کیا اسلام آباد کے امام بارگاہ میں نہتے شہری نمازی نہیں تھے؟طاہر سواتی

اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں بہت سے نمازی شہید ہوئے۔اس کے چند روز بعد باجوڑ میں پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس میں کئی پولیس اہلکار جام شہادت نوش کر گئے۔
کل بنوں میں دہشت گردوں نے لیفٹیننٹ کرنل گل فراز اور ایک سپاہی کو شہید کر دیا۔ان واقعات کے بعد پاکستان کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور پاک فضائیہ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
صوبہ پکتیکا کے علاقے برمل میں ٹی ٹی پی کے ایک تربیتی مرکز پر حملہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ برمل کو مقامی لوگ ٹی ٹی پی کا گھر کہتے ہیں۔
انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جہاں شہریوں کی بجائے دہشت گرد اور ان کے قریبی رشتہ دار موجود تھے، لیکن چونکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے مدارس اور مراکز ہمیشہ عام آبادی کے درمیان ہوتے ہیں، اس لیے قریبی آبادی کو نقصان سے نہیں بچایا جا سکتا۔
اب افغان طالبان اور ان کے بھارتی سرپرست اور پاکستانی ہم نوا اس پر واویلا کر رہے ہیں کہ شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
کیا اسلام آباد کے امام بارگاہ میں نہتے شہری نمازی نہیں تھے؟ افغان حکومت کے کسی ترجمان یا پاکستان میں ان کے حامیوں نے اس کی مذمت کی؟ بلکہ وہ تو اس قسم کے واقعات کا مورد الزام پاکستان کی غلط پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔
اب اگر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں سے بے گناہ لوگ مرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی طالبان حکومت پر ڈالی جائے۔ نہ وہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے، نہ یہ دن دیکھنے پڑتے۔
اس مرکز پر حملے کی تکلیف کا انداز اس سے لگائیں کہ ٹی ٹی پی نے احرار والوں پر جاسوسی کا الزام لگا کر بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
حملے کے بعد طالبان دہشت گردوں نے پاکستانی جیٹ طیاروں پر رائفلوں سے فائرنگ شروع کر دی۔
اسی طرح پکتیا کے ارگون میں بھی ایک بڑا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا گیا۔
ٹی ٹی پی کرائے کے ٹٹو ہیں جن کی باگ ڈور اس وقت افغان دہشت گرد حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ اگر پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو ٹی ٹی پی کے سرپرست ملا ہیبت اللہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی ضروری ہو گی۔
تاہم پاکستان میں موجود ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے بغیر اس گروہ کے خلاف کامیابی ممکن نہیں۔
اس جنگ کو جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سوچ کے خلاف بھی جنگ لڑی جائے جو دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔
اسلام آباد کے خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل اپنی ماں سے فون پر بات کی اور اجازت مانگی، یعنی ماں بھی اس دہشت گردی میں شامل تھی۔
وہ سوچ جو انسانیت کو بچانے والی ماؤں کے بجائے انسان دشمن ذہن پیدا کرے، اس کا خاتمہ ضروری ہے۔
باجوڑ میں شہید ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے ہاتھ میں تسبیح تھی — اسے شہید کرنے والے نہ مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں اور نہ انسان کہلانے کے۔
جہاں مساجد میں نمازیوں کو مارنے والی سوچ پیدا ہو، ان کو مدارس کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یہ دہشت گردی کے مراکز ہیں، جن کو ختم کیے بغیر اس ملک میں امن ناممکن ہے۔
واپس کریں