
اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار بھی کر رہی ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک ایسے وقت پر ملاقات کی، جب امریکہ اور اسرائیل اپنے حملوں میں تیزی لا رہے ہیں جبکہ تہران حکومت اسرائیل اور سعودی عرب سمیت متعدد خلیجی ممالک میں امریکی اور شہری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل کی وجہ سے صورتحال کچھ زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے ایکس پر لکھا، ’’وزیر اعظم نے ان مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان کے مطابق شہباز شریف نے ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔
28 فروری کو شروع ہونے والی ایران جنگ میں اسلام آباد خود کو ایک ایسے ”غیر جانبدار‘‘ ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے عرب ممالک کے ساتھ ساتھ ایران سے بھی زیادہ خوشگوار تعلقات ہیں۔
تاہم اس توازن کو برقرار رکھنا آسان نہیں اور اگر جنگ طویل ہوئی، تو پاکستان کو کسی ایک فریق کا ساتھ دینا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کا سفارتی توازن اور دباؤ
گزشتہ مہینوں میں پاکستانی وزیر اعظم اورفوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی رابطے قائم رکھے۔ اسلام آباد نے ٹرمپ کے متنازعہ ”بورڈ آف پیس‘‘ میں بھی شمولیت اختیار کی۔ اس بورڈ کا مقصد مشرق وسطیٰ میں استحکام لانا اور غزہ میں قیام امن کے ساتھ ساتھ تعمیرنو اور بحالی کی نگرانی کرنا ہے۔
14 فروری کو میونخ سکیورٹی کانفرنس کے دوران ڈی ڈبلیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ امریکہ کی حمایت پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔
تو پھر پاکستان امریکہ کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کر رہا؟
مشرق وسطیٰ کے امور کی ماہر فاطمہ امان نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں کہا، ”پاکستان امریکہ کے ساتھ ورکنگ ریلشنز برقرار رکھ سکتا ہے لیکن ساتھ ہی فوجی مہم میں شامل ہونے سے انکار بھی کر سکتا ہے۔‘‘
ان کے مطابق اس جنگ میں شمولیت پاکستان کے لیے بڑے خطرات لا سکتی ہے، جن میں اقتصادی بدحالی، ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
امان نے کہا کہ یہ تمام عوامل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اسلام آباد امریکہ کے ساتھ فوجی سطح پر کتنی قربت اختیار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سفارتی ہمدردی تو ظاہر کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی براہ راست مداخلت کرنے سے بھی گریزاں ہے۔
اس کی وجہ امان نے یہ بتائی کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ اس جنگ کے اثرات اس کی مغربی سرحد پر پھیلیں، داخلی ماحول غیر مستحکم ہو اور توانائی و تجارت کے راستے غیر محفوظ ہو جائیں۔
’پاکستان سیاسی طور پر غیرجانبدار نہیں ہے‘
وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی حکومت کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ”پاکستان نہ تو ایران کی طرف سے خلیجی ممالک پر کیے جانے والے حملوں کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی ایران پر بمباری کی۔‘‘
امان کے مطابق پاکستان کم ازکم سیاسی طور پر ”غیر جانبدار‘‘ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دراصل اسلام آباد نے اسرائیلی حملوں پر تنقید اور ایران کی خودمختاری کی حمایت کی تاہم عملی طور پر پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بننا چاہتا۔
پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کے مطابق، ”سعودی عرب کو جب بھی ضرورت پڑے گی، پاکستان موجود ہو گا۔‘‘ ساتھ ہی وزیر اعظم ایرانی قیادت سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
امان کے مطابق کئی ممکنہ صورتیں پاکستان کو جنگ کے قریب تک دھکیل سکتی ہیں، جیسا کہ اگر سعودی عرب کی سرزمین یا توانائی تنصیبات پر مسلسل حملے ہوئے اور ریاض نے باقاعدہ مدد طلب کی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں یہ شق بھی ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو وہ دونوں کے خلاف حملہ تصور ہو گا۔
امان کے بقول سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ گلف میں سکیورٹی کی صورتحال زیادہ بگڑتی ہے تو ریاض حکومت قدرتی طور پر یہ توقع کرے گی کہ پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہو گا کہ وہ سعودی عرب کو مطمئن بھی رکھے اور ساتھ ہی ایران اور سعودی فوجی تصادم کا حصہ بننے سے بھی بچا رہے۔
ایران جنگ کے اثرات پاکستان پر براہ راست بھی پڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران اور پاکستان کی سرحد پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں، مہاجرین کا دباؤ، انٹیلیجنس آپریشنز یا سرحد پار حملے اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ۔
ٹرمپ کی اسلام آباد سے توقعات کیا ہیں؟
اقوام متحدہ اور امریکہ کے لیے سابق پاکستانی سفیر اور بین الاقوامی امور کی ماہر ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان کی پوزیشن ایرانی موقف کے زیادہ قریب نظر آتی ہے، ”پاکستان نے امریکہ کا نام لیے بغیر ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔ پاکستانی قیادت نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ وزیر اعظم نے نئے سپریم لیڈر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کا پیغام ارسال کیا اوردونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جنگ کے دوران بھی رابطہ کیا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رائے عامہ بھی بڑی حد تک ایران کے حق میں ہے جبکہ گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک، بالخصوص سعودی عرب سے قریبی دفاعی تعلقات کے باعث اسلام آباد ایرانی حملوں کی مذمت بھی کرتا ہے۔
امان کے مطابق ٹرمپ حکومت پاکستان کے رویے پر حیران نہیں ہو گی، ”واشنگٹن کو توقع نہیں ہے کہ پاکستان جنگ میں براہ راست شامل ہو گا۔ زیادہ حقیقت پسندانہ توقع یہ ہے کہ پاکستان اپنے علاقے میں کسی بھی ایران حامی یا امریکہ مخالف سرگرمی کو روکے، ایران کو مدد نہ دے، انٹیلیجنس تعاون برقرار رکھے اور خلیجی جہاز رانی کو محفوظ رکھے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ پھیلی اور سعودی عرب پر براہ راست حملے ہوئے تو امریکہ کی توقعات بدل جائیں گی اور پاکستان پر ریاض کی حمایت کے لیے دباؤ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے، جس سے اسلام آباد کے لیے نیوٹرل پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گی۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں