ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
انسانی تاریخ کو اگر بادشاہوں، جنگوں، فتوحات اور سلطنتوں کے روایتی بیانیے سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس کے پس منظر میں ایک ایسی مسلسل جستجو دکھائی دیتی ہے جس نے تہذیب کی سمت متعین کی: طاقت کے حصول اور اسے اپنے تابع رکھنے کی جستجو۔ غار میں پتھر کا اوزار بنانے والے انسان سے لے کر مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے والے انسان تک یہ سفر دراصل انسانی قوت کے دائرۂ کار کے مسلسل پھیلاؤ کی داستان ہے۔
ابتدائی انسان کی طاقت اس کے جسم، اجتماعی تعاون اور ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت تک محدود تھی۔ زراعت نے اسے زمین سے وابستہ کیا، مستقل آبادیوں نے وسائل کے ذخیرے پیدا کیے اور شہروں نے طاقت کو منظم اداروں میں ڈھال دیا۔ بین النہرین کے قدیم مراکز میں تحریر، محصول، تجارت، مندر، محل اور انتظامی نظام کے ظہور نے یہ حقیقت واضح کردی کہ طاقت صرف بازو کی قوت نہیں؛ وسائل، معلومات، تنظیم اور ادارے بھی اقتدار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
شہر ریاستوں سے سلطنتوں تک کا سفر اسی ارتقا کا اگلا مرحلہ تھا۔ مصر، فارس، یونان، روم، ہندوستان اور چین کی عظیم تہذیبوں نے اپنے اپنے انداز میں ثابت کیا کہ وسیع اقتدار محض فوجی فتح سے قائم نہیں رہتا؛ اسے قانون، مالیات، مواصلات، انتظام اور سیاسی نظم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت جب اخلاقی احتساب سے آزاد ہوجائے تو تعمیرِ تمدن کے ساتھ ظلم کا نظام بھی پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے مذہبی اور اخلاقی روایتوں نے اقتدار کو امانت، ذمہ داری اور جواب دہی سے وابستہ کیا۔
پھر مشین نے طاقت کی تعریف بدل دی۔ بارود نے جنگ کا توازن تبدیل کیا، طباعت نے علم کی ترسیل کو وسعت دی اور بحری ٹیکنالوجی نے جغرافیائی حدود کو پیچھے دھکیل دیا۔ صنعتی انقلاب نے اس تبدیلی کو فیصلہ کن بنا دیا۔ بھاپ، کارخانے، ریل، بجلی، پٹرولیم اور جدید مواصلات نے انسانی پیداوار اور نقل و حرکت کو غیر معمولی رفتار عطا کی۔ اب عالمی طاقت کا معیار صرف زمین اور فوج نہیں رہا؛ صنعت، سرمایہ، خام مال، منڈی، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی بھی طاقت کے بنیادی پیمانے بن گئے۔
بیسویں صدی میں ایٹمی ہتھیار نے اس سفر کو ایک خوفناک موڑ دیا۔ انسان نے ایسی تباہ کن قوت حاصل کرلی جس نے فتح کے روایتی تصور کو ہی مشکوک بنادیا۔ سرد جنگ کے دوران ایٹمی بازدار قوت نے دنیا کو یہ سمجھایا کہ بعض طاقتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا بے قابو استعمال فاتح اور مفتوح دونوں کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ یوں طاقت کے ساتھ ضبط، توازن اور ذمہ داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوگئی۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے طاقت کو ایک اور جہت عطا کی۔ مشین نے پہلے انسانی عضلات کو قوت دی تھی، اب کمپیوٹر نے انسانی حساب، یادداشت، معلومات اور ابلاغ کی صلاحیت کو وسعت دے دی۔ معلومات خود ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن گئی۔ لیکن مصنوعی ذہانت نے اس سفر کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کردیا ہے جہاں مشین محض معلومات محفوظ یا منتقل نہیں کرتی بلکہ ان میں نمونے تلاش کرتی، زبان تشکیل دیتی، تصاویر اور آوازیں پیدا کرتی اور بعض پیچیدہ فیصلوں میں معاونت بھی کرسکتی ہے۔
یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے: کیا انسان نے اپنی ذہانت کو وسعت دی ہے یا اپنے ہاتھ میں ایک ایسی نئی طاقت رکھ لی ہے جس کا اخلاقی نظم ابھی پوری طرح تشکیل نہیں پایا؟
مصنوعی ذہانت غلط اطلاعات اور مصنوعی مناظر کو غیر معمولی رفتار سے پھیلانے، انسانی شناخت اور آواز کی نقالی کے ذریعے جعل سازی کو آسان بنانے، روزگار کی نوعیت تبدیل کرنے، اعداد و شمار میں موجود تعصبات کو بڑے پیمانے پر منتقل کرنے اور ذاتی معلومات کی رازداری کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اگر طاقتور مصنوعی ذہانت، وسیع اعداد و شمار اور جدید حسابی وسائل چند اداروں یا ریاستوں تک محدود ہوگئے تو علم اور اثرانداز ہونے کی قوت کا عالمی عدم توازن مزید بڑھ سکتا ہے۔
لیکن مصنوعی ذہانت کو صرف خطرہ سمجھنا بھی درست نہیں۔ یہی ٹیکنالوجی طب، تعلیم، سائنسی تحقیق، ترجمے، معذور افراد کی معاونت اور انسانی زندگی کے بے شمار شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ اس کے استعمال کا اخلاقی معیار ہے۔
انسان نے پہیہ بنایا تو سفر آسان ہوا، دھات کو قابو کیا تو اوزار اور ہتھیار بنے، بھاپ کو استعمال کیا تو صنعت پیدا ہوئی، ایٹم کو سمجھا تو بے مثال توانائی اور تباہی دونوں کے دروازے کھلے، کمپیوٹر بنایا تو معلوماتی دنیا وجود میں آئی، اور اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانی ذہانت کے بعض کام مشینوں کے سپرد کیے جارہے ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ کبھی صرف اس بنیاد پر نہیں ہوا کہ انسان کے پاس طاقت کتنی تھی؛ اصل فیصلہ ہمیشہ اس بات سے ہوا کہ اس نے طاقت کے ساتھ کیا کیا۔
غار کے انسان کی قوت محدود تھی، اس لیے اس کی غلطی کا دائرہ بھی محدود تھا۔ آج انسان ایسی ٹیکنالوجی کا مالک ہے جو معیشت، سیاست، صحافت، تعلیم، جنگ اور سماجی رویوں تک کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے جدید انسان کے سامنے اصل امتحان زیادہ ذہین مشین بنانا نہیں بلکہ زیادہ ذمہ دار انسان بننا ہے۔
مصنوعی ذہانت شاید انسانی تاریخ کا آخری باب نہ ہو، لیکن یہ انسانی کردار کا ایک انتہائی اہم امتحان ضرور ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مشین کتنی ذہین ہوگی؛ سوال یہ ہے کہ انسان اپنی پیدا کردہ ذہانت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔
کیا وہ اسے بیماریوں کے علاج، علم کے فروغ، غربت میں کمی اور انسانی زندگی کی آسانی کے لیے استعمال کرے گا، یا جھوٹ، فریب، نگرانی، جنگ، استحصال اور طاقت کے ارتکاز کے لیے؟
یہ فیصلہ مشین نہیں کرے گی۔
یہ فیصلہ انسان کرے گا۔
اور شاید آنے والی تاریخ کا سب سے اہم سوال بھی یہی ہوگا:
انسان طاقتور تو ہوگیا، لیکن کیا وہ اس طاقت کے استعمال کے لیے دانا، عادل اور ذمہ دار بھی بن سکا؟
واپس کریں