دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران بمقابلہ امریکہ اسرائیل۔فاتح کون؟
No image حالیہ امریکہ ایران جنگ میں ابھی تک کون جیت رہا ہے؟ابھی تک امریکہ اور اسرائیل کی فوجی مہم غالب ہے، لیکن جنگ جاری ہے اور کوئی حتمی فاتح نہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگی کارروائی جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی (اب تقریباً 10 دن گزر چکے ہیں)۔ آپریشن کا نام امریکہ کی طرف سے ''Epic Fury'' اور اسرائیل کی طرف سے ''Roaring Lion'' ہے اور مشترکہ مقصدایران کے میزائل پروگرام، نیوکلیئر صلاحیتوں، فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا، سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کرنا اور رجیم چینج لانا تھا۔
پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ 6 ماہ تک لڑ سکتے ہیں، مطلب صاف ہے کہ ایران ''ہتھیار نہیں ڈالے گا''
ایران کی جوابی حکمت عملی (Retaliatory Strategy) کی تفصیل 10ویں دن تک۔ ایران نے بجائے تیز، وسیع اور طویل مدتی جوابی حکمت عملی اپنائی۔ مقصد دشمن یعنی امریکہ اور اسرائیل کو بھاری ایرانی دفاعی طاقت دکھانا، علاقائی عدم استحکام پیدا کرنا، تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت کو متاثر کرنا اور مذاکرات یا حملوں کی روک تھام کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔مذکورہ ایرانی دفاعی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ ایرانی حکام فارن منسٹر عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ''امریکہ اور اسرائیل کو حتمی طور پر شکست دی جائے گی۔ انہوں نے مذید کہا کہ ہم نے امریکہ کی افغانستان اور عراق میں شکستوں کا 20 سال مطالعہ کیا ہے اور اس کے سبق اپنائے ہیں۔
موزیک ڈیفنس۔اسلامی انقلابی گارڈ کور نے پہلے 72 گھنٹوں میں ہی ''آخری حربے'' والے طریقے اپنا لیے۔
ملک بھر میں چھوٹی چھوٹی فوجی ''سیلز'' آزادانہ کام کر رہی ہیں۔ یہ فورس پہلے سے دی گئی عام ہدایات پر عمل کرتی ہے، اسے مرکزی کمانڈ کی ضرورت نہیں۔
موبائل لانچرز جو سول ٹرکوں کی طرح نظر آتے ہیں، استعمال کر کے چھوٹے فاصلے کے بیلسٹک میزائل اور سستے ڈرون لانچ کیے جاتے ہیں۔
یہ حکمت عملی قیادت کی ہلاکت کے باوجود لڑائی جاری رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔28 فروری سے اب تک 400 سے 500+ بیلسٹک میزائل اور 1,000 سے 2,000+ ڈرون داغے جا چکے (امریکہ اسرائیل کے دعوے اور علاقائی حکومتوں کے مطابق)۔
امریکہ کے فوجی بیس بحرین، قطر، UAE، کویت، اردن اور سعودی عرب میں امریکی ریڈاروں کو نقصان پہنچا۔ 14 سے زائد امریکہ فوجی بیس نشانہ بنے۔
خلیجی ممالک میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سعودی عرب کی آئل ریفائنری، ہوٹلز، شہری علاقے اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سمندری راستہ ہرمز آبنائے بند اور معروف جنگی امریکہ بحری بیڑے ابراہم لنکن سمیت امریکہ جہازوں پر کامیاب ڈرون حملے کیئے گئے۔
ایران کی یہ جنگی حکمت عملی اب بھی کامیابی سے جاری ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا ''unconditional surrender'' کا مطالبہ اور ایران کا ''نہیں جھکیں گے'' کا جواب دیکھتے ہوئے حالات میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
جنگوں میں دونوں اطراف کا نقصان تو یقینی ہوتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا کمزور فریق فرنٹ فٹ پر آ کر لڑائی کر رہا ہے اور کون سا سپر پاور فریق صلح صفائی کے لیئے کوششیں۔اس بات کا فیصلہ آپ خود کریں۔
احتشام الحق شامی
واپس کریں