دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرانسپورٹ کرایوں اور مہنگائی میں مزید اضافہ
No image پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں بیس سے چالیس فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ریلوے کے کرایوں میں بھی تقریباً اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک میں پہلے ہی مہنگائی کا طوفان برپا تھا، اب اس میں مزید شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یکمشت فی لیٹر 55 روپے کا اچانک اور بلا جواز اضافہ عوام کے جذبات کو مشتعل کر رہا ہے۔ اس فیصلے کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومت کے اتحادی بھی مسترد کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات میں اس ہوشربا اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی عیاشیاں ختم کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جبکہ جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ماہِ مقدس میں قیمتوں میں اضافے سے عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائیں گی۔ عالمی سطح پر کشیدگی کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ضرور موجود تھا مگر حکومت کی جانب سے جس انداز میں قیمتیں بڑھائی گئی ہیں اسے عوام دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ اگر پیشگی منصوبہ بندی نہ کی جاتی تو پٹرول کی قیمت 375 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی۔ سات روز قبل ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پندرہ دن کے لیے اضافہ کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ملک میں 28 روز کے پٹرولیم ذخائر موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پٹرول پہلے سے خریدا گیا تھا اور عالمی مارکیٹ میں جس قیمت پر خریدا گیا، عوام کو بھی اسی حساب سے فراہم کیا جا رہا تھا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک 55 روپے کا اضافہ کیوں کیا گیا کیونکہ عالمی مارکیٹ میں مہنگا ہونے والا پٹرول تو ابھی پاکستان پہنچنا شروع بھی نہیں ہوا۔ حکومتی سطح پر عام طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ پہلے سے موجود اسٹاک پر بھی زیادہ منافع کمایا جائے۔ اس قسم کا ناجائز منافع عموماً ذخیرہ اندوز اور موقع پرست عناصر حاصل کرتے ہیں۔ ادھر، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بچت کے لیے مؤثر لائحہ عمل بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ کیا گیا ہے وہ تو عوام سے ریلیف چھیننے کے مترادف ہے۔ حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام کے لیے تنگ آمد، بجنگ آمد کی صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صرف بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے حکومت حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے۔
واپس کریں