دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان سے بھاگ جانے کا بڑھتا ہوا رجحان - برین ڈرین سے سفارتی بحران تک
No image ( کالم نگار ۔جہانزیب علی )پاکستان سے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے کا رجحان اب ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ ماضی میں یہ رجحان زیادہ تر ان افراد تک محدود تھا جو مالی مشکلات یا روزگار کی کمی کے باعث مشرقِ وسطیٰ، یورپ یا امریکا کا رخ کرتے تھے۔ سخت محنت کے باوجود وہ غیر ملکی کرنسی کما کر پاکستان میں موجود اپنے خاندانوں کی بہتر کفالت کر پاتے تھے۔ تاہم یہ صورتحال بیس پچیس سال پہلے کی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر دوسرا شخص، چاہے وہ کم تعلیم یافتہ ہو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ، کسی نہ کسی طریقے سے ملک چھوڑنا چاہتا ہے۔
حکومتِ پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال 7 لاکھ 27 ہزار سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے، جب کہ ہر سال 12 لاکھ سے زائد ہنر مند افراد -- جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر پروفیشنلز شامل ہیں -- پاکستان سے باہر جا رہے ہیں۔ ماہرین اس رجحان کو پاکستان کے لئے ایک سنگین "برین ڈرین" قرار دے رہے ہیں۔
یہ مسئلہ اب عام شہریوں یا ہنر مند افراد تک محدود نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق بیرونِ ملک تعینات کئی پاکستانی سفارت کار بھی پاکستان واپس جانے کے لئے تیار نہیں، خاص طور پر امریکا میں، جہاں سخت امیگریشن قوانین کے باوجود مستقل سکونت کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت کسی سفارت کار کا ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر امریکا یا کسی اور ملک میں امیگریشن حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چند سال قبل حکومت نے یہ پالیسی نافذ کی کہ بیرونِ ملک تعیناتی سے قبل سفارت کار کا عام (گرین) پاسپورٹ منسوخ کیا جائے گا، اور مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد پاکستان واپس آ کر ڈپلومیٹک پاسپورٹ جمع کرانے اور رپورٹ کرنے پر ہی (گرین) پاسپورٹ دوبارہ جاری ہوگا۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر کسی دوسرے ملک کی امیگریشن کی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔
ان سخت شرائط کے باوجود مصدقہ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں پاکستانی سفارت کار اور دیگر ملازمین نے کسی نہ کسی طریقے سے امریکا سمیت مختلف ممالک میں امیگریشن حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جب کہ کئی ابھی تک اپنے امیگریشن مقدمات کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا میں موجود کئی پاکستانی سفارت کار اور دیگر سٹاف پاکستان واپس جانے کے خواہشمند نہیں، جب کہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سفارت کار نے چند ماہ قبل کشمیری کمیونٹی کی ایک نجی محفل میں امریکا میں مستقل سکونت کے طریقوں پر مشاورت بھی کی۔
کچھ سال قبل نیویارک کے دورے کے دوران پاکستان کے ایک سابق وزیرِ اعظم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ہر سال لاکھوں پاکستانیوں کا ملک چھوڑنا تشویشناک نہیں، تو ان کا جواب تھا کہ اس سے ملک کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس ایک طاقتور ریاستی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر کا خیال ہے کہ نوجوانوں اور ہنر مند افراد کا یوں ملک چھوڑنا انتہائی تشویشناک ہے، اور اسی وجہ سے بعض اوقات مکمل سفری دستاویزات کے باوجود نوجوانوں کو اب ایئرپورٹس پر سفر سے روکا جا رہا ہے۔
پاکستان میں جاری اس "برین ڈرین" کی صورتحال سے یہاں خدمات انجام دینے والے مغربی ممالک کے سفارت کار بھی بخوبی آگاہ ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے لئے بیشتر ممالک نے ویزا شرائط انتہائی سخت کر دی ہیں۔ یہاں تک کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری افسران اور پولیس افسران کو بھی ویزے جاری نہیں کیے جا رہے۔
ان حالات کا خمیازہ اب پروفیشنل پاکستانی صحافی بھی بھگت رہے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں درجنوں پارٹ ٹائم صحافی امریکا اور دیگر ممالک میں کسی کانفرنس یا تقریب کی کوریج کے لئے گئے اور واپس نہیں لوٹے، جس کے باعث اب پیشہ ور صحافیوں کے لئے بھی ویزا حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
بہتر زندگی گزارنا ہر انسان کا حق ہے، اور آج پاکستان میں یہ احساس عام ہو چکا ہے کہ نہ جان محفوظ ہے، نہ مال اور نہ ہی عزت۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف غریب یا کم تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ صاحبِ حیثیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گولڈ گرین کارڈ سکیم کے تحت اب مالدار پاکستانی "گرین کارڈ" خرید کر امریکا منتقل ہونے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
پاکستان کا نظام سنبھالنے والے اداروں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ پاکستان اس وقت صرف افراد ہی نہیں بلکہ اپنا مستقبل کھو رہا ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ "برین ڈرین" ایک ناقابلِ واپسی قومی بحران کی شکل اختیار کر لے گا۔
واپس کریں