دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بچت اقدامات کا جائزہ اجلاس، کیا حکومت واقعی سنجیدہ ہے؟
No image ایک طرف حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نام لے کر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ معاملات ہمارے قابو میں نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں یہ اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ دنوں میں جن اہم امور پر بات ہوگی ان میں افراطِ زر ، ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر اثاثہ جات کی بنیاد پر ٹیکس کے نفاذ کی سکیم، کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اور ایف بی آر ریونیو کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ اصل میں ایف بی آر کا ریونیو سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ بتایا جا رہاہے کہ ایف بی آر اپنے نظرثانی شدہ ہدف سے بھی پیچھے ہے اور زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف پاکستان کے سرکاری تجزیہ کاروں کے اخذ کردہ نتائج سے مطمئن نہیں ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ مذکورہ اجلاس کے بارے میں حکومت جو کچھ کہہ رہی ہے اسے سن کر ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے دل میں عام آدمی کے لیے بہت درد ہے، لہٰذا اسے ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی تمام مساعی ان افراد اور گروہوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں جو سرکاری خزانے سے اربوں کھربوں روپے کی مراعات و سہولیات حاصل کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ حکومت اگر تنخواہوں میں کٹوتی کے تلخ فیصلے کی طرف آ ہی رہی ہے تو پھر اسے سب سے پہلے گریڈ سترہ سے لے کر گریڈ بائیس تک کی بیوروکریسی کو دیے جانے والے وہ شاہانہ الاؤنسز ختم کرنے چاہئیں جن کی وجہ سے سرکاری خزانہ دباؤ کا شکار ہے۔ یہاں مثال کے طور پر صرف ایگزیکٹیو الاؤنس کا ذکر کیا جا رہا ہے جو جولائی 2019ء سے عمران خان کی حکومت نے دینا شروع کیا تھا اور وہ موجودہ بنیادی تنخواہ کا ڈیڑھ سو فیصد ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال میں ہر بیوروکریٹ کو اٹھارہ تنخواہیں اضافی ادا کی جاتی ہیں۔
بیوروکریسی کے علاوہ سیاسی اشرافیہ اور تگڑے محکموں اور اداروں کے اللے تللے بھی سرکاری خزانے ہی سے پورے کیے جاتے ہیں اور اس سب کا بوجھ عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ دیکھا جائے تو تنخواہ دار طبقہ سب سے آگے ہے اور اربوں کھربوں روپے کمانے والے کہیں نظر ہی نہیں آتے۔ اگر عوام پر بوجھ ڈالنے کی بات ہو تو حکومت آئی ایم ایف کا ہر مطالبہ من و عن قبول کر لیتی ہے لیکن جب اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بات کی جاتی ہے تو عملی اقدامات صفر ہوتے ہیں۔ اندریں حالات، بچت اقدامات کا ڈھنڈورا پیٹ کر حقیقی مسائل اور مسائل پیدا کرنے والے عناصر سے عوام کی توجہ تو ہٹائی جا سکتی ہے لیکن بہتری کوئی نہیں آسکتی۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وہ بخوبی جانتی ہیں کہ بہتری کن اقدامات سے آسکتی ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں