دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بلوچستان کے عدم استحکام میں غیر ملکی سفارتکار بھی ملوث؟عبیدالرحمٰن عباسی ایڈووکیٹ
No image اصل سوال یہ نہیں کہ سفیر درست ہیں یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ ایک غیر ملکی سفارتکار کو کہاں تک بولنے، مشورہ دینے یا تنقید کرنے کا حق حاصل ہے؟ اگر یہی روش کسی طاقتور ملک میں اپنائی جائے تو کیا اسے قبول کیا جائے گا؟
بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت اسے عالمی طاقتوں کی شطرنج کا اہم مہرہ بناتی رہی ہے، لیکن کیا اب یہ خطہ ایک باقاعدہ انٹیلی جنس میدانِ جنگ بن چکا ہے؟ 1950 کی دہائی میں گوادر میں بھارتی سفارتکار کی مشکوک موجودگی سے لے کر حالیہ دہشت گردی کی لہر تک، کئی ایسے سوالات ہیں جو ریاستی سلامتی پر دستک دے رہے ہیں۔ پاکستان میں تعینات ایک یورپی سفارتکار کی پاکستان میں تعیناتی اور ان کے ماضی کے 'وار زون' تجربات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کیا ان کی سفارت کاری محض دو طرفہ تعلقات تک محدود ہے یا یہ کسی گہری مداخلت کا پیش خیمہ ہے؟
باخبر ذرائع کے مطابق 1955-56 کی ایک دوپہر پاکستان کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے افسر نے اعلیٰ حکام کو مبینہ طور پر ایک ہنگامی (SOS) پیغام ارسال کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک بھارتی سفارتکار گذشتہ چند ماہ سے گوادر میں مقیم ہے اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ مذکورہ افسر نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ وزارتِ خارجہ (FO) کے ذریعے اس سفارتکار کی موجودگی، سرگرمیوں اور مقصد کا باضابطہ جائزہ لیا جائے۔ یہ وہ وقت تھا جب کئی عالمی طاقتیں گوادر کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان میں انڈیا اور امریکا سرِ فہرست تھیں۔
اگرچہ اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آ سکی، تاہم ماضی کے واقعات، خصوصاً کلبھوشن یادیو کیس کے بعد ایسے خدشات کو محض افواہ قرار دے کر نظرانداز کرنا بھی ریاستی سلامتی کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ یہ تنظیم وسائل، جدید اسلحہ اور افرادی قوت کیسے حاصل کر رہی ہے؟ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بعض بااثر قبائلی سرداروں کی خاموش سرپرستی، مقامی سہولت کاری، اور بیرونی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی معاونت کے بغیر یہ ممکن نہیں۔
حالیہ دہشت گرد حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور مواصلاتی آلات اس شبے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ تنظیم کو بین الاقوامی سطح پر لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ رپورٹس گردش کرتی رہیں کہ اسلام آباد میں تعینات ایک یورپت سفارتکار کی بلوچ علیحدگی پسندوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے مبینہ روابط اور ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان رپورٹس میں کسی ٹھوس ثبوت یا سرکاری دستاویز کا حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم یہ معاملہ عوامی اور میڈیا سطح پر شدید بحث کا باعث بنا۔ اس پر سفارتخانے نے مکمل تردید کی ہے۔ اس کی وجہ بھی آپ کو بتاتے ہیں کیونکہ سفارتی آداب کے تحت غیر ملکی مشنز کو میزبان ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا ہوتا ہے۔
اگر ایسی ملاقاتیں محض سماجی یا انسانی حقوق کے عنوان سے بھی ہوں، تو بھی ان کی شفافیت اور حکومتی علم میں ہونا ناگزیر ہے۔ سکیورٹی ذرائع بہرحال ان کے اس قسم کے رابطوں کی رپورٹس کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’ان کا ماضی اس قسم کی مثالوں سے بھرا ہوا ہے‘۔
سفارتکاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سفیر میزبان ملک کی خودمختاری، عدالتی نظام اور داخلی سیاسی معاملات کا احترام کرے۔ مگر حالیہ برسوں میں پاکستان میں مختلف سفارت خانے جن میں امریکا، ناروے، انڈیا اور برطانیہ کے مبینہ طرزِ عمل نے اس اصول کو ایک سنجیدہ سوال بنا دیا ہے۔ یہ سوال محض ایک فرد یا عہدے تک محدود نہیں، بلکہ اس سفارتی سوچ تک جاتا ہے جو کمزور ریاستوں میں مداخلت کو ’اصلاح‘ اور ’جمہوریت‘ کے نام پر جائز سمجھتی ہے۔
مذکورہ سفیر کے سفارتی کریئر پر نظر ڈالی جائے تو ایک عجیب مماثلت سامنے آتی ہے۔ عراق، افغانستان، ایران، یمن، کینیا اور اب پاکستان، یہ سب وہ خطے ہیں جہاں یا تو جنگ جاری تھی، یا سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر تھا۔ ہر جگہ ان کی تعیناتی کے دوران تنازع، عوامی غصہ اور ریاستی تصادم نمایاں رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق تھا؟
عراق میں وہ مبینہ طور پر غیر ملکی قبضے کے سویلین چہرے کے طور پر دیکھی گئیں۔ افغانستان میں اربوں ڈالر اور پاؤنڈ خرچ ہونے کے باوجود امن ایک خواب ہی رہا۔ ایران میں ان کے دور میں ان کے ملک کا سفارت خانہ جلایا گیا اور تعلقات منقطع ہوئے۔ یمن میں ’سیاسی عمل‘ کے دعوؤں کے باوجود ملک خانہ جنگی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ کینیا میں ایک نوجوان خاتون کے قتل پر انصاف نہ ملنا، اور اس کے ساتھ دفاعی مفادات کا تحفظ، یہ سب آج بھی سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب انہوں نےعدالتی فیصلوں پر کھل کر رائے زنی کی۔ سپریم کورٹ پاکستان کا احتجاجی خط غیر معمولی ضرور تھا، مگر حالات بھی غیر معمولی تھے۔ یہ خط دراصل ایک یاد دہانی تھی کہ نوآبادیاتی ماضی رکھنے والی طاقتوں کو دوسروں کو جمہوریت اور قانون کا سبق دینے سے پہلے اپنی تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے۔
اسی طرح کشمیر کے حساس دورے پر بھارت کا شدید ردعمل بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مذکورہ سفیر کی سفارتکاری محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہی، بلکہ علاقائی کشیدگی کا باعث بنی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بعض حلقے انہیں سفیر کے بجائے سیاسی کردار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سفیر درست ہیں یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ ایک غیر ملکی سفارتکار کو کہاں تک بولنے، مشورہ دینے یا تنقید کرنے کا حق حاصل ہے؟ اگر یہی روش کسی طاقتور ملک میں اپنائی جائے تو کیا اسے قبول کیا جائے گا؟
پاکستان جیسے ملک، جو پہلے ہی داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے، وہاں سفارتکاری کا تقاضا یہ ہے کہ بات چیت پردے کے پیچھے ہو، بیانات نہیں بلکہ احترام بولے۔ بصورتِ دیگر، سفارتکاری اور مداخلت کے درمیان لکیر مٹنے لگتی ہے۔
بہرحال میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کالم کسی ایک سفیر کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو خودمختار ریاستوں کو تجربہ گاہ سمجھتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان واضح کرے دوستی اپنی جگہ، مگر جو دائرے متعین ہیں ان کی خلاف ورزہ نہیں ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ بلوچستان کی سٹرٹیجک اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گوادر بندرگاہ اور سی پیک مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کا سنگم معدنی وسائل اور ساحلی پٹی ہے اور تاریخی اور سٹرٹیجک اہمیت کی حامل ہے۔
یہ تمام عوامل بلوچستان کو عالمی طاقتوں کے لئے پرکشش بناتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہاں پراکسی وار، انٹیلی جنس آپریشنز اور عدم استحکام کی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں۔
پاکستان کو محض عسکری ردعمل تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث سفارتکاروں کے معاملات وزارتِ خارجہ کے ذریعے باضابطہ طور پر اٹھائے جائیں۔ جن میں انٹیلی جنس کوآرڈینیشن سول، ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان معلومات کا فوری اور مؤثر تبادلہ، مقامی آبادی کا اعتماد، بلوچستان میں ترقی، روزگار اور سیاسی شمولیت کے بغیر امن ممکن نہیں۔ ڈیجیٹل اور میڈیا مانیٹرنگ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب شامل ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں پاکستان کے خدشات کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا جائے، تمام پاکستانی سفارت خانون میں طاقتور سوشل میڈیا کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جو پاکستان کے اصل چہرے کو پھیلانے کی صلاحیت رکھے۔ میرے نزدیک بلوچستان کا مسئلہ صرف قانون و امن کا نہیں بلکہ ریاستی خودمختاری، علاقائی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر پاکستان نے بروقت، دانشمندانہ اور ہمہ جہت حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو یہ خطہ مستقبل میں مزید پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔
واپس کریں