کیا ٹرمپ ایران جنگ سے بھاگ رہے ہیں؟ حیران کن انکشافات سامنے آگئے۔حسنین جمیل

اگر امریکہ کسی جزیرے پر قبضہ بھی کر لے تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے زیادہ دیر تک سنبھال بھی سکے گا، یا پھر یہ ایک نئی طویل کشمکش کی شروعات ہو گی؟امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کے خطاب میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ان کی اور اسرائیل کی جنگ بندی کے دن قریب آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اپنے جنگی اہداف پورے کر لیے ہیں۔ ایرانی مذہبی پیشوا علی خامنہ ای کی ہلاکت، ایرانی بحریہ اور فضائیہ اور میزائل و ڈرون سسٹم کی مکمل تباہی کر چکے ہیں، اور ایرانی سائنسدان جس جوہری توانائی کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ صلاحیت امریکی حملوں کے بعد ختم ہو چکی ہے۔ لہٰذا اب جنگ بندی کے دن قریب ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ میں موجود ٹرمپ کے ناقدین کے مطابق ٹرمپ کی کیفیت “کھسیانی بلی کھمبا نوچے” کے مترادف ہو چکی ہے۔ یورپ سمیت دنیا بھر میں چونکہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جنگی عزائم پر بہت زیادہ تنقید کی جا رہی تھی، اور ٹرمپ و نیتن یاہو یہ سمجھ رہے تھے کہ جس طرح پہلے دن ہی انہوں نے علی خامنہ ای کو ایرانی اعلیٰ قیادت سمیت مار دیا ہے، وہ بہت جلد ایران میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس لیے اب وہ جنگی اہداف میں کامیابی کا ڈھونگ رچا کر اس جنگ سے نکل رہے ہیں۔
دوسری طرف امریکی سوشل میڈیا کی ایک معروف ویب سائٹ پر امریکی دفاعی امور میں ایک بحث چل رہی ہے کہ امریکی صدر ایک آخری جنگی ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی دارالحکومت تہران سے 25 کلومیٹر دور ایک جزیرے پر ایران کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ وہاں امریکی بری فوج کے داخلے کے بعد یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔ چونکہ امریکی ایئر فورس نے شدید ترین بمباری کر دی ہے، اب بری و بحری فوج کے لیے اس جزیرے تک رسائی آسان ہو چکی ہے، جو چند دن میں ہو جائے گی۔
یہ جزیرہ صرف تیل کے بڑے ذخائر کی وجہ سے ہی اہم نہیں بلکہ جغرافیائی نقطہ نظر سے بھی بہت اہم ہے، کیونکہ چین اس جزیرے کے ذخائر سے ہی تیل خریدتا ہے۔
اس نقطہ نظر کی مخالفت میں بھی اس ویب سائٹ پر کچھ دفاعی امور کے ماہرین مخالف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ مان لیا امریکہ اس جزیرے پر قبضہ کر لے گا، مگر امریکی فوج کے لیے زیادہ دیر تک اس جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا، کیونکہ ایران چین اور روس کی پسِ پردہ مدد سے دوبارہ جزیرے پر قبضہ واگزار کرانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔
اس سارے تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطے میں جنگ کے سائے برقرار رہیں گے اور خطے کے پاکستان سمیت پچاس کروڑ کے لگ بھگ عوام کو سکون کا سانس نصیب نہیں ہو گا۔
جہاں دنیا بھر میں یورپ اور امریکہ سمیت ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جنگی جنون کو کڑی تنقید کا سامنا ہے، وہاں ایرانی قیادت کو بھی اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ حماس اور حزب اللہ جیسی شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے ازسرِ نو سوچنا ہو گا۔ حماس کی پہل کی وجہ سے جو غزہ میں اب تک ہو چکا ہے، اور حزب اللہ کی وجہ سے اسرائیل نے اب لبنان میں بھی بمباری شروع کر دی ہے۔ لبنانی حکومت حزب اللہ سے دوری اختیار کر چکی ہے۔
حرفِ آخر: پاکستان کا سعودی عرب سے مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد سعودی حکومت نے ردِعمل دینے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے اپنے معاشی مسائل کے حل کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر سعودی عرب مان گیا اور بدلے میں پاکستان سے ایرانی جارحیت کے جواب میں پاک فوج کی کارروائی کا مطالبہ کر دیا تو اس بدقسمت خطے کے پچاس کروڑ کے قریب انسانوں کی زندگیوں میں سکون کا سانس نصیب نہیں ہو گا۔
واپس کریں