بھارت کے ہاں آئین، قانون، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں

لاہور(نامہ نگار،نمائندہ خصوصی)کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام معروف کشمیری حریت پسند لیڈر افضل گورو کے یوم شہادت پر لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرہ سے سینئررہنماپاکستان پیپلز پارٹی غلام عباس میر، انچارج کشمیرسنٹرانعام الحسن کاشمیری، سابق ایم پی اے فرزانہ بٹ، ممتاز لیگی رہنما بیگم صفیہ اسحاق، ممتاز عالم دین علامہ عاشق حسین، سیکرٹری کشمیرایکشن کمیٹی فاروق آزاد،کیپٹن مشتاق، پروفیسر اسماء حسن شیخ، کشمیری رہنما نازیہ بٹ،رہنما محاذ رائے شماری آفتاب نازکی، ممتاز عالم دین علامہ مشتاق قادری، معروف دانشور نذربھنڈر، شیخ امجداقبال، محموداے ترازی اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں افضل گورو کو غیرقانونی پھانسی دیے جانے پر بھارتی اقدامات کی سخت الفاط میں مذمت کی اور اس اقدام کو انسانی حقوق کی پامالی کا سنگین ترین اقدام قرار دیا۔ مقررین نے کہا کہ افضل گورو کو بھارتی سپریم کورٹ نے 9فروری2013ء کودہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اعتراف کیا تھا کہ افضل گورو کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ بھارتی عدالت نے اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے افضل گورو کو غیرقانونی طور پر پھانسی دے کر ثابت کردیا کہ بھارت کے ہاں آئین، قانون، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ افضل گوروتحریک آزادیئ کشمیر کا روشن جگمگاتا ستارہ تھا جس نے اپنے دیس اپنے وطن کی آزادی کے لیے ڈاکٹری کی تعلیم کو خیرباد کہہ کر بندوق تھامی۔ افضل گورو نے کشمیر کے اندر ہی جدوجہد کی۔ وہ کبھی بھی بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں میں ملوث نہیں رہا۔ بھارتی اداروں نے تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کے لیے خود ہی پارلیمنٹ پر حملہ کروایا اور پھر بے گناہ کشمیریوں کو اس کی پاداش میں گرفتار کرکے انھیں سزائے موت دی۔ مقام افسوس ہے کہ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ نے ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کا اعتراف کیا لیکن دوسری جانب اس نے سزائے موت بھی سنادی۔ یہ کیسا انصاف اور کیسا قانون ہے۔
افضل گورو پر الزام تو براہ راست حملے کا بھی نہیں لگایا گیا بلکہ اسے حملہ آوروں کی اعانت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی ادارے خودہی ایسی کارروائیاں کرتے ہیں اور پھر بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کرکے سزائیں دیتے ہیں۔ پہلگام فلیگ فالس آپریشن بھی بھارتی اداروں کی کارروائی تھی جس کا مقصد پاکستان پر چڑھائی کرنا تھا۔ اللہ نے بھارت کے ارادوں کو نیست ونابود اس طرح کیا کہ دنیا پر پاکستان کی دھاک بٹھادی۔ اس موقع پر بھی بھارتی میڈیا کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود کشمیریوں نے پاکستان کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا بلکہ وہ مسلسل بھارتی اداروں ہی کو مورد الزام ٹھہراتے رہے۔ مقررین نے کہا کہ افضل گورو نے تختہ دار پر لٹک کر دنیا کو بتادیا کہ کشمیری آزادی کے حصول کے لیے ہرقسم کی قربانی دے رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ افضل گوروشہید اور مقبول بٹ شہید کے جسدخاکی کو دہلی کی تہاڑ جیل کے قبرستان سے نکال کر کشمیریوں کے حوالے کیاجائے تاکہ وہ انھیں اپنی سرزمین میں دفن کرسکیں۔
واپس کریں