروف تھے۔اچانک گاڑی بان کی آواز نے چونکا دیا،ہم غار ثور پہنچ گئے ہیں اور ہم پکے مکانات کے درمیان ،ایک پکی سڑک پر کھڑے تھے۔ہماری شکل متعجب دکھی ہو گی،اس نے فورا تصحیح فرمائ،دراصل آپ کو پہاڑ کی جانب چلنا پڑے گا اور غار ذرا بلندی پر ہے۔ہمیں اس غار کے جائے وقوع پر حیرانگی تھی، ہجرت کا واقعہ اسے کچھ فاصلے پر بتاتا ہے اور یہ پہاڑی مکہ مکرمہ کے اندر واقع تھی۔بہرکیف ہم گاڑی دے اترے،ہمارے گاڑی بان نے ہلنے کی زحمت نہیں گوارہ فرمائ،بس ہاتھ کے اشارے سے سمت کا تعین کر دیا۔ہمیں دنیا بھر میں گھومنے پھرنے کا تجربہ ہے ، سیاحوں کے منتظمین کا رویہ عموما مددگار اور خوش خلقی پر مبنی ہوتا ہے اور اس کا یہ رویہ خاصہ غیر متوقع لگا ۔چند ہی قدم اٹھائے ہوں گے،آگے سڑک پر لال فیتے بندھے ہوئے تھے،وہاں ایک عربی لڑکا متعین تھا اور اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں آگے راستہ مسدود بتایا۔سنگلاخ پہاڑ ہمارے سامنے کھڑا تھا،غار منتظر تھا اور آگے جانے کی اجازت نہ تھی۔سب کئ سیاح جمع ہو چکے تھے، غار کے راستے کو بہتر بنانے کی غرض سے، سارا راستہ بند کر دیا گیا اور دنیا بھر کے سیاح، دلی مرادیں لیئے مایوس لوٹے۔یہ کام کاج کافی دنوں سے چل رہا ہے، یہ آپ کے علم میں ہونا چاہیئے تھا اور ہم نے گاڑی بان کو دوچار کھری کھری سنا دیں۔
اب ہمای گاڑی منا،عرفات اور مذدلفہ کی جانب رواں دواں تھی،جہاں دوران حج تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے،وہاں شاہراہیں سنسنان پڑی تھیں اور حد نگاہ تک کسی ذی روح کا وجود نہ تھا۔ہم جبل الرحمت پر قدم بوسی کے خواہاں تھے،چونکہ حج کی سعادت میں ،دور سے پہاڑ دیکھا،جس پر ہر طرف انسان چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے تھے اور آج ہم اس کے سامنے کھڑے تھے۔جوانوں و بوڑھوں کی ٹولیاں،افریقی و ایشیائ افراد کے جتھے اور الغرض دنیا بھر کے مسلمان اس باببرکت پہاڑی پر موجود تھے۔یہ دو سو میٹر کی اونچائ پر واقع ہے،یہیں حضرت آدم ع و حوا ع کا جنت کے بعد ملاپ ہوا اور یہیں بروز قیامت اللہ رب العزت کا تخت رکھا جائے گا۔ہم پتھروں و سیڑھیوں پر چھلانگیں لگاتے ہوئے،سنگلاخ پہاڑ پر چڑھ گئے اور اوپر سے چاروں سمت نظر دوڑائ،ایک سمت منا،دوسری سمت عرفات اور ایک سمت شہر مکہ۔کچھ دعاوں کا ورد کیا،اللہ کے حضور سارے مسلمانوں کی مغفرت و نجات کی دعائیں مانگیں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ نیچے اترے۔
اب ہماری منزل غار حرا طے ہوئی، ہم گاڑی میں بیٹھے چلے جا رہے تھے اور ذہنی کشمکش میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم گرم ریگستانی دھوپ،پتھریلی زمین اور نامصائب حالات میں، چار پانچ کوس کا فاصلہ کیسے طے کرتے ہوں گے۔ان کی جسمانی ساخت،ہمت و پھرتی کا احساس ہو اور رحمان و رحیم کے حکم پر،نبی ص پر سلام بھیجا۔گاڑی دکانوں کے سامنے رک گئ،ان کے بیچ سے گزرتے ہوئے، پچھلے حصے میں پہنچھے اور اب کتھئی و سرمئ پہاڑ ہمارے سامنے کھڑا تھا۔اس کی اونچائ قریبا ایک ہزار میٹر ہے،راستہ بیشتر مٹی کا تھا اور ساتھ میں پتھریلی سیڑھیاں بنا دی گئ ہیں۔ہم نے نیچے کھڑے ہو کر ،اس پر چڑھنے کی ٹھان لی اور کمر بستہ ہو کر اوپر چل پڑے۔آدھ دن گزرنے کے بعد،گرمی اپنے عروج پر تھی،سائے کا کہیں شائبہ تک نہ تھا اور روزے رمضان میں پہاڑی سر کرنے کا فیصلہ ،یقینا دانشمندانہ نہ تھا۔پر دماغ کی خرابی انسان ہی کا خاصا ہے،ہم حب نبی سے سرشار تھے اور شاید یہ آخری موقع تھا،اس مبارک غار کی زیارت کا۔
گاڑی بان کے قیاس کے مطابق ،پہاڑ کی چوٹی تک چڑھنا اور پھر غار میں اترنا،یہ وقت طلب و دقت آمیز عمل ہے۔ہم پہاڑ کی جڑ میں کھڑے کچھ تذبذب کا شکار تھے، حالت صوم کے دوران چلچلاتی دھوپ میں ،تین چار گھنٹے پہاڑی سفر یقینا دشوار لگا۔پر جب ادھر ادھر نظر دوڑائ،ایمان سے سرشار بچے،بوڑھے اور خواتین جوق در جوق اوپر چوٹی کی جانب جاتے اور پھر نیچے اترتے دکھائ دیئے۔ہم اپنے جذبہ ایمانی کی کمی بیشی پر نادم ہوئے،اللہ رحمان و رحیم کا نام لیا اور پہاڑی پر چڑھنے کا قصد کر لیا۔
شروع میں راستہ ہموار تھا،ایک جانب سیڑھیاں بنی ہوئ تھیں اور ان کے ساتھ ہی اپاہج حضرات کے لیئے، پھسلن جیسی سڑک تھی۔ہم نے پہلے سیڑھیاں استعمال کیں،کچھ ہی دیر میں گھٹنے چوں بول گئے اور پھر پھسلن والی راہ پر چلنے لگے۔راستہ تیزی سے اونچائی کی جانب رواں دواں تھا،ہم ہر بیس تیس قدم لینے کے بعد،رک کر اپنا سانس قابو میں لاتے اور پہاڑ کی چوٹی کی طرف دیکھتے،کتنا فاصلہ باقی ہے،پر چوٹی جوں کی توں اپنی جگہ کھڑی نظر آتی۔سیڑھیوں کے ساتھ لوہے کا جنگلا لگا ہوا تھا،اسے پکڑ کر عمر رسیدہ لوگ اوپر چڑھ رہے تھے اور کبھی کبھار ہم بھی چپکے سے اس جنگلے کا سہارا لے لیتے۔
نو عمر بچے پانی کی بوتلیں بیچ رہے تھے،ہم نے صوم کا بہانا بنایا اور انھوں نے فورا پانے سر اور جسم پر ڈالنے کی ہداہت دی۔اب پانی خریدنا لازم ہو گیا،دو بوتلیں جسم پر انڈیلیں اور بقیہ دو ہاتھ میں پکڑ کر اپنا راستہ ناپا ۔ہمیں چلتے چلتے ابھی صرف آدھ گھنٹہ ہوا ہو گا،نیچے پلٹ کر دیکھا اور دور سڑک پر گاڑیاں، چھوٹی چھوٹی سی دکھائ دیں۔ہم کبھی تصویری عکاسی کا بہانہ کرتے،کبھی سانسوں کی رفتار درست کرتے اور کبھی پانی سے جسم میں تروتازگی پیدا کرتے،الغرض مختلف طریقوں سے کچھ وقفہ ملتا اور پھر اپنے بھاری بھرکم قدم لیئے، چوٹی کا رخ کرتے۔
ہم پہاڑ کی بلندیوں پر رواں دواں تھے،ہمیں جوں جوں اونچائ کا احساس ہو رہا تھا،ہمارے قدموں میں عجب سنسناہٹ محسوس ہو رہی تھی اور دل میں کچھ خوف کی پھریری بھی لگ رہی تھی۔یہ ہنارے لیئے خوئ اچنبھے کی بات نہ تھی،چونکہ ہم اونچائ سے خائف رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر اسی وجہ سے پہاڑی راستوں سے کتراتے ہیں۔یہاں معاملہ ذرا مختلف نوعیت کا تھا،نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی جوانی، اللہ کی تلاش میں سرگرداں رہ کر گذاری اور تخلیئے میں غار حرا میں مراقبے کرتے گزری۔ہم اللہ کے نبی کی سنت پر عمل پیرا ہونے چلے تھے،اس راستے میں جو مصائب و مشکلات آئیں گے،وہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صدقے میں ہیچ ہیں،چونکہ آپ ص ان سنگلاخ چٹانوں پر عزم و ہمت اور استقامت کی سراپا تصویر رہے ہونگے۔ہم اس قدر آسان راستے پر گامزن تھے جب کہ نبی ص پتھریلے راستے پر قدم بوسی فرماتے ہونگے اور یقینا ہاتھ پیر لہولہان ہو جاتے ہونگے ،اللہ اکبر ۔
جن پتھروں پر ہمارے آقا کے قدم پڑے ہونگے،یہ گنہگار بھی اسی راستے پر رواں تھا اور اپنی خوش قسمتی پر شاداں و مسرور تھا۔
اب ہم پہاڑ کے اس حصے میں کھڑے تھے،جس کے دونوں اطراف ڈھلوان تھی اور زمین پتھریلی و ناہموار تھی اور کوئ جنگلہ بھی نہ تھا۔یہ وہ مقام تھا،جہاں سے ہم عموما واپسی کا قصد کر لیتے ہیں،پر آج مولا کی رحمت کو جوش آیا اور دو فرشہ صفت بنگلہ دیشی لڑکوں نے ہمیں دونوں طرف سے سہارا دیا۔ان کی موجودگی نے ہمارا حوصلہ بڑھایا،پرخطر راستہ آسان دکھائ دینے لگا اور ان دونوں کے ساتھ ہم غیر متوازن سیڑھیاں چڑھنے لگے۔جہاں ہمیں پریشان دیکھتے،دونوں لڑکے باری باری ہمارے ہاتھ تھام لیتے اور ہم دوبارہ چوٹی کی جانب رواں ہو جاتے۔گرم ہوا کے زوردار جھکڑ چل رہے تھے،یہ توازن بگاڑنے کے لیئے کافی تھے اور ہم یکایک تن کر کھڑے ہو جاتے،تاکہ جسم ڈانواں ڈول نہ ہو اور ہم کہیں پھسل نہ جائیں۔ہمارا قافلہ آہستہ آہستہ ،پہاڑ کے اوپری حصے کی جانب رواں تھا اور ہر دس بیس قدم بعد سانس کو قابو کرنے کے واسطے آرام ضروری تھا۔ہم نے اپنے محسنوں سے کئ دفعہ التجا کی،بھئ تم دونوں آگے چلے جاو اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو،پر وہ ہمیں چوٹی تک پہنچانے کا قصد کر چکے تھے۔
اب ہم پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ گئے تھے،پر یہ ہماری خام خیالی نکلی ،چونکہ اصل چوٹی پیچھے نظر آئ اور ہماری روح فنا ہو گئ۔سنگلاخ پتھروں نے عجب شکلیں بنا رکھیں تھیں،کوئ ہیبتناک جانور دکھائ دیتا اور کوئ پتھر جن بھوت لگتا۔
بہرکیف ہم دوبارہ کمر بستہ ہوئے،پتھروں پر قدم جما جما کر رکھتے اور جہاں کوئ مشکل درپیش آئ،فورا ہمارے محسن بنگالی بھائیوں نے سہارا دیا۔سارت راستے ہم اپنے پیارے نبی کریم ص کی ثابت قدمی،عزم و ہمت کو سلام پیش کر رہے تھے اور ساتھ ہی ان کی زوجہ محترمہ ،حضرت خدیجہ رح جو تن تنہا اس پہاڑی سے مقابلہ کرتیں اور اپنے خاوند کو کھانا پہنچاتیں،اللہ اکبر محبت کی یہ اعلی مثال تھی۔پتھروں کو کاٹ چھانٹ کر ترتیب سے رکھنے کی کوشش کی گئ تھی،پر وہ ٹیڑھے بڑنگے ،اونچے نیچے اور ناہموار تھے اور ان پر قدم ڈگمگا جاتے۔ہمارے اوسان اونچائ پر ذرا گم ہو جاتے ہیں،پر دو فرشتوں کی کمک سے پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ ہی گئے،الحمداللہ۔
وہاں دس بیس گز سپاٹ جگہ تھی ،جہاں دو چار بانس و گھاس پھونس کے کھوکھے لگے تھے اور ان میں بیشتر پاکستانی لڑکے دکانداری کر رہے تھے۔مصلے،تسبیح، لکڑی کے نوادارات رکھے تھے،جن میں خانہ کعبہ،مسجد نبوی اور دوسری مساجد بنائ گئیں تھیں۔ہم نے آگے بڑھ کر اپنے محسنوں کے لیئے تسبیح خریدیں،پانی کی دو چار بوتلیں لیں اور ایک کونے میں مصلا بچھا کر نوافل نمازیں ادا کیں۔وہاں نماز کی ادائیگی کا مزا ہی الگ تھا،نبی کریم ص کی مولا سے شفاعت طلب کی اور ان پر کثرت سے درود و سلام بھیجا،ساتھ ہی حضرت خدیجہ رح کے درجات کی بلندی کے لیئے دعاگو ہوئے۔آنکھیں پرنم تھیں،پلکوں سے موتی رخسار پر ٹپک رہے تھے اور عجب رقعت کی کیفیت طاری تھی۔
ہم چوٹی پر پہنچ کر خاصے مطمئین ہو گئے تھے،اپنی سانسوں پر بھی قابو پا لیا تھا اور اونچائ کا خوف بھی قدرہی کم ہو چلا تھا۔یکایک ایک دکاندار نے روح فرسا خبر سنائ،جناب غار نیچے ہے اور پہاڑ کی پشت پر دوسری سمت اترنا پڑے گا۔یہ سنتے ہی ہماری جان نکل گئ،ہم نے مزید آگے جانے سے انکار کر دیا،چونکہ سیڑھیاں خاصی عمیق گہرائ کی جانب چکی جا رہی تھیں اور راستہ بھی خاصہ پتلا تھا۔ہمارے محسنوں نے ہمت بڑھائ،ہمیں اپنی مکمل امداد کا یقین دلایا اور ہم نئے عزم کے ساتھ نیچے اترنے لگے۔کبھی قفم پھسلتا، کبھی ہاتھ سنگلاخ چٹان پر پڑتا اور کھال کے چھلنے سے ٹیس سی اٹھتی۔چالیس پچاس گز نیچے اترنے کے بعد،ایک چبوترہ سا دکھائ دیا اور اس میں ہہاڑ کی جانب ایک دراڑ تھی،جس میں لوگ گھس کر غائب ہو رہے تھے۔ہم نے بھی اوکلی میں سر ڈالا،دوسری جانب سے لوگ واپس آ رہے تھے،لہذا مجبورا پسپا ہونا پڑا اور انھیں گزرنے کا راستہ دیا۔اب زوردار آواز لگائی، ہم اندر داخل ہو رہے ہیں اور آپ حضرات انتظار فرمائیں۔پہلے سر ڈال کر معائنہ کیا،آگے پتلا سا پیچیدہ راستہ تھا اور جسم کو رینگتے سانپ کی طرح موڑ توڑ کر، پتھروں کے درمیان سے گزارا۔روشنی کی رمق نظر آ رہی تھی،گو فاصلہ محض دو تین قدم تھا اور جسم کو پینترے بدل کر وہاں سے باہر نمودار ہوئے۔
سامنے بڑی بڑی چٹانیں تھیں،دینی سیاح ہر جگہ چمٹے ہوئے تھے اور بمشکل قدم جمانے کا موقع ملا۔تین اطراف میں چٹانیں سر اٹھائے کھڑی تھیں ،بس ایک سمت خالی تھی اور نیچے پہاڑ کی ڈھلوان چٹانوں کے درمیان نظر آ رہی تھی۔اب ہم غار کی سمت متوجہ ہوئے،دس بیس لوگ دھکم پیل کر رہے تھے اور غار کے دھانے کی سمت پیش قدمی جاری تھی،ان میں کچھ خواتین و بچے بھی شامل تھے۔ایک ننھی منھی بچی، ہماری ٹانگوں کے درمیان سے پھرتی سے نکل کر آگے بڑھی اور غار میں داخل ہو گئ۔ہم خاصے صبر و تحمل سے کھڑے تھے،ہر طرف سے لوگ بے صبری سے لپک رہے تھے اور ہمارا سینہ دباو سے بھنچ رہا تھا۔ہم نے غار کے اندر ایک نظر ڈالی،اندر چار پانچ بزرگ عبادات و مناجات میں مصروف تھے اور اندھیرے پانچ گز کے غار میں بمشکل کچھ دکھائ دے رہا تھا۔ہم نے عافیت پسپائ میں جانی،لہذا وہیں سے واپس پلٹ گئے اور غار کے اندرونی حصے میں داخل نہ ہوئے۔
باہر کے چبوترے پر کھڑے رہے،دونوں محسنوں کے منتظر تھے اور وہ زیارت کر کے،ہشاش بشاش لوٹ آئے۔ان کے چہرے پر اطمینان و تمکنت کے آثار تھے،خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی اور ایسا لگا جیسے بدن میں بجلی سے دوڑ گئ ہو۔ہم نے انھیں مبارکباد دی،وہ خوشی سے نہال تھے اور ان کے پاوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے،بلکہ وہ فضاء میں تیر رہے تھے۔اب ہمارا قافلہ واپس چوٹی کی سمت چل پڑا،ہمارا ہر قدم محتاط تھا اور ہر پتھر کو پرکھ کر، احتیاط سے عبور کیا جا ریا تھا۔خراماں خراماں ہم چوٹی تک پہنچ گئے،وہاں کچھ دیر آرام کیا اور ایک دکاندار کو مصلا خرید کر، وہیں لگانے کی ہدایت دی،تاکہ جو بھی نفلی نمازیں پڑھے،وہ ہمارے والدین کے لیئے صدقہ جاریہ بنے۔
پہاڑی پر چڑھنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے،نیچے اترنا قدرہی آسان تھا اور ہم نے اپنے محسنوں کو بڑی مشکل سے یہ باور کرایا۔ہم سب تیز رفتاری سے نیچے اتر رہے تھے ،کبھی کبھار کسی چٹان کا سہارا لیتے اور پھر چل پڑتے۔دور دراز علاقوں کا حدود اربع دکھائ دے رہا تھا،حد نظر پہاڑی سلسلہ پھیلا ہوا تھا،گو غار حرا کی پہاڑی سب سے بلند تھی اور بقیہ پہاڑ بونے تھے۔ہم جلدی جلدی نیچے اتر رہے تھے،کبھی گھٹنے میں ٹیس سی اٹھتی اور یہ ہمارے ضعف کا احساس دلاتی۔الغرض لڑکتے پھڑکتے نیچے پہنچ گئے،ہمارے گاڑے بان سواکیہ شکل لیئے کھڑے تھے اور ذرا سی خفگی کا اظہار بھی کیا،پر ایک سو اضافی ریال سے، مصنوعی غصہ رفوچکر ہو گیا ۔ہم نے اپنے دونوں محسنوں کو مکہ مکرمہ شہر میں چھوڑا اور اپنے تئیں ان کے بیحد ممنون و مشکور ہوئے۔سرائے خانہ پہنچ کر ،پیاس کی شدت کا احساس ہوا ،پر دھڑام سے بستر پر گرے اور پھر افطار کے قریب آنکھ کھلی۔
واپس کریں