دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی بدترین حالت، دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر سلگتا ہوا سوال
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان سے
پاکستان میں دہشت گردی محض امن و امان کا مسئلہ نہیں، یہ انسانی جانوں، معیشت، ریاستی عمل داری اور نظامِ انصاف کے لیے ایک مسلسل چیلنج ہے۔ خیبر پختونخوا اس بحران سے خصوصاً متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے۔ یہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن اس جنگ کا ایک اہم محاذ عدالتی نظام بھی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس مقدمات کی قانون کے مطابق مؤثر اور نسبتاً تیز رفتار سماعت کریں، مجرموں کو سزا ملے اور بے گناہ افراد کو انصاف حاصل ہو۔
لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ جس صوبے میں دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی اقدامات، سخت سکیورٹی انتظامات اور خصوصی اختیارات کی بات ہوتی ہے، وہاں دہشت گردی کے مقدمات نمٹانے والی عدالتوں کی اپنی انتظامی حالت کیا ہے؟ کیا ان عدالتوں کے پاس مناسب عمارتیں، محفوظ ریکارڈ روم، تربیت یافتہ عملہ، جدید ٹیکنالوجی، واضح سروس سٹرکچر اور سکیورٹی خطرات کے مطابق سہولیات موجود ہیں؟ اگر نہیں، تو اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کی پانچ سالہ حکمت عملی 2025ء تا 2030ء میں درج اعدادوشمار کے مطابق، 15 مئی سے 16 اگست 2025ء کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو منشیات سے متعلق 2,414 مقدمات منتقل کیے گئے، جن میں سے 685 مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ 1,729 مقدمات باقی تھے۔ یہ اعدادوشمار منشیات سے متعلق ان مخصوص منتقل شدہ مقدمات کے مجموعے سے تعلق رکھتے ہیں، نہ کہ صوبے میں دہشت گردی کے تمام مقدمات کی مجموعی تعداد سے۔ منشیات کے تمام مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں نہیں چلتے؛ خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنسز ایکٹ 2021ء، جس میں 2025ء میں ترمیم کی گئی، کے تحت درج مقدمات میں سے مخصوص مقدمات کو قانونی اختیار اور عدالتی انتظام کے تحت ان عدالتوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ اس لیے ان اعدادوشمار کو دہشت گردی کے مقدمات کے مجموعی بوجھ کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ مثال خصوصی عدالتوں پر اضافی مقدمات کے بوجھ اور ان کی انتظامی صلاحیت کا جائزہ لینے کی ضرورت کو ضرور اجاگر کرتی ہے۔
قانونی طور پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ 13 خصوصی عدالتوں کے قیام کی بنیاد فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد متعلقہ مقدمات کی تیز رفتار سماعت ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد محض عدالت کا نام تبدیل کرنا یا کسی مقدمے کو خصوصی عدالت میں بھیج دینا نہیں، بلکہ ایسا مؤثر عدالتی انتظام قائم کرنا ہے جو قانون، شواہد، ملزمان کے حقوق اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کام کر سکے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ملازمین کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، خیبر پختونخوا میں ایسی 13 عدالتیں کام کر رہی ہیں اور ان کے عملے کی مجموعی تعداد تقریباً 150 ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ ان میں سے متعدد افراد دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن انہیں ترقی کے مناسب مواقع، واضح سروس سٹرکچر اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق مراعات حاصل نہیں ہو سکیں۔
اگر 13 عدالتوں میں تقریباً 150 ملازمین ہیں تو اوسطاً فی عدالت 11 سے 12 ملازمین بنتے ہیں۔ یہ محض حسابی اوسط ہے؛ اس سے کسی عدالت میں عملے کی حقیقی دستیابی، خالی آسامیوں یا کام کے بوجھ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہر عدالت کی منظور شدہ آسامیوں، موجودہ تعیناتیوں، خالی عہدوں اور مقدمات کی تعداد کا الگ الگ ریکارڈ درکار ہے۔
ملازمین کے مطابق، بعض افراد طویل عرصے سے ایک ہی عہدے اور سکیل پر کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال سروس رولز، ترقی کے قواعد اور سنیارٹی ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ حکام کو وضاحت دینی چاہیے کہ ان ملازمین کے لیے ترقی کا باقاعدہ راستہ کیوں موجود نہیں، یا موجود ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا۔
ایک اور اہم مسئلہ انتظامی کنٹرول کا ہے۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ ان عدالتوں کے انتظامی معاملات میں متعلقہ حکام کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، قانون میں ہائی کورٹ کے کنٹرول کا حوالہ موجود ہے، لیکن عملی سطح پر ملازمین کے سروس معاملات اور انتظامی مسائل حل نہیں ہو رہے۔ اس دعوے کی حتمی جانچ کے لیے متعلقہ قانونی دفعات، عدالتی قواعد، تقرریوں کے نوٹیفکیشن اور انتظامی احکامات کا جائزہ ضروری ہے۔
سپرنٹنڈنٹ کی آسامیوں کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ ملازمین کے فراہم کردہ بیان کے مطابق، 13 میں سے صرف سات عدالتوں میں سپرنٹنڈنٹ کی آسامیاں موجود ہیں، جبکہ چھ عدالتیں اس عہدے کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ اعدادوشمار سرکاری ریکارڈ سے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک قابلِ توجہ انتظامی خلا ہے۔ حساس مقدمات کے ریکارڈ، عدالتی عملے کی نگرانی، دفتری امور اور مقدمات سے متعلق دستاویزات کی ترتیب کے لیے مناسب انتظامی قیادت ضروری ہے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے 2010ء میں ماہانہ 3,000 روپے رسک الاؤنس مقرر کیا گیا تھا اور اس میں بعد ازاں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے ایک دوسرے تحریری بیان میں اس الاؤنس کی منظوری کا سال 2011ء درج ہے۔ اس تضاد کو دور کرنے کے لیے اصل منظوری اور مالیاتی نوٹیفکیشن سامنے لانا ضروری ہے۔ اگر 3,000 روپے کی رقم واقعی 2010ء سے برقرار ہے تو یہ سوال بجا ہے کہ اتنے طویل عرصے میں مہنگائی، ذمہ داریوں اور سکیورٹی کی صورتِ حال کو سامنے رکھ کر اس کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا۔
ملازمین کا مزید کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 2021ء سے محکمہ خزانہ کو اس معاملے پر خطوط ارسال کیے، لیکن ان کے مطابق کوئی مؤثر نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ یہ ایک اہم قابلِ تحقیق نکتہ ہے۔ ان خطوط کی تاریخ، تعداد، مخاطب افسران، محکمہ خزانہ کے جوابات اور فیصلے کی موجودہ حیثیت حاصل کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ معاملہ کہاں رکا ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
عمارتوں اور دفتری جگہ کی کمی بھی ان عدالتوں کا ایک اہم مسئلہ بتایا جاتا ہے۔ ملازمین کے مطابق، بعض عدالتیں محدود جگہ، حتیٰ کہ ایک کمرے پر مشتمل انتظام میں کام کر رہی ہیں، جبکہ مناسب ریکارڈ روم بھی دستیاب نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہائی کورٹ میں ریکارڈ رکھنے کی گنجائش نہیں اور سیشن عدالتوں میں بھی جگہ کی کمی ہے، جس کے باعث عدالتی ریکارڈ کے تحفظ اور حصول میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ان مخصوص دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، لیکن اگر ریکارڈ کے لیے محفوظ اور موزوں جگہ موجود نہیں تو یہ محض ملازمین کی سہولت کا مسئلہ نہیں، بلکہ عدالتی نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل ریکارڈ کی عدم دستیابی یا نامکمل ڈیجیٹلائزیشن ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ ملازمین کے مطابق، عدالتی ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل نہیں اور مقدمات کی دستاویزات تک رسائی کے لیے اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے مقدمات کی تلاش، ریکارڈ کی نقل کے حصول، پرانے فیصلوں کی بازیابی اور دفتری کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ جاننے کے لیے کہ کون سی عدالتوں میں کون سا نظام موجود ہے، کس حد تک ڈیجیٹلائزیشن ہوئی ہے اور کتنی فائلیں دستیاب ہیں، عدالت وار جائزہ درکار ہے۔
اسی طرح بری ہونے والے افراد کو عدالتی ریکارڈ یا متعلقہ دستاویزات کے حصول میں پیش آنے والی مبینہ مشکلات کا معاملہ بھی اہم ہے۔ کسی مقدمے سے بری ہونا اور اس کے فیصلے یا ریکارڈ کی مصدقہ نقل حاصل کرنا الگ قانونی و انتظامی معاملات ہیں۔ اگر ریکارڈ کی عدم دستیابی، غیر منظم فائلنگ یا غیر ضروری دفتری رکاوٹیں کسی شہری کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں تو ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ زیرِ سماعت مقدمات میں وکلا، استغاثہ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بروقت دستاویزات فراہم کرنے کا نظام بھی مؤثر ہونا چاہیے۔
ان عدالتوں میں دہشت گردی، اغوا، بھتہ خوری اور خودکش حملوں سمیت سنگین جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔ ایسے مقدمات میں ججوں، عدالتی عملے، گواہوں، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد کی حفاظت اہم ہے۔ تاہم کسی مخصوص عدالت یا ملازم کو لاحق خطرے کی نوعیت اور شدت کا تعین متعلقہ سکیورٹی جائزے سے ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہر عدالت کے لیے خطرات کی جانچ، محفوظ داخلی و خارجی راستے، مناسب نگرانی، ہنگامی انتظامات اور عملے کے تحفظ کا باقاعدہ منصوبہ موجود ہو۔
عملے کی تربیت اور جدید انتظامی وسائل کی کمی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ دہشت گردی کے مقدمات میں حساس دستاویزات، شواہد، گواہوں سے متعلق معلومات اور عدالتی احکامات کا درست اندراج اور محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر عملے کو جدید ریکارڈ مینجمنٹ، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل فائلنگ اور حساس معلومات کے تحفظ کی تربیت نہیں دی جاتی تو محض کمپیوٹر فراہم کرنا بھی کافی نہیں ہوگا۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ تربیت، واضح قواعد اور احتساب کا نظام بھی درکار ہے۔
ان مسائل کی مکمل سرکاری فہرست ابھی دستیاب نہیں، لیکن ملازمین کے بیانات سے سامنے آنے والے یہ نکات ایک باقاعدہ ادارہ جاتی جائزے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر مسئلے کی نوعیت، ذمہ دار ادارے، بجٹ، منظور شدہ آسامیوں اور حل کے لیے درکار مدت کا تعین ہونا چاہیے۔
اس معاملے کو محض ملازمین کی شکایت سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عدالتی نظام کے اپنے سرکاری اعدادوشمار بھی ادارہ جاتی صلاحیت کا جائزہ لینے کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔ قانون و انصاف کمیشن پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2024ء کے مطابق، خیبر پختونخوا کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں 281 مقدمات ابتدائی طور پر زیرِ التوا تھے، سال کے دوران 1,290 نئے مقدمات درج ہوئے، 1,169 مقدمات کے فیصلے ہوئے اور سال کے اختتام پر 317 مقدمات باقی تھے۔ یہ اعدادوشمار رپورٹ میں درج متعلقہ مجموعے سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں صوبے کے تمام دہشت گردی کے مقدمات کی مکمل تصویر نہیں سمجھنا چاہیے۔
نئے مقدمات اور فیصلوں کے درمیان فرق 121 بنتا ہے، جبکہ باقی مقدمات میں اضافہ 36 ہے۔ اس فرق کی وجہ مقدمات کی منتقلی، بحالی یا دیگر اندراجات بھی ہو سکتے ہیں؛ اس لیے محض ان اعدادوشمار کی بنیاد پر کسی ادارے کی کارکردگی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ اعدادوشمار ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتے ہیں کہ جب خصوصی عدالتوں کو سال بھر میں بڑی تعداد میں مقدمات نمٹانے ہوتے ہیں تو ان کے لیے درکار عملہ، دفتری سہولیات، ریکارڈ مینجمنٹ اور سکیورٹی کا باقاعدہ جائزہ کتنی باقاعدگی سے لیا جاتا ہے؟
اس کا جواب محض پریس ریلیز سے نہیں ملے گا۔ عدالت وار منظور شدہ آسامیوں، خالی عہدوں، ججوں کی تعیناتی، مقدمات کی نوعیت، فیصلوں کی تعداد اور زیرِ التوا مقدمات کی وجوہات کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے 8 جولائی 2025ء کے نوٹیفکیشن کے ذریعے پولیس کے گریڈ 17 سے 21 تک مخصوص منظور شدہ آسامیوں پر تعینات افسران کے لیے شیڈولڈ پوسٹ الاؤنس پر نظرثانی کی۔ اس کے تحت یکم جولائی 2025ء سے ماہانہ الاؤنس کو بنیادی تنخواہ کے 1.2 گنا کے برابر مقرر کیا گیا، مخصوص شرائط کے ساتھ۔ یہ ہر پولیس ملازم کی تنخواہ میں 120 فیصد اضافے کا عمومی حکم نہیں تھا، بلکہ مخصوص عہدوں اور شرائط سے منسلک الاؤنس تھا۔
یہ فرق واضح رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی ایک محکمے کی مراعات کا موازنہ دوسرے محکمے کے ملازمین سے کرتے ہوئے دونوں کے قواعد، گریڈ، ذمہ داریوں اور اہلیت کی شرائط سامنے رکھنی چاہییں۔ اس کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر حکومت مخصوص سکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے خصوصی الاؤنس منظور کر سکتی ہے تو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ملازمین کے کام کی نوعیت، حساس مقدمات سے وابستگی اور سکیورٹی خطرات کا باقاعدہ جائزہ لے کر ان کے لیے مناسب مراعات کا فیصلہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
ملازمین کسی دوسرے محکمے کے حقوق کم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ ان کی ذمہ داریوں کا بھی منصفانہ جائزہ لیا جائے۔ یہ ایک جائز انتظامی مطالبہ ہے، جس کا فیصلہ قواعد، مالیاتی گنجائش اور سکیورٹی جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتِ حال پر غیر معمولی تشویش کے ماحول میں اگر گورنر راج یا ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر بحث ہوتی ہے تو اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے نظامِ انصاف کی بنیادی ضروریات پر کیا توجہ دے رہے ہیں۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی، غیر قانونی رکشوں کے خلاف اقدامات، ٹریفک کی روانی اور شہری نظم و نسق اپنی جگہ اہم معاملات ہیں۔ ان پر کارروائی کرنا بذاتِ خود غلط نہیں۔ لیکن ایک صوبے میں بیک وقت کئی مسائل موجود ہوں تو حکومت کی ترجیحات کا جائزہ اس بنیاد پر بھی لیا جاتا ہے کہ وہ عوامی تحفظ، دہشت گردی، انصاف اور بنیادی انتظامی اصلاحات کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔
اگر دہشت گردی کے مقدمات سننے والی عدالتوں کے ملازمین واقعی برسوں سے ترقی، الاؤنس، مناسب عمارتوں اور محفوظ ریکارڈ کی سہولتوں سے محروم ہیں تو ان مسائل کو نظرانداز کرنا ایک سنجیدہ انتظامی سوال ہے۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی اور عدالتی اصلاحات ایک دوسرے کی متبادل ترجیحات نہیں؛ حکومت دونوں پر بیک وقت کام کر سکتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کیوں کی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عدالتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ساتھ ساتھ کیا کیا جا رہا ہے؟ کیا اس مقصد کے لیے کوئی واضح منصوبہ، بجٹ، مقررہ مدت اور ذمہ دار افسر موجود ہے؟ کیا متعلقہ محکموں نے عدالتوں کی ضروریات کا سروے کیا ہے؟ کیا ان مسائل پر گورنر، محکمہ خزانہ اور عدالتی انتظامیہ کے درمیان کوئی باضابطہ اجلاس ہوا ہے؟ ان سوالات کے جواب سرکاری ریکارڈ سے حاصل کیے جانے چاہییں۔ اگر کوئی منصوبہ موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے، اور اگر نہیں تو اس کی تیاری کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔
پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ پانچ سالہ حکمت عملی 2025ء تا 2030ء میں عدالتی ڈھانچے کی بہتری، زیرِ التوا مقدمات میں کمی، ججوں کی دستیابی اور مکمل مربوط ای فائلنگ نظام متعارف کرانے جیسے اہداف شامل ہیں۔ اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی قانونی تحقیق اور فیصلہ سازی میں معاون ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ عدالتی اصلاحات اب صرف عمارتیں تعمیر کرنے یا اضافی عملہ بھرتی کرنے تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ جدید عدالتی انتظام کے لیے قابلِ تلاش ڈیجیٹل ریکارڈ، محفوظ ڈیٹا، مقدمات کی نگرانی اور مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام میں ہر مقدمے کا منفرد ڈیجیٹل نمبر اور مکمل تاریخ وار ریکارڈ، مقدمے کی موجودہ حیثیت اور آئندہ تاریخ تک مجاز افراد کی رسائی، فیصلوں اور مصدقہ نقول کے حصول کے لیے شفاف طریقۂ کار، پرانے کاغذی ریکارڈ کی سکیننگ اور محفوظ ذخیرہ، حساس معلومات تک رسائی کی اجازت، ریکارڈ میں تبدیلی کا سراغ اور محفوظ بیک اپ شامل ہونا چاہیے۔ جیل، پولیس، استغاثہ اور عدالت کے درمیان قانونی تقاضوں کے مطابق دستاویزات کی بروقت ترسیل کا نظام بھی ضروری ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد صرف فائلوں کو کمپیوٹر میں محفوظ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسے شہریوں کی مشکلات کم کرنے، عدالتی عملے کا وقت بچانے، ریکارڈ کے تحفظ اور مقدمات کی نگرانی بہتر بنانے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
اس مسئلے کا حل صرف مطالبات سننے یا چند مراعات کا اعلان کرنے سے نہیں نکلے گا۔ خیبر پختونخوا حکومت، گورنر، پشاور ہائی کورٹ اور محکمہ خزانہ کو اپنے اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں ایک مشترکہ، قابلِ پیمائش اصلاحاتی پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔ تمام 13 عدالتوں کی عمارتوں، کمروں، ریکارڈ رومز، عملے، خالی آسامیوں، سکیورٹی انتظامات اور ڈیجیٹل سہولتوں کا سروے کر کے رپورٹ مرتب کی جائے، جس میں ہر کمی کی نشاندہی اور اسے دور کرنے کی متوقع لاگت بھی درج ہو۔
عملے کی موجودہ تعداد، سنیارٹی، منظور شدہ آسامیوں، ترقی کے قواعد اور خالی عہدوں کا جائزہ لیا جائے۔ جہاں قواعد میں خلا ہے وہاں قانونی اور انتظامی طریقۂ کار کے مطابق اصلاح کی جائے، جبکہ جہاں ترقی ممکن ہے وہاں غیر ضروری تاخیر کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔ رسک الاؤنس کے معاملے میں 2010ء یا 2011ء کی اصل منظوری، موجودہ شرح اور بعد میں جاری ہونے والے تمام متعلقہ نوٹیفکیشن سامنے لائے جائیں۔ ملازمین کی ذمہ داریوں اور سکیورٹی خطرات کا جائزہ لے کر مناسب اضافے کی تجویز تیار کی جائے اور اس پر فیصلہ کرنے کی مدت مقرر ہو۔
ملازمین کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق چھ عدالتوں میں سپرنٹنڈنٹ کی آسامیاں موجود نہیں۔ متعلقہ حکام ان اعدادوشمار کی تصدیق کر کے انتظامی ضرورت کے مطابق آسامیوں کی منظوری یا متبادل انتظام کا فیصلہ کریں۔ ہر عدالت کو محفوظ، مناسب اور ضرورت کے مطابق جگہ فراہم کی جائے۔ جہاں مستقل عمارت فوری طور پر ممکن نہ ہو وہاں عبوری انتظام کیا جائے، لیکن حساس عدالتی ریکارڈ کے لیے محفوظ جگہ کو مؤخر نہ رکھا جائے۔
پرانی فائلوں کی ڈیجیٹلائزیشن، مصدقہ نقول کے حصول، مقدمات کی نگرانی اور محفوظ ڈیٹا بیک اپ کے لیے مرحلہ وار منصوبہ بنایا جائے۔ اس کی پیش رفت کی رپورٹ مقررہ وقفوں سے جاری ہو۔ پشاور ہائی کورٹ، صوبائی حکومت اور متعلقہ مالیاتی حکام اپنے دائرۂ اختیار میں ذمہ دار افسران نامزد کریں۔ تین، چھ اور بارہ ماہ کے اہداف مقرر کیے جائیں اور بتایا جائے کہ کتنے مسائل حل ہوئے، کتنی آسامیاں پُر ہوئیں، کتنی عدالتوں میں سہولتیں فراہم کی گئیں اور ڈیجیٹلائزیشن کہاں تک پہنچی۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور سیکرٹری خزانہ سے یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ملازمین کی شکایات کا باضابطہ نوٹس لیں اور متعلقہ اداروں سے حقائق پر مبنی رپورٹ طلب کریں۔ کیا ان عدالتوں کے عملے کے سروس سٹرکچر کی منظوری کے لیے کوئی سمری زیرِ غور ہے؟ اگر رسک الاؤنس میں اضافے کے لیے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے خطوط بھیجے گئے تو ان پر کیا کارروائی ہوئی؟ سات عدالتوں میں سپرنٹنڈنٹ کی آسامیوں اور چھ عدالتوں میں ان کی عدم موجودگی کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟ کیا تمام 13 عدالتوں کے لیے عمارتوں، محفوظ ریکارڈ رومز اور ڈیجیٹلائزیشن کا کوئی منصوبہ موجود ہے؟
ان سوالات کے جواب متعلقہ حکام سے لیے جانے چاہییں، کیونکہ ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے محض زبانی یقین دہانی کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ ہر فیصلے کے ساتھ ذمہ دار ادارہ، بجٹ، تکمیل کی مدت اور عوامی سطح پر پیش رفت کی تفصیل بھی موجود ہو۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ملازمین کی تعداد اگر واقعی تقریباً 150 ہے تو ان کے مسائل حل کرنے کا دائرہ ایک محدود افرادی قوت تک پھیلا ہوا ہے، مگر ان کے کام کے اثرات اس سے کہیں وسیع ہیں۔ ایک محفوظ اور منظم عدالتی نظام پولیس کی تفتیش، استغاثہ، گواہوں کی پیشی، مقدمات کی سماعت اور شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کا مقصد صرف سزائیں دلوانا نہیں۔ ان کا فرض قانون کے مطابق شواہد کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہے۔ جہاں جرم ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق سزا اور جہاں الزام ثابت نہ ہو وہاں ملزم کو قانونی ریلیف ملنا چاہیے۔ یہی طریقۂ کار انصاف پر عوامی اعتماد قائم کرتا ہے۔
ریاست کی قوت صرف اس کے سکیورٹی اداروں یا سخت اقدامات سے نہیں ناپی جاتی؛ اس کی ایک کسوٹی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عدالتی نظام کو کس قدر مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی ترجیح ہے تو اس جنگ سے متعلق مقدمات سننے والی عدالتوں کی ضروریات بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونی چاہییں۔
اس معاملے میں کسی جماعت یا حکومت کے حق یا مخالفت کا سوال بنیادی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ان عدالتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا اقدامات ہوئے، موجودہ انتظامیہ کیا کر رہی ہے اور آئندہ ایک سال میں کون سی قابلِ پیمائش اصلاحات مکمل کی جائیں گی۔
خیبر پختونخوا کی حکومت، گورنر، پشاور ہائی کورٹ اور محکمہ خزانہ کو چاہیے کہ وہ ان سوالات کا واضح جواب دیں۔ ملازمین کے جائز مطالبات کا منصفانہ فیصلہ، عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، محفوظ اور ڈیجیٹل ریکارڈ، مناسب عملہ اور مؤثر انتظامی نگرانی کسی ایک گروہ کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات نہیں، بلکہ بہتر نظامِ انصاف کی ضروری شرائط ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگر انصاف کی رفتار، عدالتی ریکارڈ کا تحفظ اور اداروں کی انتظامی صلاحیت کو نظرانداز کیا جائے تو ریاست اپنی ہی جنگ کے ایک اہم محاذ کو کمزور چھوڑنے کا خطرہ مول لیتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان شکایات کی سرکاری سطح پر تصدیق ہو، ذمہ داری متعین کی جائے اور اصلاحات کو اعلانات کے بجائے عملی نتائج سے جانچا جائے۔
واپس کریں