دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ویتنام کی تاریخ دھرائی جانے والی ہے۔احتشام الحق شامی
No image ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگ 20 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔کُل ملا کر ابھی تک جو نتیجہ نکلا ہے اس کے مطابق تن تنہاء ایران ڈٹ کر دشمنان اسلام کا مقابلہ کر رہا ہے اور او آئی سی کے تماش بین لیڈر اپنے محلات،دولت،اقتدار اور اپنی اپنی جانیں بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔کئی تو اپنے آبائی ممالک یعنی امریکہ،یورپ اور برطانیہ فرار ہو چکے ہیں۔
ایران وہ چیونٹی ثابت ہوا ہے جو امریکی ہاتھی کی سونڈھ میں گھس کر اسے بچھاڑ رہا ہے اور دنیا اس کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔
یہ ناچیزپھر عرض کیئے دیتا ہے کہ حق اور باطل کے مابین لڑائی میں دونوں اطراف کا نقصان لازم ہے لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا فریق سامنے آ کر بہادری سے مقابلہ کر رہا ہے اور کون سا فریق مار کھانے اور جوتے کھانے کے بعد درپردہ صلح صفائی کروانے کے لیئے منت ترلے کر رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی دھلائی اور درگت ابھی مذید جاری رہے گی تا آنکہ کہ خلیجی ممالک اور اسرائیل کی عقل مکمل طور پر ٹھکانے پر نہیں آ جاتی۔امریکہ کا واسطہ اس مرتبہ عراق یا وینزویلا سے نہیں بلکہ ایران سے پڑا ہے جو آخری دم تک اپنی لڑائی لڑے گا۔ امریکہ کی ویتنام میں اٹھائی جانے والی شکست، زلالت اور رسوائی ایران میں دھرائی جانے والی ہے اور اس مرتبہ اسرائیل بھی زلت اٹھانے میں امریکہ کے ہمراہ ہو گا۔سٹے ٹیون

واپس کریں