غزہ امن بورڈ، انسانی المیے کا حل یا کاروباری معاملات کا فروغ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے قیام کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سلسلے کے پہلے مرحلے کا کیا بنا؟ اس کا جواب امریکی صدر کے پاس بھی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے تین ماہ پہلے جس جنگ بندی کا اعلان کروایا تھا اس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا اور اس دوران غاصب صہیونی غزہ میں موجود معصوم فلسطینیوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں۔ خیر، امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غزہ امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے اور ارکان میں ان کے داماد جیرڈ کشنر اور ان کی کابینہ کے دو اہم ارکان وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وِٹکوف شامل ہوں گے، یعنی یہ بالکل وہی بات ہے کہ اندھا ریوڑیاں بانٹ تو رہا ہے لیکن دے بار بار اپنوں کو ہی رہا ہے۔ مذکورہ بورڈ میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے؛ وہی ٹونی بلیئر جنھوں نے عراق میں لاکھوں لوگوں کو شہید اور پورے ملک کو تباہ کرنے کے ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل کہا تھا کہ وہ عراق جنگ کا نشانہ بننے والے خاندانوں سے معافی مانگتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا اس بورڈ کے بارے میں کہنا ہے کہ ’یہ اب تک تشکیل پانے والا عظیم ترین اور شاندار ترین بورڈ‘ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کونسل کا ہر رکن تعمیرِ نو، صلاحیت سازی، سرمایہ کاری کے حصول اور بین الاقوامی مالیات سے متعلق ایک اہم معاملے کا ذمہ دار ہوگا۔ وائٹ ہاؤس نے نکولائی ملاڈینوف کو غزہ کے لیے اعلی نمائندہ مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ وہ امن کونسل اور مقامی حکام کے درمیان رابطے کی کڑی بن سکیں۔ بین الاقوامی استحکام فورس کی قیادت امریکی جنرل جیسپر جیفرز کے سپرد کی گئی ہے جنھیں سکیورٹی آپریشنز کی نگرانی، اسلحہ ختم کرنے اور انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے سامان کی رسائی کو محفوظ بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ آریہ لائٹ سٹون اور جوش گرین بوم کو امن بورڈ کا سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ تزویراتی منصوبہ بندی اور روزمرہ کے آپریشنز کی نگرانی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔اطلاعات کے مطابق، متوازی طور پر غزہ کے لیے ایک ایگزیکٹو کونسل قائم کی جا رہی ہے تاکہ روزمرہ کے انتظام میں مدد دی جائے اور استحکام اور خدمات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس ایگزیکٹو کونسل میں بین الاقوامی اور علاقائی شخصیات شامل ہیں جن میں سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان، حسن رشاد، وزیرہ ریم الہاشمی اور سگریڈ کاگ شامل ہیں۔ اس حوالے سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ کمیٹی فلسطینی اتھارٹی کے سابق عہدیدار ڈاکٹر علی شعث کی سربراہی میں چلائی جائے گی۔ ڈاکٹر علی شعث بنیادی خدمات کی بحالی، شہری اداروں کی دوبارہ تعمیر اور غزہ کے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی میں استحکام لانے کی نگرانی کریں گے۔سعودی وزارت خارجہ نے جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے فلسطینی قومی کمیٹی کی تشکیل کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ کمیٹی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے تحت ایک عبوری ادارے کے طور پر قائم کی گئی ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ مملکت ہر اس کوشش کی حمایت کرتی ہے جو استحکام کو فروغ دے اور جامع سیاسی حل کے لیے حالات سازگار بنائے۔ ادھر، ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کا حصہ بننے کے لیے ترک صدر رجب طیب ایردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو بھی باضابطہ دعوت دی ہے۔ ترک صدر نے تاحال امریکی ہم منصب کی اس پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا، البتہ وہ اس سلسلے میں اپنے رفقا سے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ مصری وزیر خارجہ نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ٹرمپ کی دعوت کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ایک طرف امریکی صدر کی طرف سے غزہ میں قیامِ امن کے لیے مذکورہ اعلانات کیے جار رہے ہیں اور دوسری جانب غاصب صہیونی سکیورٹی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں بچوں سمیت مزید 10 فلسطینیوں کے شہید ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک غاصب صہیونیوں کی طرف سے 400 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک شہید ہونے والی کی تعداد 78 ہزار سے زائد ہے؛ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کچھ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جو اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں ان کے مطابق غزہ میں غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں سوا دو سال کے دوران شہید ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔امریکی صدر کی طرف سے تشکیل دیے گئے غزہ امن بورڈ کے مقاصد کے بارے میں اب تک جو کچھ بتایا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بورڈ غزہ میں امن کے قیام اور انسانی المیے کے حل کے لیے کچھ کرے نہ کرے لیکن یہ وہاں سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی خدمات ضرور فراہم کرے گا۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بہت ہی مشکل ہے کہ بورڈ غزہ میں موجود مظلوم فلسطینیوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے گا یا نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکا کی طرف سے جو بین الاقوامی استحکام فورس قائم کی گئی ہے اس کے مقاصد بھی تاحال واضح نہیں ہیں، لہٰذا پاکستان یا کسی بھی اور مسلم ملک کو اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے تعاون کا فیصلہ بہت ہی سوچ سمجھ کر اور آپس میں مشورہ کرنے کے بعد کرنا چاہیے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک صہیونیوں کو لگام ڈالتے ہوئے فلسطینیوں کے علاقوں سے نکالا نہیں جاتا اور آزاد فلسطینی ریاست کا وجود عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک اس سلسلے میں ہونے والی تمام کوششیں بے کار اور بے معنی ہوں گی۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں