دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نئے سال کا آغاز اور اسرائیلی بربریت
No image اسرائیل نے غزہ میں اپنی بربریت کے خلاف دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازوں اور گذشتہ سال طے پانے والے غزہ امن معاہدے کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے نئے سال کے پہلے ہی روز فلسطینیوں پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع کر دیا اور فلسطینیوں کی امداد کرنے والے 37 اداروں پر پابندی لگا دی۔ ان اداروں پر فلسطینی عملے سے متعلق معلومات نہ دینے کا الزام لگا کر پابندی لگائی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اس اسرائیلی اقدام کو انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق بین الاقوامی طبی تنظیم ’’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘‘ نے سال 2025ء کے اختتام پر بھی اسرائیل سے اپیل کی کہ اسے انسانی ہمدردی کے تحت غزہ میں طبی امداد جاری رکھنے کی اجازت دی جائے مگر اسرائیل نے نئے سال کے پہلے ہی روز اس عالمی طبی تنظیم سمیت 37 فلاحی تنظیموں کو غزہ میں امدادی کاموں سے روک دیا۔ اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے متعدد انسانی امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر عائد پابندی فی الفور واپس لے لی جائے۔ ان اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں موسم سرما کے دوران مشکلات میں اضافے اور شدید غذائی عدم تحفظ کے باعث جان بچانے والی امداد کی فوری ضرورت ہے جبکہ امدادی اداروں پر پابندی جنگ بندی کے دوران ہونے والی نازک پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور وہاں بچوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے لئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرح یورپی یونین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے سے روکنے سے وہاں تباہ حال علاقوں کے مکینوں تک ضروری انسانی امداد کی فراہمی ممکن نہیں رہے گی۔ دریں اثناء غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف لاکھوں افراد نئے سال کے پہلے ہی روز ترکیہ کے شہر استنبول میں سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی قیادتوں سے غزہ میں جنگ بند کرانے کے لیئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئے سال کا آغاز انسانیت کے لیئے امید، امن اور خیر سگالی کے پیغام سے ہوتا مگر یہ افسوسناک صورت حال ہے کہ 2026ء کا سورج بھی فلسطین کی سرزمین پر خون، بارود اور مظلومیت کے مناظر کے ساتھ طلوع ہوا۔ اسرائیل نے سالِ نو کے ابتدائی دنوں میں ایک اور سنگین اور سفاک اقدام کرتے ہوئے فلسطینیوں کی امداد کرنے والے 37 بین الاقوامی اور مقامی اداروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ غزہ کے محصور اور زخمی عوام کو بھوک، سردی اور بیماریوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی شرط، کسی قرارداد، کسی عالمی دباؤ اور کسی اخلاقی اپیل کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں۔ غزہ میں جاری جنگ کو دو سال سے زائد عرصہ ہو گیا، مگر نہ بمباری رکی، نہ محاصرہ ٹوٹا اور نہ ہی انسانی راہداریوں کو مستقل بنیادوں پر کھولا گیا۔ امدادی اداروں پر پابندی دراصل اس اجتماعی سزا کا تسلسل ہے جو اسرائیل پورے فلسطینی معاشرے کو دینا چاہتا ہے۔
دنیا اس حقیقت سے نظریں چرا نہیں سکتی کہ موسمِ سرما کے دوران غزہ کی صورتحال مزید تباہ کن ہو سکتی ہے۔ تباہ شدہ مکانات، بجلی اور ایندھن کی قلت، صاف پانی کی عدم دستیابی اور طبی سہولیات کا فقدان ایک انسانی المیے کو جنم دے چکا ہے۔ ہزاروں بچے، عورتیں اور بوڑھے کھلے آسمان تلے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں امدادی اداروں پر پابندی کا مطلب انسانی نسل کْشی کے عمل کو مزید تیز کرنا ہے۔
اسرائیلی ظلم کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ سالِ نو کے موقع پر ترکی کے شہر استنبول میں شدید سردی کے باوجود لاکھوں افراد نے ’’غزہ مارچ‘‘ میں شرکت کر کے جنگ بندی اور فلسطینی نسل کشی روکنے کا مطالبہ کیا۔ یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ضمیر ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ میں عوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے، مگر طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران اس آواز کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔
صومالی لینڈ کا معاملہ بھی اسرائیلی پالیسیوں کی ناکامی کی ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کو دی گئی حمایت خود اس کے لئے الٹی پڑ گئی اور خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔ یہ اس امر کی علامت ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیاں نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اسرائیلی بربریت کے پیچھے اسلام دشمن الحادی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے مظالم کے خلاف اٹھنے والی کسی آواز، کسی احتجاج، کسی قرارداد اور کسی عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، عالمی عدالتِ انصاف کی آبزرویشنز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس سب بے اثر ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ اسرائیل کو امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو عالمی امن کا چیمپئن قرار دیتے ہیں، مگر عملی طور پر اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کر کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے کو نظرانداز کرنا، اسرائیلی جارحیت کو دفاع کا نام دینا اور جنگ بندی کی ہر کوشش کو ویٹو کرنا عالمی امن کے دعوؤں کی صریح نفی ہے۔ امریکہ اگر واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو لگام دینا ہوگی، نہ کہ وہ اس کے ہاتھ مزید مضبوط کرے۔
بدقسمتی سے مسلم دنیا کی بے حسی، باہمی اختلافات اور مصلحت پسندی نے بھی اسرائیل کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ او آئی سی کے اجلاس، بیانات اور قراردادیں عملی اقدامات سے خالی دکھائی دیتی ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر مسلم قیادتوں کا دوغلا پن اور کمزور ردعمل نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ آنے والے وقت میں خود مسلم ممالک کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم قیادتیں مصلحتوں کے خول سے باہر نکلیں اور اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھیں۔ سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں، مشترکہ لائحہ عمل اور عالمی فورمز پر مؤثر آواز ہی وہ راستے ہیں جن سے اسرائیلی جارحیت کو روکا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر الحادی قوتیں ایک ایک کر کے ہر مسلم ملک میں حشر اٹھاتی رہیں گی اور پھر صرف بیانات اور افسوس ہی باقی رہ جائے گا۔
نیا سال انسانیت کے لئے امن اور انصاف کا پیغام لے کر آنا چاہیے تھا، مگر غزہ میں بہتا خون یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا دنیا واقعی انسانی اقدار پر یقین نہیں رکھتی؟ فلسطین کا مسئلہ محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر آج اس ظلم کو نہ روکا گیا تو تاریخ آنے والی نسلوں سے یہی سوال پوچھے گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تو دنیا کہاں تھی؟ یہ صورتِ حال بطورِ خاص مسلم قیادتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں