دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خلیج جنگ : تازہ ترین صورت حال ۔طاہر سواتی
No image سپریم لیڈر کا انتخاب:ایران کی فارس نیوز ایجنسی (IRGC سے منسلک) کے مطابق، مجلس خبرگان نے آیت اللہ خامنہُای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ مطلب مورثی بادشاہت کے خلاف جو نظام آیا تھا اب وہ خود موروثیت کا شکار ہوگیا ۔
یہ اعلان تاخیر کا شکار رہا، جس کی وجہ علی لاریجانی کی جانب سے مخالفت بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ علی لاریجانی اپنے بھائی، صادق لاریجانی کو سپریم لیڈر بنانا چاہتے تھے۔ علی لاریجانی کی موجودہ صدر سے بھی کشیدگی چل رہی ہے، کیونکہ انہیں گزشتہ صدارتی انتخابات میں اس خدشے کے باعث حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا کہ ان کی جیت سے لاریجانی خاندان بہت زیادہ طاقتور ہو جائے گا۔
نیا سپریم لیڈر:
مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت زخمی ہیں اور ان کا علاج نامعلوم مقام پر جاری ہے۔ ٹرمپ اور اسرائیل پہلے ہی نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔
اسرائیلی کارروائیاں:
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دفترِ سپریم لیڈر (دفترِ نظامی) کے نئے سربراہ اور قرارگاه مرکزی خاتم‌الانبیاء کے چیف آف اسٹاف، ابوالقاسم بابائیان کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نیا سپریم لیڈر اس صورت حال میں اپنے دفتر سے نظام چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
مزید برآں، اسرائیل نے بیروت میں ایک حملے میں IRGC القدس فورس کی لبنان کور کے 5 سینئر کمانڈروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ایرانی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹرز کو تباہ کر دیا ہے۔
1970 کے بعد تیل کا سب سے بڑا بحران :
اسرائیل نے تہران میں تیل کے 30 ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، جس سے آگ بھڑک اٹھی ہے اور فضا میں تیل کی بارش کا سماں ہے، جس سے عام لوگوں کو سانس اور پھیپھڑوں کی تکالیف ہونے کا خطرہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے اس اقدام پر برہم ہے۔
جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل انڈسٹری زون اور بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے تیل کی قیمتوں میں راتوں رات 30 فیصد اضافہ ہوا اور خام تیل کی قیمت 115 ڈالرز تک جاپہنچی ۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، یہ '1970 کی دہائی کے بعد توانائی کا سب سے شدید بحران' ہے۔
دیگر پیش رفت:
امریکہ اور اسرائیل مبینہ طور پر ایران میں اسپیشل فورسز بھیجنے کا پروگرام بنا رہے ہیں تاکہ وہاں انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سعودی عرب میں الخرج میں ایک کمپنی پر فوجی پروجیکٹائل گرنے سے ایک ہندوستانی اور ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک جبکہ 12 بنگلہ دیشی کارکن زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے صدر کی ہمسایہ ممالک پر حملوں سے گریز کرنے کی اپیل پر کوئی عمل نہیں کیا، اور ان کی تقریر کے دوران اور بعد میں بے بنیاد بہانوں پر حملے جاری رہے۔
جنگ کی مدت اور بین الاقوامی ردعمل:
ایران نے کہا ہے کہ جنگ چھ ماہ تک طویل ہو سکتی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ مزید طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ نو ماہ تک جنگ طول دینے کے لیے تیار ہیں جب تک مڈٹرمٗ انتخابات کا انعقاد نہ ہو ۔
امریکہ نے سفارتی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ کی شدت مزید بڑھ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز:
ادھر فرانسیسی صدر نے ایرانی صدر کو ٹیلی فون کرکے آبنائے ہرمز کھولنے کی اپیل کی ہے۔
اس وقت آبنائے ہرمز سے وہ ممالک زیادہ پریشان ہیں جو ابھی تک جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے اور غیر جانبدار ہیں، جن میں یورپ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک شامل ہیں۔ اس کی بندش سے امریکہ مخالف روس کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ چین کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
امریکہ نے اپنا تیسرا بڑا بحری بیڑا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے روانہ کر دیا ہے، لیکن اس سے پہلے وہ دیگر ممالک کو اس بحران کا مزہ چکھانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران عراق جنگ میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جسے 'ٹینکر وار' کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد امریکی بحریہ نے آپریشن ارنسٹ وِل شروع کرکے جہاز رانی کو محفوظ بنایا تھا۔
واپس کریں