
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یومِ پاکستان کی پریڈ اور اس سے منسلک تمام تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی۔ 23 مارچ سادہ پرچم کشائی کی تقریبات کے ذریعے منایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کفایت شعاری اقدامات کے تناظر میں کیا ہے۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کو کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ انٹیلی جینس بیورو تمام اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی رپورٹ پیش کرے گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا ضروریات کے مطابق مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل نگرانی اور ریکارڈ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی بے قاعدگی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ کابینہ ارکان کی جانب سے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں نہ لینے اور سرکاری محکموں میں تیل کی کٹوتی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جس سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین کو مزید بہتر بنانے کے لیے وزیر پٹرولیم متحرک کردار ادا کریں جبکہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کے لیے تیار رہیں۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ حکومت کفایت شعاری اور بچت پالیسی کے سلسلے میں جو اقدامات کر رہی ہے وہ مردے کے بال کاٹ کر اس کا وزن کم کرنے کے مترادف ہیں۔ حکومتی اشرافیہ کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے پر تو کوئی پابندی نظر نہیں آ رہی لیکن ایسے کاموں پر پابندی لگائی جا رہی ہے جن سے بہت کم فرق پڑنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء ، مشیران اور معاونین میں سے کون ایسا ہے جسے تنخواہ لینے یا نہ لینے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ ان عہدوں پر بیٹھے تمام لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کروڑوں اربوں اور کچھ کے پاس تو کھربوں روپے ہیں، چند لاکھ روپے کی تنخواہ سے ان کا کیا ہونا ہے، اور ویسے بھی ان کے لیے آمدنی اتنی جہتیں موجود ہیں اور ان سے اتنا آمدن حاصل ہوتی ہے کہ تنخواہ تو اس کے مقابلے میں بہت ہی معمولی سی لگتی ہے۔ اب جہاں تک یومِ پاکستان کی پریڈ اور تقریبات کا تعلق ہے تو پریڈ اور اس سے متعلقہ تقریبات کو جوش و خروش سے منعقد کرنا ہمارے قومی تشخص اور وقار کی علامت ہے۔ اسے کفایت شعاری کے نام پر منسوخ کرنا کسی صورت دانش مندانہ اقدام نہیں۔ ویسے بھی پریڈ منسوخ کرنے سے کتنی بچت ہو جائے گی؟ وزیراعظم کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
واپس کریں