دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عوام کا جمہوریت اور جمہوری اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے
No image پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے کر عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوششیں بھی انتہا پر دکھائی دے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے کیسز کی سماعت کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کی جس میں سہیل آفریدی نے سٹریٹ موومنٹ اور عمران خان رہائی فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر بنائی جانے والی اس فورس میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف، ویمن ونگ سمیت ہر طبقے کے لوگ شامل ہوں گے۔ فورس کی باقاعدہ ممبرشپ کا اعلان کیا جائے گا اور عید کے فوراً بعد پشاور میں تمام اراکین سے حلف لیا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ فورس کے لیے بہترین چین آف کمانڈ ترتیب دی جائے گی، پہلے تیاری کریں گے پھر لڑائی لڑیں گے۔ اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے اور ان کی آنکھ کی حالت تشویش ناک رہی ہے۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے غفلت برتی گئی اور جیلر نے جرم کیا ہے جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی کے حوالے سے جلد بازی میں خبریں شائع کی گئیں جو بے بنیاد تھیں۔ علاوہ ازیں، سینئر مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک دن بھی جیل میں نہیں رہنا چاہتے وہاں ان کا دل نہیں لگ رہا۔ انھیں یقین تھا کہ 8 فروری کو پورا ملک جام ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بہترین علاج ہوا۔ جس طرح انھوں نے دھرنے دیے اس سے بہتر تھا نہ دیتے۔ ایسے احتجاج اور دھرنوں سے شاید پی ٹی آئی کے ساتھ سازش ہو رہی ہے۔ یہ تو طے نہیں کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین ہونے والی اس کھینچا تانی کا فائدہ کسی کو ہو رہا ہے یا نہیں لیکن یہ صاف دکھائی دے رہا ہے اس سب کی وجہ سے عوام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کی طرف سے عمران خان کی رہائی کے لیے فورس تشکیل دینے کا اعلان ایک ناقابلِ فہم بات ہے۔ انھیں چاہیے کہ ایسے کاموں پر اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے اس صوبے پر توجہ دیں جہاں کے عوام پہلے ہی بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں اور ان کی طرف سے انھیں صوبے کے مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ اسی طرح، حکومتی ارکان کو چاہیے کہ وہ بیانات کے ذریعے معاملات کو الجھانے کی بجائے سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے مذاکرات کی طرف آئیں تاکہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا سکیں کیونکہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کی جو حالت ہے ان کا جمہوریت اور جمہوری اداروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔
واپس کریں