دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پی ٹی آئی ان دہشت گردوں کا سیاسی چہرہ ہے۔طاہر سواتی
No image وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ:“پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ میں بغیر ثبوت کے یہ نہیں مان سکتا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک کی جانب سے ایسی شکایات کیوں سامنے نہیں آتیں؟”
یعنی افغانستان سے دہشت گردی کو بغیر ثبوت کے نہیں مانا جا سکتا، لیکن بغیر کسی ثبوت کے مساجد میں کتے باندھنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔
ویسے تو پاکستان بیجنگ، دوحہ اور استنبول میں افغان طالبان کو تمام ثبوت فراہم کر چکا ہے، لیکن افسوس کہ پاکستان میں افغان طالبان کے قونصل جنرل اور ٹی ٹی پی کے ترجمان سہیل آفریدی اس موقع پر موجود نہیں تھے۔
یہ عمرانی ٹائیگر ذرا یہ بھی بتا دیں کہ پھر یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کون کر رہا ہے؟ جس صوبے کے یہ وزیرِ اعلیٰ ہیں، سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی وہیں ہو رہی ہیں۔ آخر ان لوگوں کا خون کس کے سر ہے؟ کل ٹانک میں دہشت گردوں کے حملے میں 11 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 پولیس اہلکار اور 4 امن جرگے کے ارکان شامل تھے۔کل جو بنوں میں ۸ دھشت گرد مارے گئے وہ کون تھے ؟
دھشت گردوں کے ہاتھوں خیبر پختونخوا کی لہو لہان عوام سب سے بڑا ثبوت ہے لیکن اس بدقسمت صوبے کا وزیر اعلی ثبوت مانگ رہا ہے کیونکہ وہ عوام سے زیادہ ان دھشت گردوں کا خیر خواہ ہے ۔
صرف سال 2025 کے دوران مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں مجموعی طور پر 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں 130 سے زائد افغان دہشت گرد بھی شامل تھے۔
ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت، جس میں نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گرد رہنما شامل ہیں، افغانستان میں کھلے عام مقیم ہیں۔ وہیں بیٹھ کر یہ نیٹ ورکس خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا خون بہا رہے ہیں۔
جولائی 2024 کی اقوامِ متحدہ کی رپورٹ اور پھر نومبر 2025 میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں ڈنمارک کے نائب نمائندے کی پیش کردہ رپورٹ ذرا پڑھ لیجیے، جس کے مطابق افغان طالبان حکومت کی ناک کے نیچے افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہ نہ صرف پنپ رہے ہیں بلکہ پھیل بھی رہے ہیں۔ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کیمپ موجود ہیں۔
ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران کرائے کے افغان عناصر پکڑے گئے، جس کے بعد ایران نے افغانستان کے ساتھ سرحد مکمل طور پر بند کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت نے بھی افغانستان کے ساتھ تجارت معطل کر دی۔
پوری دنیا افغان طالبان کے زیرِ اثر دہشت گردی کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے،
لیکن سہیل آفریدی، شفیع جان اور مشال یوسفزئی اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں،
کیونکہ طالبان دہشت گرد ان کا عسکری ونگ ہیں اور پی ٹی آئی ان دہشت گردوں کا ایک سیاسی چہرہ ہے۔
وقت آگیا ہے کہ اس ملک سے ہر قسم کے دھشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے ۔
واپس کریں