دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے منت سماجت، اتحادیوں کا صاف جواب
No image ایران پر امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ تاحال جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ جنگ امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے جس کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے ارکان کی پریس کانفرنسوں اور بیانات میں بھی ہو رہا ہے۔ امریکی صدر کبھی اتحادی ممالک کو طعنے دیتے ہیں، کبھی وہ ان کو جوش دلانے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی وہ انہیں ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امریکا نے ان پر کیا کیا احسانات کیے تھے، لیکن اس سب کے باوجود ابھی تک کوئی ایک بھی ملک امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے چھیڑی گئی اس جنگ میں کودنے پر آمادہ نہیں ہوا۔ امریکا کے اندر بھی حالات یہ ہیں کہ عام آدمی سے لے کر ارکانِ پارلیمان تک ہر کوئی جنگ کے فیصلے سے ناخوش اور غیر مطمئن دکھائی دیتا ہے۔
امریکا کے لیے مزید پریشانی کا باعث یہ بات بھی بن رہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع اس کے دفاعی اڈے اب مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں بغداد میں امریکی سفارتخانے پر بھی حملہ کیا گیا، امریکی دفاعی نظام نے حملہ کرنے والے میزائل یا ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ ڈرون سے کیا گیا یا میزائل مارا گیا۔ اسی طرح، عراقی مزاحمتی تنظیم نے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کردیا۔ روسی ٹی وی کے مطابق، اس حملے میں10 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ وکٹوریہ بیس پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور ابتدائی طور پر 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ ادھر، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی بحریہ ختم ہو گئی، اگر ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو صدر ٹرمپ ہمت دکھائیں، خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں۔ ایک بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ابھی وہ میزائل استعمال ہی نہیں ہوئے جو جون 2025ء کے بعد تیار کیے گئے تھے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے مہر آباد ائیر پورٹ پر حملے میں ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیر استعمال طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تہران میں ہلالِ احمر کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک کلینک اور امدادی مرکز متاثر ہوا اور وہاں طبی سامان تباہ ہو گیا۔ علاوہ ازیں، خمین شہر کے شاہد خمینی بوائز سکول پر امریکا اسرائیل نے حملہ کیا ہے جس سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا لیکن حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملے میں سکول کے آس پاس کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
ادھر، ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد کرنے میں ناکام رہے تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا۔ برطانوی اخبار سے گفتگو اور اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو دیتے انھوں نے کہا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق7 ممالک سے بات چیت کررہے ہیں، ان سے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کا مطالبہ کرتے ہیں، اسرائیل آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ سے طے شدہ ملاقات تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، یہ صرف اسی وقت مناسب لگتی جب آبنائے ہرمز سے مستفید ہونے والے یہ یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ملکوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے مدد کی اپیل کردی۔
اس ضمن میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا نے بھی نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے امریکا کو انکار کر دیا ہے جبکہ یورپی یونین نے بھی آبنائے ہرمز کی طرف آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری بہترین راستہ ہے۔ اس حوالے سے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی صدر کی مدد کی اپیل مسترد کر دی۔ کیئر سٹارمر نے ٹرمپ کو بتایا کہ برطانیہ اس کام کے لیے تیار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیئر سٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان کام نہیں لیکن اسے جلد بحال کرنا ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابلِ عمل منصوبے کی ضرورت ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انھوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آچکے ہیں جبکہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
اسی طرح، جرمن وزیر دفاع بورس پستوریئس نے صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی تعاون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو یورپی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں کیا کر لیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کر سکتی، یہ ہماری جنگ نہیں، نہ ہی ہم نے یہ جنگ شروع کی۔ علاوہ ازیں، جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے ذمہ دار عناصر کے خلاف پابندیوں کی حمایت کی جائے گی۔ نیٹو کا آبنائے ہرمز میں کوئی براہ راست کردار نظر نہیں آتا، امریکا اور اسرائیل کو اپنے اہداف واضح انداز میں بیان کرنے چاہئیں۔ جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ جرمنی لبنان کے لیے 188 ملین یورو کا امدادی پیکیج فراہم کرے گا۔
اسی سلسلے میں ایران کے قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے مسلم ملکوں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ دورانِ مذاکرات ایران کو تباہ کرنے کے لیے جارحیت کی گئی، استثنائی صورتوں کے علاوہ کوئی مسلم ملک ایران کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جس پر افسوس ہے۔ کچھ ملکوں نے اپنی سر زمین پر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر ایران کو دشمن قرار دیا۔ علی لاریجانی نے استفسار کیا کہ آپ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہیں یا ایران اور مزاحمت کاروں کے ساتھ؟ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ ایران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہاتھ باندھے خاموش کھڑا رہے۔ خطے پر تسلط قائم کرنے کے خواہاں نہیں بلکہ امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کا بیرونی جارحیت کے خلاف بھرپور حمایت پر تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے سماجی رابطے کے ذریعے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ان بابرکت اور روحانی دنوں اور گھڑیوں میں ایرانی حکومت پاکستان اور عوامِ پاکستان کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے کہ انھوں نے امریکا اور صہیونی رجیم کی جارحیت کے مقابلے میں عوام اور حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس کے لیے ایران ہرگز ذمہ دار نہیں اور نہ ہی یہ جنگ ایران نے شروع کی۔ امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست نے طاقت کے نشے میں بد مست ہو کر ایران پر حملہ کیا اور پھر اپنی دہشت گردانہ کارروائی کی حمایت کرنے کے لیے دنیا کے ہر طاقتور ملک کے آگے جھولی پھیلا کر مدد مانگنے لگے۔ آبنائے ہرمز کا بند ہونا اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکنا یقینا بہت تکلیف دہ بات ہے اور یہ سلسلہ جلد از جلد رکنا چاہیے لیکن امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست کو لگام ڈالنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ان دونوں کا شیطانی اتحاد مسلم ممالک اور عالمی امن کے لیے مسلسل خطرے کا باعث بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے محض برتری کے زعم میں پوری دنیا کو جنگ و جدل کی جانب دھکیل دیا لیکن ان کے اتحادی اب ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا اب امریکا اور اس کے بغل بچے اسرائیل کا مزید بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں کا عالمی سطح پر محاسبہ کر کے ایک واضح پیغام دیا جائے کہ عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی مذموم کوشش کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں