دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آئی ایم ایف کا ہماری معیشت مضبوط ہونے کا خوش آئیند بیان اور زمینی حقائق
No image بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونی کیشنز جیولی کوزیک نے کہا ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستانی معیشت کو استحکام ملا ہے، اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے۔ انہوں نے سرپلس اہداف حاصل ہونے کی بھی تصدیق کی۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گی جہاں پاکستانی حکام سے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر بات چیت ہوگی۔جیولی کوزیک کے مطابق مالی سال 2025ء میں پاکستان کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالی سرپلس حاصل ہوا، جبکہ 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے بقول یہ تمام اہداف پروگرام کے مطابق ہیں اور ملک میں مجموعی مہنگائی بھی قابو میں رہی ہے۔ گورننس اور بدعنوانی سے متعلق حالیہ رپورٹ میں ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت بڑھانے جیسی اصلاحات کی تجاویز بھی شامل ہیں۔آئی ایم ایف کی اس رپورٹ پر حکومت کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقے اسے اپنے معاشی دعوؤں کی توثیق قرار دے رہے ہیں ۔وزیراعظم اور وزیر خزانہ سمیت متعلقہ وزراء اور مشیرانِ کرام مسلسل یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت ’’ٹیک آف‘‘ کر چکی ہے۔ ترسیلاتِ زر میں اضافے کو بھی معاشی استحکام کا اہم سبب بتایا جا رہا ہے۔ کئی روز کی مندی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بھی سامنے آیا۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں تاریخی زرمبادلہ کی آمد اور کم قیمت حصص کی خریداری کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری دن نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 999 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 172,170 پوائنٹس سے بڑھ کر 173,169 پوائنٹس پر بند ہوا۔اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ اگر معیشت واقعی مضبوط ہو چکی ہے تو اس کے ثمرات عام آدمی تک کب پہنچیں گے؟ اشرافیہ کی مراعات میں اضافے اور مالیاتی اشاریوں میں بہتری سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ معاشی جہاز فضا میں بلند ہو چکا ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ اس کی تصدیق خود سرکاری ادارہ شماریات کے اعداد و شمار بھی کرتے ہیں۔رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی میں 1.16 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سالانہ بنیاد پر شرح 4.26 فیصد سے بڑھ کر 5.19 فیصد ہو گئی۔ اس عرصے میں 17 اشیائے ضروریہ مہنگی جبکہ 12 سستی ہوئیں۔ انڈے 11.78 فیصد، آلو 2.24 فیصد، چینی 0.96 فیصد، دال مسور 1.47 فیصد اور دال چنا 0.58 فیصد سستی ہوئی۔ ۔دوسری جانب چکن 6.34 فیصد، ٹماٹر 3.82 فیصد، لہسن 5.86 فیصد، پیاز 3.83 فیصد، مٹن 0.69 فیصد، بیف 1.03 فیصد، پٹرول 1.93 فیصد، ڈیزل 2.69 فیصد، ایل پی جی 0.75 فیصد اور کیلے 16.05 فیصد مہنگے ہوئے۔یہ اعداد و شمار ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔نچلے اور متوسط طبقے کے لیے مہنگائی کا دباؤ اب بھی برقرار ہے۔ معاشی استحکام اگر صرف گراف اور انڈیکس تک محدود رہے اور روزمرہ زندگی میں آسانی نہ لا سکے تو اس کی افادیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔معیشت کی اصل مضبوطی تب ہی معنی رکھتی ہے جب اس کا اثر بازار کی قیمتوں، روزگار کے مواقع اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں بہتری کی صورت میں نمایاں ہو۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں