دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی بساط کا خفیہ کھیل۔سمیع اللہ ملک
No image تاریخ کے اوراق میں بعض حادثات محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ زمانے کی تقدیرکارخ موڑنے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جب زمانہ اپنی سانسیں روک کرکسی بڑے حادثے یاکسی غیرمعمولی تبدیلی کا انتظار کرتامحسوس ہوتاہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جومحض ایک سانحہ نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک نئے موڑکی علامت بن جاتے ہیں۔تاریخ کی کتاب میں بعض ابواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتاہے کہ زمانہ ایک نئے موڑپرکھڑاہے۔
حالیہ بحران بھی اسی قبیل کاایک لرزہ خیزباب ہے جسے ایران کے رہبرِاعلی سیدعلی خامنہ ای کی شہادت اوراس کے بعدپیداہونے والی کشیدگی کے تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پربڑھتاہوادباگویاایک ایسے طوفان کاپیش خیمہ بن گیا جس نے پورے خطے کواضطراب میں مبتلاکردیا۔ گویایہ بحران بھی اسی نوعیت کاایک لمحہ معلوم ہوتاہے، جسے بعض حلقوں نے ایران کے رہبرِاعلیٰ سیدعلی خامنہ ای کے مبینہ قتل اورایران کے خلاف بڑھتی ہوئی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے تناظرمیں دیکھا،اسی نوعیت کاایک لرزہ خیزباب معلوم ہوتاہے۔
ایران کے رہبرِاعلیٰ سیدعلی خامنہ ای کے قتل کی خبراوراس کے بعدایران کے خلاف امریکااور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی نے خطے کوایک ایسے دہانے پر لاکھڑاکیاجہاں سے جنگ کے شعلے پورے عالم کواپنی لپیٹ میں لے سکتے تھے۔حالیہ بحران بھی اسی نوعیت کاایک باب معلوم ہوتاہے۔ سیدعلی خامنہ ای کی شہادت کے بعدجو سیاسی وعسکری ہلچل پیداہوئی اس نے مشرقِ وسطیٰ کے افق پرخطرے کے سیاہ بادل جمع کردئیے۔اس واقعے نے خطے کوایسی آتش فشانی کیفیت کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے جس کی تپش شایدآنے والی نسلیں بھی محسوس کریں۔
یہ واقعہ محض ایک شخص کی شہادت نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی بھونچال کی علامت تھاجس نے خطے کی تزویراتی بساط کوہلاکر رکھ دیا۔سیاسی افق پرپھیلی ہوئی یہ غیریقینی کیفیت محض حادثاتی نہیں لگتی،اس کے پس منظرمیں ایک ایساشطرنجی منصوبہ کارفرما دکھائی دیتاہے جس کامقصدایران کے دفاعی حصار کو اندرسے کمزورکرنا تھا۔ اس سانحے کے بعدپیدا ہونے والی غیریقینی فضاکسی اچانک حادثے کانتیجہ نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک ایسے پیچیدہ منصوبے کی جھلک پیش کرتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی حصارکواندر سے کمزورکرناتھا۔
اس کے بعدپیداہونے والی بے یقینی دراصل ایک ایسے منصوبے کی ابتدامعلوم ہوتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی نظام کواندرسے کمزور کرنا اور اسے سیاسی وعسکری انتشارمیں مبتلاکرناتھا ۔ امریکا اوراسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف بڑھتاہوادبااس حقیقت کا پتہ دیتاہے کہ خطے میں طاقت کی بساط پرایک نئی بازی کھیلی جارہی تھی۔اس واقعے کے بعد پیداہونے والی بے یقینی محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسے منصوبے کی ابتدادکھائی دیتی ہے جس کامقصد ایران کے دفاعی حصارکو اندرسیکمز ورکرنا اوراسے سیاسی انتشار میں مبتلا کرناتھا۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ عالمی سیاست کے پردوں کے پیچھے ایک ایسی بساط بچھائی جاچکی تھی جس پرمہرے آہستہ آہستہ اپنی جگہ سنبھال رہے تھے۔اس حقیقت کی جھلک اس بیان میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو روسی صدرولادی میرپیوٹن نے کچھ عرصہ قبل عالمی برادری کے سامنے پیش کیاتھاایک ایسابیان جس کی گونج سفارتی ایوانوں میں دورتک سنائی دی۔
اس منظرنامے کے پس منظرمیں روسی صدرکاوہ انتباہ خاص اہمیت اختیارکرجاتاہے جوانہوں نے عالمی برادری کے سامنے واضح طور پربڑی صراحت سے پیش کیاتھاکہ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھردہشتگردی کی نرسری بنتی جارہی ہے جہاں افغان سرزمین کوایک بار پھر خطرناک عسکری کھیل کا میدان بنائے جانے کا امکان ہے۔ان کے بقول وہاں پچیس ہزار سے زائدتربیت یافتہ جنگجو جمع کئے جا رہے ہیں،جن میں بڑی تعداد اسلامک اسٹیٹ-صوبہ خراسان کے عسکریت پسندوں کی ہے،جو شام اورعراق کے میدانوں میں خون آشام تجربات سے گزرچکے ہیں۔
اس پس منظرمیں روسی صدرکاوہ انتباہ غیر معمولی اہمیت اختیارکرجاتاہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جمع ہونے والی شدت پسند قوتوں کی طرف دنیاکی توجہ مبذول کرواتے ہوئے خبردارکیا تھاکہ افغانستان کوایک بارپھربڑی طاقتوں کے تصادم کامیدان بنایا جا رہا تھا ۔پیوٹن کے الفاظ گویاایک نئے گریٹ گیم کی دستک تھیوہ کھیل جس میں طاقتیں مہرے بدلتی ہیں مگرہدف وہی رہتا ہے۔پیوٹن کے اس بیان کوکئی مبصرین نے ایک ایسے نئے عالمی کھیل کی جھلک قراردیاجس میں افغانستان کوایک بارپھر بڑی طاقتوں کے تصادم کا میدان بنانے کی تیاری ہورہی تھی۔
پیوٹن کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہردوڑادی کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا تھاکہ افغانستان کوایک بارپھرعالمی طاقتوں کی کشمکش کامیدان بنایاجارہاہے۔خطے کی جغرافیائی سیاست کوازسرِنوترتیب دینا۔اس تناظرمیں ایران کوکمزورکرنااورپاکستان کو دبائو میں لاناایک وسیع ترحکمتِ عملی کاحصہ دکھائی دیتاہے۔
اس عالمی شطرنج کے کھیل میں ایک اوراہم موڑاس وقت آیاجب ایران پردبا کے بڑھتے ہوئے بادلوں کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کااسرائیل کادورہ سامنے آیا۔یہ داستان اس وقت مزیدمعنی اورسنسنی خیزرخ اختیار کرتی ہے جب ایران پردباکے بڑھتے بادلوں سے محض دودن قبل مودی کااسرائیل میں غیرمعمولی استقبال سامنے آتاہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ان کی تقریراور وہاں ہونے والی ملاقاتوں کوبعض دفاعی حلقوں نے محض سفارتی سرگرمی قراردینے سے انکارکیا۔ان کے مطابق اس دورے میں خطے کی وسیع تر تزویراتی صورت حال پرتفصیلی مشاورت ہوئی جس میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پربھی بات چیت ہوئی۔
اسرائیلی پارلیمان میں ان کی تقریرنے سفارتی فضامیں ایسی سرگوشیاں جنم دیں جنہیں بعض دفاعی مبصرین محض رسمی آداب نہیں سمجھتے۔دفاعی جریدوں اورخفیہ رپورٹوں کے مطابق اس دورے میں آپریشنل کو آرڈینیشن کے خدوخال زیرِ بحث آئے۔ مبصرین کاخیال ہے کہ اس حکمتِ عملی کے تحت افغانستان کوایک ایسے مرکزمیں ڈھالنے کی کوشش کی گئی جہاں سے ایران کے خلاف دبابڑھایاجا سکے۔اس کھیل میں اقتصادی مفادات،سی پیک جیسے منصوبوں کونقصان پہنچانے کی خواہش اورعلاقائی اثرورسوخ کی کشمکش سب ایک دوسرے میں پیوست نظرآتے ہیں۔
اس منظرنامے میں امریکا،اسرائیل اور بھارت کے درمیان ایک ایسی ہم آہنگی کی جھلک دکھائی دی جس کامقصدخطے میں اپنے سیاسی وعسکری مفادات کو مستحکم کرناتھا۔اس تناظر میں یہ تاثرپیدا ہواکہ امریکا، اسرائیل اوربھارت کے درمیان ایک ایسا تعاون فروغ پارہاہے جس کامقصد خطے میں اپنے سیاسی اورعسکری مفادات ک مضبوط بناناہے۔ان حلقوں کے مطابق امریکا،اسرائیل اوربھارت کے درمیان ایسی حکمتِ عملی زیرِغورتھی جس کے تحت افغانستان کوایک ایسے مرکز میں تبدیل کیاجائے جہاں سے ایران کے خلاف دباؤ بڑھایا جاسکے۔اس منصوبے میں اقتصادی مفادات،خطے میں اثرورسوخ کی جنگ اور چین کے تعاون سے بننے والے منصوبوں خصوصاسی پیک کوکمزورکرنے کی کوششیں بھی شامل سمجھی جاتی ہیں۔
عالمی سیاست کی تاریخ اس امرکی شاہدہے کہ جب بڑی طاقتیں کسی ریاست میں تبدیلیِ حکومت کاارادہ کرتی ہیں تووہ عموماداخلی شورش کوہوادیتی ہیں۔تاریخ کے اوراق پرنگاہ دوڑائی جائے توایک تلخ حقیقت باربارسامنے آتی ہے:جب بڑی طاقتیں کسی ملک میں رجیم چینجکاارادہ کرتی ہیں تووہ میدان میں ایسی قوتیں تلاش کرتی ہیں جواندرونی خونریزی کے ذریعے ریاستی ڈھانچے کوکمزور کرسکیں۔
(جاری ہے )
واپس کریں