دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہے نا تماشے والی بات؟؟محمد اظہار الحق
No image اس جنگ میں کئی فریق ہیں۔دو بڑے فریق تو ظاہر ہے وہ دو پارٹیاں ہیں جو جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف ایران ہے جس پر حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ہے اور امریکی حکومت‘ جو حملہ آور ہیں۔ امریکی حکومت اور اسرائیل ایک ہی فریق ہیں۔ یہ ایکتا ایسی حقیقت ہے جس سے اسرائیل انکار کرتا ہے نہ امریکی حکومت۔ بلکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ امریکہ نے کیا ہے اور اسرائیل اس کا معاون ہے یا حملہ اسرائیل نے کیا ہے اور امریکہ اس کی پشتیبانی کر رہا ہے۔ گویا: پا بدستِ دگری‘ دست بدستِ دگری۔ یا انور مسعود صاحب کے بقول: تری باہیں مری باہیں‘ مری باہیں تری باہیں۔ تیسرا فریق اس جنگ میں شرقِ اوسط کی عرب حکومتیں ہیں جو اس جنگ کے دوران بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ حکومتیں امریکہ کی اتحادی ہیں۔ اس اتحاد کی متعدد وجوہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ریاستوں نے تعلیم اور سائنس کی طرف توجہ نہیں دی۔ چونکہ دولت بہت تھی اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ دفاع بھی خریدا جائے۔ دوسری وجہ امریکہ کا سہارا لینے کی وہ پالیسی تھی جو ایران نے انقلاب کے حوالے سے اپنائی۔ یہ ایک جارحانہ پالیسی تھی کہ انقلاب کو بر آمد کیا جائے گا۔ جنرل قاسم سلیمانی نے واضح اعلان کیا تھا کہ انقلاب کو شمالی افریقہ تک لے کر جائیں گے۔ تقریباً تمام ملکوں میں ایران نواز گروہ متحرک اور مسلح کیے گئے۔ اس پالیسی نے عرب ریاستوں کو خوف زدہ کر دیا اور ان کا جھکاؤ امریکہ کی طرف‘ دوسرے لفظوں میں اسرائیل کی طرف ہو گیا۔ ان تمام عرب ریاستوں میں امریکی چوکیاں (Bases) قائم ہیں اور اب یہ چوکیاں ایرانیوں کے نشانے پر ہیں۔ امریکہ کی اپنی اصلی سرزمین ایران کی مار سے دور ہے اس لیے یہ چوکیاں ایران کا فطری نشانہ ہیں۔ ایران کے بجائے کوئی اور ملک بھی ہوتا تو اس صورتحال میں ان چوکیوں کو ضرور نشانہ بناتا۔ چوتھا فریق ان عرب ریاستو ں کے عوام ہیں جو ایران کے طرفدار ہوں یا نہ ہوں‘ اسرائیل کو دشمن سمجھتے ہیں۔ ان عرب عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی حکومتوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی بدولت یہ ایران کے نشانے پر ہیں۔ پانچواں فریق مسلم ملکوں کی حکومتیں ہیں جو امریکہ کو ناراض کر سکتی ہیں نہ عربوں کو! چھٹا فریق مسلم ملکوں کے عوام ہیں جن کی غالب اکثریت ایران کے ساتھ کھڑی ہے سوائے ایک خفیف اقلیت کے جو مسلک کی بنیاد پر ہارڈ لائن اختیار کیے ہوئے ہے۔ ساتواں فریق امریکی عوام ہیں جن کی اکثریت شرقِ اوسط کے زمینی حقائق سے یکسر نابلد ہے۔ ایک اوسط امریکی کا جنرل نالج قابلِ رحم حد تک کمزور ہے۔ اسے اپنے ملک بلکہ اپنی ریاست سے باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم ہی نہیں۔ وہ پانچ دن صبح سے شام تک کام کرتا ہے۔ پہلے اس کی تفریح اخبارات میں دیے ہوئے معمے (کراس پزل) ہوتے تھے اور ٹی وی۔ اب موبائل فون ہے۔ یہ چاہیں نہ چاہیں‘ اپنی حکومت کے ساتھ ہیں۔ بہت کم امریکی شہری مختلف اور جاندار مؤقف اپناتے ہیں۔ آٹھواں فریق اس جنگ میں ایک کروڑ مسلمان تارکینِ وطن ہیں جو امریکہ میں رہ رہے ہیں اور یہ تحریر انہی کے بارے میں ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد کیا ہے؟ اس کا قطعی جواب ناپید ہے اس لیے کہ مردم شماری کے کاغذات میں مذہب کا کالم نہیں ہوتا۔ ایک باخبر‘ مسلمان‘ امریکی سکالر نے بتایا ہے کہ 2009ء میں جب صدر اوباما نے مصر میں تقریر کی تو مسلمانوں کی تعداد نو ملین یعنی نوے لاکھ بتائی تھی۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہ تعداد کروڑ سوا کروڑ ہو گی۔ یہ جو کروڑ سوا کروڑ مسلمان ہیں ان کی بھاری اکثریت تارکینِ وطن پر مشتمل ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کی ہمدردیاں اس جنگ میں امریکی حکومت کے ساتھ ہیں یا غیرجانبدار ہیں۔ بہر طور انہیں اپنے نظریات اور آرا رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اصل مسئلہ ان لاکھوں مسلمانوں کا ہے جو امریکہ میں رہتے ہیں اور اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ نہیں‘ ایران کے ساتھ ہیں۔ یہ سب سے زیادہ قابلِ رحم فریق ہے۔ انہوں نے امریکی شہریت لیتے وقت حلفاً اعلان کیا تھا کہ اس سے پہلے اگر کسی ملک سے وفاداری تھی تو اسے ختم کرتے ہیں۔ اب امریکہ بطور ملک ایران کا دشمن ہے تو یہ تمام تارکینِ وطن بھی آئینی طور پر ایران کے دشمن ہیں۔ امریکہ بطور ملک اور بطور قوم اسرائیل کا حامی ہے تو یہ مسلمان تارکینِ وطن بھی آئینی طور پر اسرائیل کے حامی ہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ یہ کروڑ سوا کروڑ مسلمان اعلان کر دیں کہ امریکہ کی مسلم کش پالیسیوں سے انکار کرتے ہوئے وہ امریکہ چھوڑ رہے ہیں؟ اس بات کا کوئی امکان نہیں۔ ان میں سے کم ہی ایسے ہوں گے جنہوں نے بھوک سے تنگ آکر امریکہ ہجرت کی ہو گی۔ ان کی غالب اکثریت ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے یہاں آئی۔ اپنی پہلی وفاداریوں کو ترک کرنے کی قسم اٹھائی اور امریکی شہریت قبول کی۔ یہ ہجرت‘ یہ شہریت ان کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔ ان کے بہن بھائیوں نے ان کی شہریت کے لیے امریکی حکومت کی خدمت میں درخواستیں ڈالیں۔ پھر ان لوگوں نے دس دس‘ پندرہ پندرہ سال انتظار کیا۔ پھر گرین کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے کئی بار امریکہ آئے۔ پھر واپس گئے۔ پھر آئے یہاں تک کہ مقررہ وقت پورا ہوا اور انہیں امریکی شہریت مل گئی۔ لطیفہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اس دشمن ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے ان مسلمان مردوں اور خواتین نے وظیفے کیے۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں اور منتیں مانگیں۔ پھر جس دن انہیں شہریت ملتی ہے یا پاسپورٹ جاری ہوتا ہے تو وہ دن ان کے لیے عید کے دن سے کم نہیں ہوتا۔ امریکہ کا معیارِ زندگی دنیا کے بلند ترین معیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ بوڑھوں کو ڈھیروں سہولتیں ہیں۔ علاج معالجہ مفت ہے‘ خوراک امریکہ میں آج بھی خوب ارزاں ہے۔ یہ تمام مسلمان اس جنگ میں اسرائیل کی یعنی امریکہ کی شکست کے متمنی بھی ہیں‘ دعائیں بھی کر رہے ہیں اور امریکی معیارِ زندگی کو بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ امریکہ ان کے لیے جنت ہے۔ بے شمار افراد امریکہ میں دینی مدارس چلا رہے ہیں۔ فرض کیجیے امریکی حکومت ان مدارس کو بند کر دیتی ہے تو کیا یہ لوگ اپنے اپنے ملک کو پلٹ جائیں گے؟ نہیں! یہ کچھ بھی کر لیں گے‘ واپس نہیں جائیں گے! یہ دو کشتیوں میں سوار ہیں۔ امریکہ میں رہنا ہے مگر دل جن کے ساتھ ہے انہیں امریکہ تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔
اب ایک اور Paradox ملاحظہ کیجیے۔ پاکستان‘ بھارت اور بنگلہ دیش میں رہنے والے لاکھوں مسلمانوں کے بیٹے اور بیٹیاں امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے اکثریت وہیں بسنے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ لاکھوں والدین ایران کی فتح کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ وفورِ جذبات میں یہ دن میں کئی بار کہتے ہیں ''خدا امریکہ کو تباہ کرے‘‘۔ حالانکہ اسی امریکہ میں ان کے لخت ہائے جگر موجود ہیں اور کم ہی ہیں جو واپس آنا چاہیں گے۔
کیسی عجیب و غریب صورتحال ہے۔ مضحکہ خیز! تضادات سے بھر پور! پچپن مسلم ملک امریکہ کی شکست (یا تباہی) کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں مگر سب مل کر بھی امریکہ کے مقا بلے کا کوئی ملک نہیں بنا سکتے جہاں یہ امریکی شہریت چھوڑنے والوں کو رہنے کی ترغیب دے سکیں!! ہائے غربت! ہائے نا اہلی! ہائے نالائقی!! کیا بے چارگی ہے! کیا محتاجی ہے!! شداد کی جنت ہے مگر ہے تو جنت! کفار نے ایک ملک کو 250سال کی مدت میں ایسی جنت بنا دیا جہاں دنیا بھر سے مسلمان جا رہے ہیں اور جانا چاہتے ہیں۔ ہم مسلمان ڈیڑھ ہزار سال میں ایک ملک بھی ایسا نہ بنا سکے جہاں دنیا بھر سے کفار آکر رہنا چاہیں!! ہے نا تماشے والی بات؟؟
واپس کریں