
پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے جبکہ زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں‘ گزشتہ تین سال کے دوران 84 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قرضوں پر مبنی معیشت کا سدھار اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ بیرونی قرضوں پر آٹھ فیصد تک شرح سے سود ادا کیا جا رہا اور سود کی ادائیگی کا حجم‘ جو تین سال قبل تک ایک ارب 91 کروڑ ڈالر تھا‘ اب بڑھ کر تین ارب 59 کروڑ ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13 ارب 32 کروڑ ارب ڈالر ادا کئے گئے جس میں سے نو ارب 73 کروڑ ڈالر اصل قرض کی واپسی جبکہ ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد سود کی مد میں تھے۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے گئے تھے‘ جو وفاقی حکومت کے کُل اخراجات کا تقریباً 47 فیصد بنتے ہیں‘ یعنی حکومت کا تقریباً آدھا بجٹ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونے کے بجائے عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ معیشت کی بنیادوں کے سدھار پر توجہ مرکوز کی جائے۔ برآمدات بڑھانے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ عام آدمی پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے اشرافیہ اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ اگر اب بھی معاشی استحکام کو اولیت نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل قرضوں اور سود کی ادائیگی کی نذر ہو کر رہ جائے گا۔
بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں