دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان میں جاری حالیہ دہشت گردی ، وجوہات اور حل
No image پاکستان میں حالیہ دہشت گردی (خاص طور پر 2025۔2026 میں) کی بنیادی وجوہات متعدد ہیں، جن میں علاقائی، تاریخی، سیاسی اور معاشی عوامل شامل ہیں۔ یہ کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ 2021 کے بعد افغان طالبان کی حکومت قائم ہونے کے نتیجے میں شدت اختیار کرنے والا رجحان ہے۔حالیہ صورتحال اور اعداد و شمار2025 پاکستان کے لیے 2011 کے بعد سب سے خونریز سال تھا۔ دہشت گرد حملوں میں 34فیصد اضافہ اور ہلاکتوں میں 21فیصد اضافہ ہوا۔ صرف پہلے تین چھ ماہ میں 900 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں (جنوری۔فروری) میں بھی حملے جاری ہیں، جیسے کہ6 فروری 2026 کو اسلام آباد میں شیعہ امام بارگاہ پر خودکش دھماکہ ہوا جس میں (31سے زائد شہادتیں ہوئیں جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی)۔
17 فروری 2026: باجوڑ میں فوجی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ (11 فوجی + 1 بچہ شہید ہوا، حملہ آور افغان شہری تھا۔بلوچستان میں بی ایل اےکی جانب سے جنوری 2026 کے آخر میں 12 ہم وقتہ حمل ہوئے (فوجی تنصیبات، بینک اور پولیس اسٹیشنز)۔
یہ حملے خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور وفاقی دارلحکومت اسلام آباد تک پھیلے ہوئے ہیں جن کا براہ راست ذمہ دار گروہ تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی ہیں جنہیں 2021 میں افغان طالبان کی کابل پر قبضے کے بعد محفوظ پناہ گاہیں، ہتھیار اور لاجسٹک سپورٹ ملی۔ ٹی ٹی پی لیڈرز افغانستان میں بیٹھے ہیں اور پاکستان میں حملوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔
ٹی ٹی پی نے 2014۔2018 کی پاکستانی فوجی آپریشنز (ضرب عضب وغیرہ) کے بعد کمزور ہوا تھا، لیکن نئی قیادت (مفتی نور ولی محسود) نے تنظیم کو دوبارہ منظم اور شریعت نافذ کرنے کا دعویٰ کیا۔
پاکستان نے فروری 2026 میں افغانستان میں TTP کیمپوں پر فضائی حملے کیے، جس سے دونوں ملکوں میں تناؤ بڑھ گیا۔
بلوچ علیحدگی پسند گروہ دہشت گرد (BLA، BLF، BRAS وغیرہ) 2025 میں ان کے حملوں میں تیزی آئی (جیسے مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ٹرین ہائی جیکنگ جس میں 450 یرغمال اور درجنوں شہید ہوئے)
وجوہات اور 1948 سے جاری تاریخی شکایات ۔ وسائل (گیس، معدنیات) کی لوٹ، ترقی کی عدم موجودگی، جبری گمشدگیاں، اور فوجی آپریشنز۔ CPEC پروجیکٹس کو "چینی پاکستانی قبضہ" سمجھا جاتا ہے، جس سے مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
دہشت گردوں کی نئی حکمت عملی۔ خودکش بمبار (عورتوں سمیت)، بڑے پیمانے پر ہم وقتہ حملے، اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا۔ نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کی بھرتی بڑھ رہی ہے۔
اسلامک اسٹیٹ خراسان۔ فرقہ وارانہ حملے (شیعہ امام بارگاہ، ریلیاں)۔ یہ گروہ ٹی ٹی پی اور بلوچ گروہوں سے الگ ہے لیکن افراتفری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران (مہنگائی، بے روزگاری)، اور سابقہ فاٹا علاقوں میں گورنرنس کا کمزور ہونا۔ یہ بھرتی آسان بناتے ہیں۔
ریاست اورKP، بلوچستان کے درمیان اعتماد کا فقدان۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فوجی آپریشنز دہشت گرد مارتے ہیں مگر جڑیں حل نہیں کرتے۔
سرکاری اور مختلف تحقیقاتی رپورٹس میں بیرونی ہاتھ( بھارتی اور اسرائیلی)،فنڈز اور ہتھیاروں کی سپلائی کا ذکر ہے، پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کو روکے، ورنہ پاکستان اپنا دفاع کرے گا (جیسے حالیہ فضائی حملے)۔
سیکورٹی فورسز نے 2025 میں سینکڑوں دہشت گرد ہلاک کیے، مگر حملے رک نہیں رہے۔نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ دہشت گردی فوجی کارروائیوں سے صرف عارضی طور پر کنٹرول ہو سکتی ہے۔ مستقل حل کے لیے سیاسی مکالمہ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ترقی، سرحد پر سخت کنٹرول، اور افغانستان کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کا مکمل حل صرف طاقت سے ممکن نہیں۔
واپس کریں