دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا ہنگامی دورہ سعودی عرب
No image اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بیرونی دنیا سے تعلقات کے حوالے سے پاکستان آج اپنی بہترین سفارتی پالیسی پر گامزن ہے۔ جس کے بیک وقت امریکہ، چین، روس، برطانیہ، یورپی یونین اور خطے کے دوسرے ممالک کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی خوشگوار مراسم استوار ہیں۔ پاکستان اپنی اس پالیسی پر کاربند ہے کہ اس کی سلامتی، آزادی اور خود مختاری پر کسی بھی جانب سے کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ اسی بنیاد پر آج ملک کی سول سیاسی اور عسکری قیادتوں میں مثالی ہم آہنگی کی فضا استوار ہے جو پاکستان کے دفاع کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ اقتصادی استحکام کی ضمانت بھی بن چکی ہے۔ ہماری سلامتی و خود مختاری کے درپے بھارت کو ہماری کوئی بھی کامیابی گوارا نہیں جو پاکستان کے اندر اور باہر سے اس کی سلامتی تاراج کرنے کی سازشوں میں پمہ وقت مصروف رہتا ہے اور اس نے پاکستان اور اس کے دوست ممالک میں غلط فہمیاں پیدا کرنے میں بھی کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بے شک پاکستان کے برادر پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی مثالی تعلقات استوار ہیں جو گیس پائیپ لائن کے مشترکہ منصوبے کے بندھن میں بھی بندھے ہیں اور یہ معاہدہ ایران پر امریکی ایماء پر عائد عالمی پابندیوں کے باوجود طے پایا۔ یقیناً ایران کو بھی اپنی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کے سدباب کے لیئے کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے اور اس مسلمہ حق کی بنیاد پر ہی وہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر مسلط کی گئی جنگ میں اپنے دفاع کے تقاضے نبھا رہا ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ برادر مسلم ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس صورت حال میں برادر مسلم ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا کر کے ان کے اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کا بھی الحادی قوتوں کو نادر موقع ملا جس کے کئی مظاہر اب تک سامنے بھی آچکے ہیں۔ چونکہ ایران کی طرف سے سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس پر مشترکہ دفاع کے معاہدے کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے لیئے دفاعی حصار قائم کرنا لازمی تقاضہ بن گیا اس لیئے پاکستان کی جانب سے ایران کو مشورہ دیا گیا کہ سعودی عرب کیبجانب مزید بمباری سے گریز کیا جائے اور قیام امن کے لیئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسی تناظر برادر سعوی عرب سےمعذرت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آئیندہ سعودی عرب کی سرزمین سے ایران کی جانب کوئی میزائل نہ آیا تو ایران بھی سعودی سرزمین کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ موجودہ صورت حال میں چونکہ بھارت بھی ایران پر مسلط اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جنگ سے فائدہ اٹھاکر پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں غلط فہمیاں کرنے کی سازشوں میں ممکنہ طور پر مصروف ہو سکتا ہے اس لیئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے برادر مسلم ممالک کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک سے بھی سفارتی رابطوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا حالیہ دورہ سعودی عرب بھی یقینناً اسی سلسلہ کی کڑی تھا جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ بیشک علاقائی امن کا قیام ہی آج وقت کی اشد ضرورت ہے جس کے لیئے ایران کے خلاف جاری جنگ رکوانے کے لیئے کاوشیں بروئے کار لانا زیادہ اہم ہے۔ اگر اس جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس سے مسلم دنیا میں نفاق پیدا کرنے کی الحادی قوتوں کی سازشیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ اس حوالے سے احتیاط کا دامن تھامے رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تناظر میں توقع یہی ہے کہ پاک سعودی مشترکہ کاوشیں جنگ بندی اور خطے کے امن کے لیئے بار آور ہوں گی۔ اور مسلم دنیا کو باہم لڑانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔
واپس کریں