دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گیس کی قلت اورخدشات
No image سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پٹرولیم نے انکشاف کیاہے کہ 14اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی جبکہ ایل پی جی کے ذخائر بھی صرف ایک ہفتے کے بچے ہیں۔ پاکستان اپنی ضرورت کی 90فیصد سے زائد ایل این جی قطر سے حاصل کرتا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف پٹرولیم مصنوعات بلکہ ایل این جی کی سپلائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس قلت کے اثرات ملکی صنعتوں پر فوری اور براہِ راست ہوں گے۔ سب سے پہلے صنعتی شعبہ متاثر ہو گا‘ اور اگر گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو صنعتی پہیہ جام ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ گیس کی قلت کا نتیجہ صرف صنعتی پیداواری میں کمی کی صورت میں نہیں نکلے گا بلکہ یہ برآمدات میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
حکومت کو موجودہ گیس ذخائر کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کیساتھ ساتھ ایل این جی کے دیگر عالمی برآمد کنندگان جیسے ‘ آسٹریلیا‘ نائیجیریا ‘ ملائیشیا اور روس سے درآمدات کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ علاوہ ازیں صنعتی صارفین اور پاور سیکٹر کیلئے ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مناسب شیڈولنگ اور حکمت عملی اپنائی جائے۔ ملکی معیشت کو کسی بڑے بحران سے بچانے کیلئے یہ وقت عملی اور بروقت فیصلے کرنے کا ہے۔ اگر حکومت نے ایل این جی کی قلت کے اثرات کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ نہ صرف صنعت بلکہ پورے معاشی نظام کیلئے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
واپس کریں