
ذرا تصور کریں کہ آپ رات کو آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے دیکھ رہے ہیں۔ چاند اپنی جگہ بدلتا دکھائی دیتا ہے، سورج صبح نکلتا ہے اور شام کو غروب ہو جاتا ہے۔ آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان کے اجرام زمین کے گرد گھوم رہے ہوں۔ اگر آپ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو یہ بات بالکل درست بھی لگتی ہے۔
ہزاروں سال پہلے انسان بھی یہی دیکھتا تھا۔ اس زمانے میں نہ جدید دوربینیں تھیں، نہ خلائی جہاز اور نہ ہی وہ سائنسی آلات جن کی مدد سے آج ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انسان آسمان کو دیکھتا، ستاروں کی جگہ نوٹ کرتا اور ان کی حرکت کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔
اسی کوشش میں قدیم یونانی ماہرِ فلکیات بطلیموس نے ایک ایسا نظام پیش کیا جس کے مطابق زمین کائنات کے مرکز میں ہے اور سورج، چاند اور دوسرے سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اس نظام کو سمجھانے کے لیے اس نے ریاضی اور حساب کتاب کا سہارا لیا۔
اس نظام کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ اس کی مدد سے آسمان پر سیاروں کی بہت سی دیکھی جانے والی حرکتوں کا حساب لگایا جا سکتا تھا۔ لوگ اس نظام کو استعمال کرتے رہے اور صدیوں تک اسے درست سمجھا جاتا رہا۔
لیکن یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی بات کا حساب لگانا آسان ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے حقیقت کو بھی سمجھ لیا ہے؟
بطلیموس کے نظام میں ایک مشکل یہ تھی کہ سیاروں کی حرکت کو سمجھانے کے لیے کئی پیچیدہ حسابی ترکیبیں استعمال کرنا پڑتی تھیں۔ ان میں ایک اہم حسابی ترکیب کو ’’معدل المسیر‘‘ (Equant) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک فرضی نقطہ تھا جسے استعمال کرکے سیاروں کی حرکت کے حساب کو مشاہدات سے ہم آہنگ کیا جاتا تھا۔ اس ترکیب سے پیش گوئیوں کو بہتر بنانے میں مدد ملتی تھی، لیکن اس نے سیاروں کی حقیقی حرکت اور کائنات کی ساخت کے بارے میں اہم سوالات بھی پیدا کیے۔
اس نظام سے بہت سی پیش گوئیاں کی جا سکتی تھیں، لیکن اس کی کامیابی کے باوجود ایک بنیادی سوال باقی تھا کہ کیا آسمان واقعی اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح یہ حساب ہمیں بتاتا ہے؟
یہ سوال اہم تھا، کیونکہ حساب سے کسی چیز کی جگہ کا اندازہ لگانا اور اس چیز کی حقیقی حرکت کو سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔
مثلاً ایک بچہ یہ دیکھتا ہے کہ روزانہ سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ وہ نتیجہ نکالتا ہے کہ سورج زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ غلط نہیں، لیکن اس سے نکالا گیا نتیجہ درست نہیں۔ دراصل زمین اپنے محور پر گھومتی ہے، اسی لیے ہمیں سورج حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یعنی کبھی ہماری آنکھیں ہمیں ایک منظر دکھاتی ہیں، مگر اس منظر کے پیچھے چھپی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
مسلمان سائنس دان ابن الہیثم نے بھی بطلیموس کے فلکیاتی خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا۔ ان کی کتاب ’’الشکوک علیٰ بطلیموس‘‘ میں بطلیموس کے بعض نظریات، حسابی طریقوں اور فلکیاتی نمونوں میں موجود مشکلات اور تضادات پر بحث کی گئی۔ یہ کام ہمیں بتاتا ہے کہ علم کی دنیا میں کسی بڑے نام کا احترام اپنی جگہ، لیکن اس کے ہر خیال کو بلا سوال قبول کرنا ضروری نہیں۔
ابن الہیثم کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے ایک معروف عالم کے نظریات پر سوال اٹھائے، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ علم کو بہتر بنانے کے لیے سوال کرنا، دلیل مانگنا اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔
بعد کے زمانوں میں مشاہدے، ریاضی اور نئے سائنسی طریقوں کی مدد سے انسان نے کائنات کے بارے میں اپنی سمجھ کو بہتر بنایا۔ آج ہم جانتے ہیں کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اور اپنے محور پر بھی گھومتی ہے۔ یہ سمجھ کسی ایک شخص کے اچانک خیال سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ کئی نسلوں کی تحقیق، مشاہدے، سوالات اور تجربات سے آگے بڑھی۔
اس تاریخ سے ہمیں ایک بہت سادہ مگر گہرا سبق ملتا ہے کہ غلطی کرنا علم کی دشمنی نہیں، لیکن اپنی غلطی کو جاننے کے بعد بھی اس پر اصرار کرنا علم کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
سائنس یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ انسان ہر سوال کا جواب جان چکا ہے۔ سائنس کا حسن یہ ہے کہ وہ نئے ثبوت سامنے آنے پر اپنے خیالات کو بہتر بنانے کی گنجائش رکھتی ہے۔ جو بات آج ہمارے علم کے مطابق درست ہے، اسے بھی نئے شواہد کی روشنی میں جانچنے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
یہی رویہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ضروری ہے۔ ہم اکثر کوئی بات اس لیے درست مان لیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا کہتے آئے ہیں، ہمارے دوست اس پر یقین رکھتے ہیں، کسی مشہور شخص نے اسے بیان کیا ہے یا معاشرے میں سب لوگ اسے سچ سمجھتے ہیں۔
لیکن کسی بات کا پرانا ہونا، مشہور ہونا یا بہت سے لوگوں کا اسے ماننا اس کے درست ہونے کا ثبوت نہیں۔ اسی طرح کسی شخص کا بڑا عالم، ماہر یا مشہور ہونا بھی اس کی ہر بات کو غلطی سے پاک نہیں بنا دیتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بات پر بلاوجہ شک کریں یا کسی کی بات سننے سے انکار کر دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو، بات کو سمجھیں، اس کی وجہ جانیں، ثبوت دیکھیں اور دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کریں۔
اگر کوئی کہے کہ ایک خاص چیز کھانے سے بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے تو صرف اس کے یقین سے بات ثابت نہیں ہو جاتی۔ ہمیں جاننا ہوگا کہ اس دعوے کے حق میں کیا ثبوت ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ کوئی منصوبہ کامیاب ہے تو ہمیں اس کے نتائج دیکھنے چاہییں۔ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل پیش کرے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی بات حقیقت اور شواہد سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔
یہی سائنسی سوچ ہے۔ اس کا تعلق صرف تجربہ گاہوں، دوربینوں، سائنس دانوں یا مشکل کتابوں سے نہیں۔ یہ زندگی کو سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔
ایک بچہ بھی سائنسی شعور رکھ سکتا ہے، اگر وہ پوچھے کہ بارش کیوں ہوتی ہے، پودا کیسے بڑھتا ہے، سایہ کیوں بنتا ہے اور دن رات کیسے بدلتے ہیں۔ ایک بالغ شخص بھی اس شعور سے محروم ہو سکتا ہے، اگر وہ ہر سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر درست مان لے۔
سائنسی شعور ہمیں صرف معلومات نہیں دیتا، بلکہ معلومات کو پرکھنے کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ سوال کرنا بدتمیزی نہیں، دلیل مانگنا بے ادبی نہیں اور اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ سب ضروری ہیں۔
بطلیموس کے نظام کی تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کبھی کبھی ایک ایسی وضاحت پر بھی صدیوں یقین رکھ سکتا ہے جو بہت سی باتیں سمجھاتی ہو، مگر حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہ کرتی ہو۔ اس کے حسابی نظام کی افادیت اپنی جگہ، لیکن اس کی کامیابی کائنات کے بارے میں اس کے بنیادی تصور کو حتمی طور پر درست ثابت نہیں کرتی۔ علم آگے اسی وقت بڑھتا ہے جب انسان اپنے حاصل شدہ علم کو آخری منزل سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق کا آغاز بناتا ہے۔
زندگی کی کہانی بھی یہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، سوال کرتے ہیں، غلطی کرتے ہیں اور پھر سیکھتے ہیں۔ یہی سفر ہمیں بہتر انسان اور زیادہ باشعور معاشرہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
سائنسی شعور کا مقصد ہر شخص کو سائنس دان بنانا نہیں، بلکہ ہر شخص کو سوچنے، سمجھنے اور حقیقت کو پرکھنے کے قابل بنانا ہے۔
آخر میں، میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کی زندگی میں کون سی بات ایسی ہے جسے آپ صرف اس لیے درست مانتے ہیں کہ سب لوگ اسے درست سمجھتے ہیں؟
واپس کریں