دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کا جنگ کے خاتمہ کا عندیہ
No image ایران میں جاری جنگ کے گیارہویں روز بھی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے حملے تاحال جاری ہیں اور ایران ہر حملے کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔ ایران کی جانب سے گذشتہ روز امریکی فوجی اثاثوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملے کیئے گئے جن میں کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی تنصیبات شامل ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے تیل کے بین الاقوامی نرخ بھی خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں، ایشیائی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئی ہیں اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ہی شدید مندا ریکارڈ کیا گیا۔ قطر میں دھماکوں پر عوام کے لیئے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترکیہ نے بھی حفاظتی اقدامات کے تحت شمالی قبرص میں چھ ایف 16 طیارے اور فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل 110 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اس خوفناک صورت حال پر امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل ‘‘پر اپنے پیغام میں کہا کہ تیل کے نرخوں میں یہ تو معمولی اضافہ ہے۔ ان کے بقول تیل کی یہ بڑھتی قیمتیں امریکہ اور دنیا کے امن و سلامتی کے سامنے بہت ہیچ ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ وقتی ہے، ایران کے جوہری خطرے کے خاتمہ کے بعد پٹرولیم نرخ معمول پر آجائیں گے۔ دوسری جانب روس کے صدر پیوٹن نے امریکی صدر کو جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ اب خاتمے کے قریب ہے۔ ان کے بقول ابتدا میں اندازہ لگایا تھا کہ جنگ چار پانچ ہفتے جاری رہے گی، امریکہ اپنے وقت سے کافی آگے چل رہا ہے۔ اب یہ جنگ بڑی حد تک مکمل ہو گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے باہم گٹھ جوڑ کر کیایران پر اس وقت حملہ کیا جب امریکہ ایران امن مذاکرات کا آغاز ہونے والا تھا۔ یہ دونوں لیڈران مذہبی جنگ قرار دے کر ایران پر حملہ آور ہوئے ہیں جس کے پہلے مرحلے میں ہی انہوں باقاعدہ ٹارگٹ کرکے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت کوراستے سے ہٹا دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایران اس ایک ہی حملے کی تاب نہیں لاسکے گا اور سرنڈر کر لے گا تاہم لیڈر شپ کے بغیر بھی ایران نے جس سرعت اور مشّاقی کے ساتھ جوابی کارروائیاں کیں، جو اب تک جاری ہیں، انہوں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو سمیت تمام الحادی قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس منصب پر منتخب ہوتے ہی ایران اسرائیل کے خلاف مزاحمت تیز کر دی اور پوری ایرانی قوم سروں پہ کفن باندھ کر اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس جنگ میں بے شک اب تک تمام فریقین کا کا اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ پوری دنیا اس وقت جنگ کے پیدا کردہ حالات میں اپنی بقاء کے لیئے فکرمند نظر آتی ہے۔ سٹاک مارکیٹیں کریش کر چکی ہیں اور تیل کے بڑھتے نرخوں سے دنیا بھر بالخصوص پسماندہ ایشیائی ممالک میں ناقابل برداشت مہنگائی، اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام اور غربت، بے روزگاری نئے انسانی المیوں کی ہولناک تصویر کشی کر رہی ہے۔ اگر یہ جنگ مزید کچھ عرصہ جاری رہی تو اس کا ایٹمی عالمی جنگ میں تبدیل ہونا بعید از قیاس نہیں۔ آخر دنیا ایسے نقصانات کی کیسے متحمل ہوپائیگی۔ اس تناظر میں دانشمندی کا یہی تقاضہ ہے کہ فریقین ہوش کے ناخن لیں اور تیسری عالمی جنگ کی نوبت نہ آنے دیں ورنہ اس کرہ ارض پر انسانی وجود کا نام و نشان نہیں ریے گا۔
واپس کریں