ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
کسی ملک کی حقیقی دولت کا تعین محض اس کے قدرتی وسائل، زرِ مبادلہ کے ذخائر، صنعتی پیداوار یا مالیاتی اشاریوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس علمی و فنی استعداد سے بھی ہوتا ہے جو اس کے شہریوں کی صلاحیتوں، تجربات، تخلیقی قوت اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں مضمر ہوتی ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے وسائل سے تعلیم یافتہ افراد تیار کرتا ہے، ان کی تربیت پر قومی سرمائے کا ایک بڑا حصہ صرف کرتا ہے، لیکن عملی زندگی میں انہیں ان کی استعداد کے مطابق مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو مسئلہ محض نقل مکانی کا نہیں رہتا، بلکہ قومی ترقی کے بنیادی ڈھانچے میں موجود کسی گہری ناہمواری کی نشان دہی کرنے لگتا ہے۔ پاکستان سے روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار اسی وسیع تر مسئلے پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے وقفۂ سوالات میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو کے سوال کے جواب میں وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز محمد عون ثقلین کی جانب سے پیش کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ تین برس میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ مختلف فنی، انتظامی اور پیشہ ورانہ شعبوں سے وابستہ شہری بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ماہرین، محاسبین، اساتذہ، فارماسسٹ، نرسیں، نظامی تجزیہ کار اور مالیاتی ماہرین ایسے شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں جن کی قومی ترقی، خدمات کی فراہمی اور پیداواری صلاحیت میں بنیادی اہمیت ہے۔ تاہم اس مجموعی تعداد اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے الگ اعداد کو خلط ملط کیے بغیر سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ دونوں مختلف زمروں کی نشان دہی کرتے ہیں۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 2024 میں 45 ہزار 830، 2025 میں 28 ہزار 726 اور 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک گئے۔ ان اعداد کی تشریح کرتے وقت یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ 2026 کے اعداد کس تاریخ تک کے ہیں اور متعلقہ سرکاری درجہ بندی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعریف کیا ہے۔ محض سالانہ تعداد میں کمی یا اضافے سے نہ تو ہجرت کے رجحان میں حتمی تبدیلی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے اسباب متعین کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے سال بہ سال تقابلی جائزے، پیشہ ورانہ زمروں، منزل کے ممالک اور روزگار کی نوعیت سے متعلق مکمل معلومات درکار ہیں۔
اس کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان اپنے تعلیم یافتہ اور ہنرمند شہریوں کے لیے ایسا ماحول کیوں پیدا نہیں کر پاتا جس میں ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی سے مربوط کیا جا سکے؟ اس سوال کا جواب صرف بے روزگاری میں تلاش کرنا ناکافی ہوگا۔ روزگار کی دستیابی کے ساتھ اس کی نوعیت، معاوضے کا معیار، پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات، ادارہ جاتی شفافیت، تحقیق کے مواقع اور مستقبل کے بارے میں اعتماد بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر کے لیے جدید طبی سہولتوں اور تخصصی تربیت تک رسائی، ایک انجینئر کے لیے تحقیق و صنعت میں پیش رفت، اور ایک اطلاعاتی ماہر کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش محض ملازمت کے ضمنی پہلو نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ زندگی کے بنیادی تقاضے ہیں۔
یہاں ایک اہم امتیاز ملحوظ رہنا چاہیے۔ بیرونِ ملک روزگار اختیار کرنا بذاتِ خود قومی نقصان نہیں۔ بین الاقوامی نقل مکانی افراد کو بہتر آمدنی، جدید تجربات اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ترسیلاتِ زر، علم کی منتقلی، کاروباری روابط اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے وطن کی معیشت میں قابلِ قدر حصہ بھی ڈال سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہنرمند افراد کی روانگی کے مقابلے میں نئے ماہرین کی تیاری، مقامی مواقع کی فراہمی اور بیرونِ ملک حاصل شدہ تجربے سے استفادے کا مؤثر نظام موجود نہ ہو۔ ایسی صورت میں انفرادی کامیابی اور قومی ضرورت کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگتا ہے۔
بالخصوص صحت اور تعلیم کے شعبوں میں افرادی قوت کی منصوبہ بندی محض انتظامی معاملہ نہیں، بلکہ عوامی بہبود سے براہِ راست متعلق ہے۔ اگر کسی مخصوص علاقے میں طبی ماہرین کی کمی ہو، تعلیمی اداروں میں قابل اساتذہ کی ضرورت پوری نہ ہو یا صنعتی ترقی کے لیے مطلوبہ تکنیکی صلاحیتیں دستیاب نہ ہوں تو ان خلا کو پُر کرنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تاہم کسی شعبے میں کمی کو صرف بیرونِ ملک ہجرت کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں بھرتیوں، تربیتی استعداد، مقامی تقسیم، ملازمت کے حالات اور ادارہ جاتی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 23 ہزار 674 مینیجرز بھی بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ انتظامی مہارت رکھنے والے افراد کی نقل مکانی اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ جدید معیشت میں صرف ڈگریاں کافی نہیں ہوتیں اداروں کو ایسے افراد بھی درکار ہوتے ہیں جو انسانی وسائل، مالیاتی نظم، عملی منصوبہ بندی اور پیداواری عمل کو مؤثر انداز میں چلا سکیں۔ اگر ملک میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے موزوں ماحول پیدا نہ ہو تو تعلیم و تربیت پر صرف ہونے والا سرمایہ اپنی پوری قومی افادیت حاصل نہیں کر پاتا۔
اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے محض بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد پر تشویش کا اظہار کافی نہیں۔ حکومت کو شعبہ وار افرادی قوت کا قابلِ اعتماد قومی جائزہ مرتب کرنا چاہیے، جس میں مقامی طلب، موجودہ استعداد، مستقبل کی ضروریات اور بیرونِ ملک نقل مکانی کے رجحانات واضح ہوں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے میرٹ پر مبنی بھرتیاں، تحقیق کے لیے مناسب وسائل، صنعت و جامعات کے درمیان تعاون، پیشہ ورانہ ترقی کے شفاف راستے اور کاروبار کے لیے قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے لیے عارضی خدمات، مشترکہ تحقیق، تدریسی تعاون اور سرمایہ کاری کے ایسے راستے کھولے جا سکتے ہیں جن سے ان کا تجربہ قومی ترقی کے کام آئے۔
پاکستان کو اپنے شہریوں کے بہتر مستقبل کے حق اور اپنے قومی مفاد کے درمیان مصنوعی کشمکش پیدا کرنے کے بجائے دونوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی۔ ریاست کا مقصد لوگوں کو بیرونِ ملک جانے سے روکنا نہیں، بلکہ انہیں یہ اعتماد دینا ہونا چاہیے کہ ان کے وطن میں بھی قابلیت کی قدر، محنت کا معقول صلہ اور ترقی کے منصفانہ امکانات موجود ہیں۔ کسی ملک کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے کتنے شہری سرحدیں عبور کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی صلاحیتوں کو کس حد تک بروئے کار لاتا ہے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے ہنرمندوں سے تعلق کو کس قدر نتیجہ خیز بناتا ہے۔ ہجرت کو قومی محرومی میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان انسانی سرمائے کو محض اعداد و شمار نہیں، اپنی معاشی خود کفالت، علمی پیش رفت اور مستقبل کی تعمیر کا بنیادی اثاثہ سمجھے۔
واپس کریں