دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یہ سارے رانگ نمبر ہیں ۔طاہر سواتی
No image آیت اللہ خامنہ ای کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ یعنی سپریم لیڈر بنا دیا گیا ہے، جو انتہائی سخت گیر اور مغرب مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
جنوری 2026 میں بلومبرگ نے ان کی بیرون ملک جائیدادوں کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے خفیہ طور پر بیرون ملک جائیدادوں اور سرمایہ کاری کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 3 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے۔
صرف لندن میں ان کی 11 کے قریب لگژری جائیدادوں کی قیمت 138 ملین ڈالر (100 ملین پاؤنڈ سے زائد) بتائی گئی ہے۔ اسی طرح جرمنی (فرینکفرٹ) اور اسپین (میورکا) میں مہنگے ہوٹل اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ دبئی کے پرتعیش علاقے (جسے دبئی کا بیورلی ہلز کہا جاتا ہے) میں ایک شاہانہ ولا موجود ہے۔ اس کے علاوہ، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، لیختنسٹین اور متحدہ عرب امارات کے بینکوں میں خفیہ اکاؤنٹس کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
یہ اثاثے براہِ راست مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر نہیں ہیں بلکہ مختلف شیل کمپنیوں اور کاروباری شخصیات (جیسے علی انصاری) کے ذریعے خفیہ رکھے گئے ہیں۔
آیت اللہ کے پیروکار ان کی حمایت میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پاکستانی حکمران، جرنیل اور عرب بادشاہ اور شہزادے بھی تو مغرب اور امریکہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ جی ہاں، بالکل ہیں،
لیکن دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ پاکستان میں نوسرباز کے علاوہ کسی سویلین یا فوجی حکمران نے کبھی امریکی نظام کے خلاف سستے نعرے نہیں لگائے۔
عرب بادشاہ بھی مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ خلیجی ممالک کے تیل کی دولت پر صرف ان کے بادشاہ نہیں بلکہ عام شہری بھی عیاشی کررہے ہیں۔
قطر کے عام شہری کا بچہ جس ملک میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، حکومت سارا خرچہ برداشت کرتی ہے۔ ہمارے ایک سابق باس کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوا، حکومت نے اسے مفت علاج کے لیے امریکہ بھجوا دیا۔ جب تک وہ زندہ رہا، نہ صرف اس کا مفت علاج ہوتا رہا بلکہ اسے تنخواہ بھی ملتی رہی۔
دوسری جانب، تیل و گیس سے مالا مال ایران کے لوگ غربت کی چکی پیس رہے ہیں اور جن مولویوں نے ان کو مغرب کی دشمنی کے نام پر غلام بنا رکھا ہے، وہ خود وہاں اربوں کی جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے سیاسی فائدے کے لیے مغرب سے ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
ٹکراؤ یا مزاحمت تب کی جاتی ہے جب تمام پرامن راستے بند ہو جائیں۔
"مرگ بہٗ امریکہ “ کا نعرہ لگانے والے خمینی پندرہ سال فرانس میں پناہ گزین رہاُ۔ اسی امریکہ سے ڈیل کے بعد تہران میں اقتدار پر قابض ہوا۔
آج اسی امریکہ نے اس کے سخت گیر لیڈر اور نیشنل سیکیورٹی کونسلٗ کے سربراہ علی ریجانی کی بیٹی کو رہائش اور روزگار کی اجازت دی ہے۔
جس بن لادن نے پورے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، اسی کا بیٹا فرانس اور برطانیہ میں رہائش پذیر ہے۔
مصر کی اخوان المسلمین امریکہ کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے۔ اخوان سے تعلق رکھنے والے سخت گیر صدر مرسی کو اسی امریکہ نے اسکالرشپ دی تھی۔ انہوں نے 1982ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے میٹریل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور 1982ء سے 1985ء تک کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی، نارتھریج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر پڑھایا۔
مولانا مودودی ساری زندگی مغرب اور امریکہ کے خلاف لکھتے رہے۔
ان کا مشہور قول تھا کہ
“ ایک وقت آئے گا جب سرمایہ دارانہ نظام واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا۔" سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا تو معلوم نہیں ۔
لیکن مولانا مودودی کی اولاد گزشتہ کئی عشروں سے اسی امریکہ میں آباد ہے اور تاحیات رہے گی۔
ان کا بڑا بیٹا ڈاکٹر احمد فاروق مودودی تو مولانا مودودی کی زندگی میں ہی 1970ء میں امریکہ آباد ہو گئے تھے اور مولانا انہی کے کہنے پر 1979ء میں اپنے علاج کے لیے امریکہ تشریف لے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ دوسرا بیٹا سید حسین فاروق 1986ء سے اپنی اہلیہ ڈاکٹر فرزانہ فاطمہ قدیر اور بچوں کے ہمراہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں آباد ہیں۔
"امریکہ مردہ باد" کی ریلیاں نکالنے والے قاضی حسین احمد کے بیٹے آصف لقمان قاضی امریکہ میں پڑھ چکے ہیں۔ اسی طرح لیاقت بلوچ کے بیٹے سلمان احمد بلوچ نے حال ہی میں امریکہ سے ڈگری حاصل کی ہے۔
الغرض، جس امریکہ اور مغرب نے اپنے سخت مخالفین کی اولادوں کے لیے اپنی آغوش نہیں بند کیے، اسے عام مسلمانوں سے کیا مسئلہ ہے؟ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہوں، ایرانی ملا ہوں یا افغانستان کے قابض جاہل، "امریکہ مردہ باد" کے نعرے لگا کر عام سادہ لوح عوام کو بیوقوف بناتے آ رہے ہیں۔
اور آخر اس ٹکراؤ کی پالیسی سے ملا کیا ،
پاکستان امریکی غلامی میں رہ کر ایٹمی طاقت بن گیا ۔ یہ زومبیز امریکی مردہ باد کے نعرے لگاکر اپنے ملک و قوم تو تباہ و برباد کرگئے ۔
جسے یہ "تہذیبوں کا ٹکراؤ" کہتے ہیں ،
دراصل یہ ان کے ذاتی مفاد کے ٹکراؤ کا معاملہ ہے۔
یہ سارے رانگ نمبر ہیں ۔
اورٗ ابسالوٹلی ناٹ والاُ نوسرباز ان میں سب سے پہلے نمبر پے ہے ۔
واپس کریں