پٹرولیم نرخوں میں ہوشربا اضافہ! حکومت کے لیئے عوام پر پٹرول بم گرانا مہنگا پڑ سکتا ہے

حکومت نے جمعۃ المبارک کو رات گئے پٹرول بم گرا کر عوام کے عملاً زندہ درگور ہونے کا اہتمام کردیا۔ گذشتہ شب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں فی لٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کیا۔ حکومت کی جانب سے رواں ماہ یکم مارچ کو بھی پٹرولیم نرخوں میں پانچ روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس طرح حکومت کی جانب سے ایک ہفتے کے اندر اندر پٹرولیم نرخوں میں ساٹھ روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جو پہلے ہی اقتصادی بوجھ تلے دبے عوام کی قوتِ برداشت ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جاری امریکہ، اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی مشکلات کے تناظر میں یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاہم پٹرولیم نرخوں میں اس ہوش ربا اضافے کا بادی النظر میں اس وقت کوئی جواز نہیں کہ وزارت پٹرولیم کے اپنے اعلان کے مطابق ہمارے پاس 30 مارچ تک پٹرول کا سٹاک موجود ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں متعلقہ وفاقی وزراء کے اعلان کے مطابق نئے پٹرولیم نرخوں کا فوری طور پر اطلاق بھی کر دیا گیا ہے جس کے تحت اب پٹرول کے نئے نرخ 321 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر ہوئے ہیں جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لٹر ہوگی۔ وفاقی وزراء نے یہ اعلان بھی کیا کہ حکومت اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ہفتہ وار بنیادوں پر کیا کرے گی۔ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دنیا میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 50 سے 70 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران پر حملے سے پٹرولیم نرخوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس بنیاد پر وزیراعظم شہباز شریف نے میری سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی۔ یہ کمیٹی پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی اور قیمتوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ اسحاق ڈار کے بقول کوشش کی گئی ہے کہ عوام پر کم از کم بوجھ ڈالا جائے۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ہم آج غیر معمولی حالات سے گذر رہے ہیں۔ ہمیں مجبوراً قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ جیسے ہی صورت حال بہتر ہوگی پٹرولیم نرخ واپس اپنی سطح پر لے آئیں گے۔ ہم ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پٹرول کی فروخت روک کر منافع خوری کی، ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ان کی درجنوں بار ٹیلیفونک بات چیت ہوئی ہے۔ کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کی جائے۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اوربگ زیب کا کہنا تھا کہ اس وقت معیشت کے استحکام سے متعلق ہم اچھی پوزیشن میں ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کا درامدات اور برامدات پر کیا اثر پڑے گا۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اگلے دو روز میں ہم چاروں وزراء اعلیٰ سے ملاقات کریں گے، چیف سیکرٹریوں سے بھی ملاقات ہوگی اور آئیندہ کے لائحہ عمل کے لیئے ہم مل کر منصوبہ بندی کریں گے۔ اسحاق ڈار کے بقول ہم جنگ بندی قرارداد بھی تیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان سے عالمی قیمتوں کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافہ کرتے رہنے اور سبسڈی نہ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے مابین اس وقت ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم نرخوں میں فوری اضافے کا تقاضہ کیا گیا اور جون تک پٹرول اور ڈیزل ڈویلپمنٹ لیوی کا 1468 ارب روپے کا ہدف پورا کرنے کا بھی کہا گیا۔ اسی تناظر میں حکومت پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اتنے بھاری اضافے پر مجبور ہوئی ہے۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجہ میں جہاں متعلقہ ممالک کو بھاری انسانی جانی نقصان کا سامنا ہے وہیں دنیا کی معیشتیں بھی برباد ہو رہی ہیں، سٹاک مارکیٹیں کریش کر چکی ہیں، تیل کی پیداوار اور سپلائی رک گئی ہے، انسانی آبادیوں میں غربت، بے چارگی اور پسماندگی سرعت کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قلت بھوک کی شکل میں ایک نئے انسانی المیئے کو جنم دے رہی ہے۔ ان انسانی المیوں کا یقیناً پوری دنیا کو سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی تناظر میں پاکستان سمیت بعض ممالک جنگ رکوانے کی سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں اور اپنی اپنی معیشتوں کو بھاری نقصانات سے بچانے کی منصوبہ بندی بھی ہو رہی ہے تاہم ہمارے عالی دماغ منصوبہ سازوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے جن کی تان ہر قسم کا اقتصادی بوجھ راندہ درگاہ عوام پر ڈالنے پر ہی ٹوٹتی ہے۔ جنگ کے پیدا کردہ موجودہ سنگین حالات تو اس امر کے متقاضی ہیں کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافے کی مجبوری کو عام آدمی سے زیادہ ان مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ طبقات کی جانب منتقل کیا جائے جن کی تجوریاں بھری ہوئی ہیں اور وہ حکومتی پالیسی کے تحت بھاری تنخواہوں کے علاوہ مختلف الاؤنسز کے ساتھ ساتھ مفت بجلی اور پٹرول کی سہولتوں سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ ہنگامی حالات میں تو سب سے پہلے سرکاری خزانے سے مفت پٹرول اور بجلی کی فراہمی کی سہولت ختم کی جانی چاہیئے اور اشرافیہ طبقات کی دوسری مراعات پر بھی کٹ لگانی چاہیئے۔ اگر آئی ایم ایف کے کہنے پر پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کی جاسکتی ہے، جس سے عام آدمی ہی متاثر ہوتا ہے تو موجودہ ہنگامی حالات میں حکمران اشرافیہ طبقات کے قومی خزانے پر اللے تللوں کو کیوں ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اس حقیقت سے تو بہر صورت چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ پٹرولیم نرخوں میں آئے روز کے اضافے سے ہی ملک میں مہنگائی کے سونامی اٹھتے ہیں اور منافع خور مافیاز کو بھی اپنی مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانے نرخ بڑھانے کا موقع ملتا ہے جن پر حکومتی انتظامی مشینری کا کوئی چیک نہیں ہوتا چنانچہ اب بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں بھاری اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے سمیت ہر چیز کے نرخوں میں کس انتہاء کا اضافہ ہوگا۔ عوام کے لیئے تو مہنگائی پہلے ہی ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور وہ عملاً ایڑیاں رگڑتے ہوئے زندگی بسر کررہے ہیں جنکے وسائل اور ذرائع آمدن انتہائی محدود ہوتے ہیں۔ انہیں ناروا ٹیکسوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے اور وسائل کی کمی بھی ان کے آڑے آتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں تو عام آدمی کا عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گذارنا بھی عملاً ناممکن ہو جائے گا اور وہ یا تو عاجز آکر خو دکشی کا راستہ اختیار کریں گے یا قبیح جرائم کی زندگی میں داخل ہو جائیں گے۔ اسی طرح جب انہیں زندگی گذارنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا تو وہ مضطرب ہوکر احتجاج کے ذریعے سٹریٹ پاور کو بروئے کار لانے کے راستے پر بھی چل سکتے ہیں اور حکومتی گورننس کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پٹرولیم نرخوں میں یکایک بھاری اضافہ کرنا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں کہلا سکتا۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ حکومت پٹرولیم نرخوں کے حوالے سے اپنے فیصلے پر فی الفور نظر ثانی کرکے اس سے رجوع کر لے اور مرے کو مارے شاہمدار کی تصویر بنے عوام کو تنگ آمد بجنگ آمد کا راستہ نہ دکھائے۔