دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مفلوک الحال شہریوں کو نئے سال میں خوش آمدید۔حارث قدیر
No image سال 2025 میں 6 لاکھ 86 ہزار 272 شہریوں نے روزگار کے سلسلے میں قانونی طریقے سے پاکستان چھوڑا ہے۔ سٹوڈنٹ ویزہ، سیاحتی ویزہ، یا ڈنکی وغیرہ جیسے غیر قانونی راستوں سے پاکستان چھوڑنے والوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے، جو شاید اتنی یا اس سے زیادہ ہو۔
سال 2025 میں 60 ہزار شہریوں کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکا گیا ہے۔ ان میں سے 50 ہزار شہریوں کو ایف آئی اے حکام نے غیر ملکی سفر سے روکا ہے۔
مختلف انکوائریوں کے دوران 150 ایف آئی اے حکام کے خلاف بیرون ملک جانے والے شہریوں سے رشوت لینے کے الزام میں تادیبی کاروائی کی گئی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ایف آئی اے حکام نے بیرون ملک سفر کرنے والے ہزاروں نہیں تو سیکڑوں دیگر افراد کو بھی آف لوڈ کرنے کی دھمکی دے کر بھاری رقوم بٹوری ہیں۔
کچھ شہریوں کے زبانی الزامات کے علاوہ ایک شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے، جسے جون میں ایف آئی اے حکام نے آذربائجان کا سیاحتی سفر کرنے سے روکا۔ اس شہری کو یہ کہہ کر آف لوڈ کیا گیا کہ وہ آذربائجان سے واپس نہیں آئے گا۔ تاہم آف لوڈ کی مہر پاسپورٹ پر لگانے کے بعد اس سے 80 ہزار روپے مبینہ طور پر وصول کیے گئے، اور اسے آف لوڈ کی مہر لگانے کے بعد آذربائجان کا سفر کرنے کی اجازت دی گئی۔
ہائی کورٹ نے یہ کیس ڈائریکٹر امیگریشن کو سونپا ہے، انکوائری کے بعد اگر درخواست گزار مطمئن نہ ہوا تو دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔
بیرون ملک جانے سے لوگوں کو روکے جانے کی یہ غیر اعلانیہ پالیسی بظاہر ریاست نے پاکستان میں عمران خان کی حمایت توڑنے، بلوچ اور پشتون تحریکوں میں سرگرم نوجوانوں کو ڈرانے اور جموں کشمیر میں جاری تحریک منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے آزادی پسند سیاسی کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بنائی ہے۔
تاہم یہاں ہر سکیورٹی اقدام اور ہر نئی پالیسی دراصل ایک کاروبار کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ پولیس یا کسٹم کی کوئی چوکی بنے، کوئی نیا محکمہ بنایا جائے، سائبر کرائم روکنے کے لیے ادارہ بنایا جائے یا توہین کا کوئی قانون ہو، یا پھر امیگریشن کی کوئی نئی پالیسی نافذ کی جائے، ہر پالیسی اور ادارہ ایک نیا کاروبار بن جاتا ہے۔
چوکیوں اور ناکوں پر اہلکار بھتہ وصولنا شروع کر دیتے ہیں، ویسے ہی امیگریشن کاؤنٹر پر کھڑے ایف آئی اے حکام نے بھی پی ٹی ایم، پی ٹی آئی، بلوچ یکجہتی کمیٹی، یا جموں کشمیر کے شہریوں میں سے آزادی پسندوں کو ڈھونڈ کو بیرون ملک سفر سے روکنے کی غیر اعلانیہ سرکاری پالیسی پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ دیہاڑی لگانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ اب جو دیہاڑی نہیں دے گا وہ آف لوڈ اور جو جیب گرم کرے گا وہ بیرون ملک چلا جائے گا۔
یوں اس ریاستی پالیسی کا خمیازہ بھی بالعموم پورا پاکستانی معاشرہ ہی بھگت رہا ہے۔ ایف آئی اے اہلکاروں کے دن پھر رہے ہیں اور بھاری قرض لے کر بیرون ملک روزگار کے لیے جانے کے خواہشمند ٹکٹ اور ویزے ضائع ہونے اور پاسپورٹ پر آف لوڈ کی سٹیمپ لیے خودکشیوں پرمجبور ہورہے ہیں۔
اس سب پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے حکمرانوں کی طرف سے پاکستان اور اس کے زیرانتظام علاقوں میں مقید مفلوک الحال شہریوں کو نئے سال میں خوش آمدید۔۔۔۔۔!
واپس کریں