دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کنن- پوشپورہ المناک سانحہ: انصاف اور حقِ خود ارادیت کا تقاضا۔
No image سردار ساجد محمود ۔23/24 فروری 1991ء کی رات ضلع کپواڑہ کے جڑواں گاؤں کنن اور پوش پورہ میں پیش آنے والا مبینہ اجتماعی آبرو ریزی کا سانحہ آج بھی جنوبی ایشیا کے انسانی حقوق کے منظرنامے پر ایک گہرا سوالیہ نشان اور بھارتی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرزم پر سیاہ دھبہ تصور کیا جاتا ہے۔ مقامی خواتین کی گواہیوں، سول سوسائٹی کی کاوشوں اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس نے اس واقعے کو نہ صرف ایک فوجداری جرم بلکہ ایسی کاروائیوں کے طور پر اجاگر کیا جس میں عسکری کارروائیوں کے دوران جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین کی داد رسی، شفاف تحقیقات اور مکمل جوابدہی کا مطالبہ اپنی جگہ برقرار ہے۔
Amnesty International
نے 1990ء کی دہائی سے کشمیر میں سیکیورٹی آپریشنز کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کنن پوش پورہ کے سانحہ کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ جنسی تشدد کے واقعہ کی فوری، مؤثر اور شفاف تفتیش ریاستی ذمہ داری ہے، اور متاثرین کو تحفظ، قانونی معاونت اور بحالی کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ اسی طرح Human Rights Watch نے اپنی رپورٹس میں اس امر پر زور دیا کہ بھارت کو جنسی تشدد کے زریعہ شہری آبادی کو خوف زدہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ رپورٹوں کے مطابق استثنائی کالے قوانین احتساب اور انصاف کی راہ میں حائل ہیں۔
مزید برآں، Office of the United Nations High Commissioner for Human Rights نے کشمیر سے متعلق جائزہ رپورٹس میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں باالخصوص جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھر پور مزمت کی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج اس واقعہ کی تردید کرتی رہی ہیں اور سرکاری مؤقف کے مطابق تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔ تاہم المناک سانحہ کی ابتدائی رپورٹ جو لوکل مجسٹریٹ ایس ۔ ایم یاسین اور کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ چیف جسٹس بہاالدین صدیقی نے متاثرین کے بارے راست انٹرویو کیے اور وقوعہ کی تصدیق کی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایس ایم یاسین کو وقوعہ کی رپورٹ تبدیل کرنے کے لیے بائیس سال بعد بھی ڈرانے دھمکانے اور رشوت کی پیشکش کی جاتی رہی تاہم انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ اور حقائق سے انحراف سے انکار کیا۔ ایس ایم یاسین کی طرف سےاسٹیٹ کمیشنر وجاہت حبیب اللہ کو لکھے گئے مکتوب میں یہ کہنا کہ بھارتی فوجیوں نے خواتین کے ساتھ بھیڑیوں سے بھی بد تر سلوک کیا جسکی تفصیلات ضبط تحریر میں لاتے ہوئے انہیں شرم محسوس ہوتی ہے، سے سانحہ کی شدت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کے عالمی ادارے مسلسل اس بات پر اصرار کرتے آئے ہیں کہ شفافیت، آزادانہ نگرانی اور متاثرین کے اعتماد کی بحالی کے لیے انصاف اور غیر جانبدارانہ مکمل احتساب ناگزیر ہے۔ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے.
جنسی تشدد کو اگر کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بین الاقوامی قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار کی صریحاً نفی ہے۔ ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ واضح قواعدِ کار، تربیت، نگرانی کے خودمختار نظام اور مؤثر عدالتی عمل کے ذریعے ایسے جرائم کی روک تھام کریں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔
جموں و کشمیر کے عوام کے لیے حقِ خود ارادیت کا سوال بھی اسی تناظر میں ابھرتا ہے جہاں انسانی حقوق کا احترام بنیادی شرط ہے۔ سیاسی اختلافات اور تنازعات کے باوجود شہری آزادیوں، خواتین کے حقوق اور انصاف تک رسائی کو غیر مشروط طور پر یقینی بنانا ہی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ کنن پوش پورہ کی متاثرہ خواتین کی جدوجہد اس حقیقت کی عکاس ہے کہ انصاف صرف عدالتی فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ سچائی کی تلاش، جوابدہی، انسانی آزادی اور وقار کی بحالی کا نام ہے۔ جب تک یہ تقاضے پورے نہیں ہوتے، یہ سانحہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا رہے گا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جموں وکشمیر کے عوام کے حق آزادی اور حق خود ارادیت کا احترام کرتے ہوے انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں راے شماری کا موقع فراہم کریں ۔
واپس کریں