محمد محسن خان ( راجپوت )
تہذیبی زوال کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہوتا کہ سچ مٹ جاتا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سچائی کو سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھال کر ایک بے ضرر متبادل فراہم کر دیا جاتا ہے۔ انسانی نفسیات جب بھی اخلاقی کایا پلٹ کے کسی کٹھن مرحلے سے گزرتی ہے، تو معاشرتی جبر، خاندانی مفادات اور روایتی فکر کا ایک پورا نیٹ ورک متحرک ہو کر اسے روکنے کی تگ و دو شروع کر دیتا ہے۔ سچائی اور دیانت کی پاداش میں جب ایک متمول فرد اپنے ناجائز اثاثوں اور علامتی فرعونیت سے دستبردار ہونے لگتا ہے، تو مروجہ نظام اسے 'حق پرست' تسلیم کرنے کے بجائے 'دماغی مریض' قرار دے کر نفسیاتی معالج کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یہ معالج دراصل اس بیمار سماج کا نمائندہ ہے جو مذہب کے جوہر یعنی ایثار، عدل اور کبر کی نفی کو ایک 'ناممکن نصب العین' قرار دے کر رد کر دیتا ہے، اور اس کے متبادل کے طور پر مناسک کی وہ ظاہری شکلیں تجویز کرتا ہے جو نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کو ضرب پہنچاتی ہیں اور نہ ہی انسان کے باطنی غرور کو چیلنج کرتی ہیں۔ یوں، ضمیر کی وہ خلش جو انسان کو ایک انقلابی تبدیلی کی طرف لے جا سکتی تھی، اسے چند گولیوں، سستی تسلیوں اور روایتی وظائف کے ذریعے سلا دیا جاتا ہے، تاکہ سوسائٹی کا جمود برقرار رہے۔
یہ ایک ایسی المیہ تمثیل ہے جہاں تزکیۂ نفس کی حقیقی اور تکلیف دہ ریاضت کو 'کفر کے خطرے' سے تشبیہ دے کر روک دیا جاتا ہے، اور گناہ گار کو یہ پٹی پڑھائی جاتی ہے کہ وہ مصلحین اور انبیاء کے نقشِ قدم پر چلنے کی 'خطا' نہ کرے، کیونکہ وہ تو چنیدہ ہستیاں تھیں۔ یہ بیانیہ دراصل اوسط درجے کے سمجھوتہ باز ذہن کی پیداوار ہے، جو مذہب کو صرف ایک پرسکون پناہ گاہ کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، نہ کہ زندگی بدل دینے والے ایک کٹھن ضابطے کے طور پر۔ جب ایک انسان اپنی مرسڈیز سے اتر کر ادنیٰ کہلائے جانے والے طبقے کو سلام کرنے میں سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے، یا اپنے غصب شدہ اثاثے اصل حق داروں کو لوٹا کر خود کو معاشی طور پر نہتا کر لیتا ہے، تو وہ دراصل اس سماجی جادو کی نگری کو توڑ رہا ہوتا ہے جس کی بنیاد ہی طبقاتی اونچ نیچ اور استحصال پر قائم ہے۔ لیکن جب اسے یہ سمجھا دیا جائے کہ 'خدا غفور و رحیم ہے، اپنی ہمت سے بڑھ کر بوجھ نہ اٹھاؤ'، تو وہ اس مشکل شاہراہ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے جہاں پاؤں لہولہان ہوتے ہیں اور ضمیر بیدار ہوتا ہے۔ یہ پسپائی فرد کو اس عافیت پسندی کی طرف لوٹا دیتی ہے جہاں مذہب صرف ایک 'ربر اسٹیمپ' بن کر رہ جاتا ہے جو آپ کے ہر جائز و ناجائز عمل کو تقدس کا لبادہ اڑھا دیتا ہے۔
مذہب کے اس سماجی سمجھوتے کے نتیجے میں جو نئی طرزِ زندگی جنم لیتی ہے، وہ سرمایہ دارانہ نظام اور ظاہری مذہبیت کا ایک خوفناک ملاپ ہے۔ روایتی مناسک پر سختی سے عمل پیرا ہو کر، حج و زکوٰۃ کی ادائیگی اور مزارات پر دیگیں چڑھا کر جب کھوئی ہوئی جائیدادیں اور کاروباری ساکھ دوبارہ بحال ہوتی ہیں، تو انسان کو لگتا ہے کہ خدا اس سے راضی ہو گیا ہے۔ مساجد اور مدارس کو بھاری عطیات دینے کے بعد معاشرے کے مذہبی حلقے اس کے گناہوں پر پردہ ڈال کر اسے مصلحِ ملت کا خطاب دے دیتے ہیں، حالانکہ اس کی کمائی کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی اسی پرانے استحصال پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان کا ضمیر مفقود ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک مصنوعی اطمینان لے لیتا ہے، جو ڈھائی فیصد کی زکوٰۃ کے عوض باقی ساڑھے ستانوے فیصد مال کو پاک قرار دینے کے فریب پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں مذہب فرد کو عاجزی سکھانے کے بجائے ایک بھیانک قسم کے نرگسیت پسندی کے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے، جہاں وہ خود کو پارسا اور باقی پوری دنیا کو گناہ گار تصور کرنے لگتا ہے۔
اس فکری استعارے کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے کو ایک ایسے 'سکونِ قلب' کی طرف دھکیل دیتا ہے جو حقیقت میں ایک اخلاقی موت ہے۔ وہ شخص جو کبھی اپنے گناہوں پر نادم تھا اور اپنے وجود کو پگھلا کر صراطِ مستقیم پر لانے کی تڑپ رکھتا تھا، اب وہ اپنے ظاہری مناسک کے زعم میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اسے اپنی کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہمارے پورے تہذیبی ڈھانچے کی عکاس ہے، جہاں مشکل اخلاقی فیصلوں کے مقابلے میں سستی پارسائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ جب تک ہم دین کے ظاہری ڈھانچے کو اس کے اصل اخلاقی جوہر، یعنی عدل، ایثار اور انسانی حقوق کی ادائیگی پر مقدم رکھیں گے، تب تک ہم ایسے ہی منافقانہ اطمینان کا شکار رہیں گے۔ حقیقی بیداری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اس مروجہ اور سہولت پسند فہمِ دین کو مسترد نہ کر دیں جو ہمیں اپنے طبقے، اپنے اثاثوں اور اپنے کبر کی قربانی دیے بغیر 'کامل مسلمان' بننے کی نوید سناتا ہے۔
واپس کریں