دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
واشنگٹن میں تاریخی موقف
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
( اسحاق ڈار کی دوٹوک آواز اور فلسطین کے لیے پاکستان کی اصولی سیاست ) واشنگٹن ڈی سی، جو امریکی طاقت کا گڑھ اور بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکز ہے، وہاں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا فلسطین کے معاملے پر دیا گیا بیان سفارتی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ بیان صرف ایک معمولی پریس کانفرنس نہیں تھا، بلکہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے جس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اصولوں کو نہ صرف دہرایا، بلکہ اُسے امریکہ کے قلب میں ڈٹ کر پیش کیا۔
اسحاق ڈار نے جب صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ "ہم ’ابراہام ایکارڈز‘ پر کسی بھی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے"، تو یہ اُن ممالک کے لیے ایک واضح پیغام تھا جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ابراہام معاہدے، جنہیں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ میں ایک کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، درحقیقت فلسطینی قضیے کو پسِ پشت ڈالنے کی ایک کوشش تھے۔ پاکستان نے ہمیشہ واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کا حل اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور قدس (القدس) کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، نہ کہ چند معاشی مفادات کی خاطر اصولوں سے سمجھوتے میں۔
ڈار کے بیان کی اہمیت صرف الفاظ میں نہیں، بلکہ اس کے سیاق و سباق میں ہے۔ واشنگٹن میں کھڑے ہو کر جہاں امریکی انتظامیہ مسلسل اسرائیل کی حمایت کر رہی ہے اور فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں اسے ہر قسم کا سفارتی اور فوجی احاطہ فراہم کر رہی ہے، وہاں پاکستان کا سب سے سینئر سفارت کار یہ کہے کہ "تب تک ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوگا جب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا"، یہ درحقیقت امریکی یکطرفہ بیانیے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ان چند بہادرانہ آوازوں میں سے ایک ہے جو عالمی طاقتوں کے سامنے مظلوم فلسطینیوں کی حق تلفی کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان خود اقتصادی مشکلات اور علاقائی چیلنجز سے دوچار ہے، اور کئی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ شاید پاکستان بھی خلیجی ممالک کی طرز پر اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی طرف بڑھے گا۔ لیکن اسحاق ڈار کے اس بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اُمتِ مسلمہ کا وہ سپاہی ہے جو فلسطین کی آزادی کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز سمجھتا ہے، چاہے اسے کسی بھی قیمت پر ادا کرنا پڑے۔
سفارتی محاذ پر یہ بیان اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس سے اکثر اوقات پاکستان پر مغربی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن شاید پاکستانی قیادت یہ جانتی ہے کہ عوامِ پاکستان کے دلوں میں فلسطین کی آواز زندہ ہے، اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ عوام کی توقعات سے غداری ہوگی۔ اسحاق ڈار نے نہ صرف پاکستان کا موقف پیش کیا بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی آواز بن کر بولی، جن کے لیے مسجدِ اقصیٰ اور مقدس مقامات کی آزادی عقیدے کا حصہ ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسحاق ڈار کا یہ بیان ایک سفارتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک واضح لکیر ہے جس سے آگے پاکستان نے جانے سے انکار کر دیا ہے۔ آج جب عالمی برادری دوہرے معیار کا شکار ہے اور فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، پاکستان کا یہ اصولی موقف نہ صرف اپنے عوام کے لیے بلکہ پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن ہے۔ واشنگٹن میں دیا گیا یہ پیغام دور رس اثرات مرتب کرے گا، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اپنی اصولی سیاست کو کسی بھی معاشی یا سفارتی مفاد پر فوقیت دی ہے۔
اللہ فلسطینیوں کی مدد کرے اور پاکستان کو اس نیک راستے پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
واپس کریں