دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بینکوں کی چاندی، کاروباری ویرانی اور قرضوں پر چلتی سرکار
No image (پشاور) رپورٹ خالد خان سے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ مہنگائی پر قابو پانے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش ہے، لیکن پاکستان کی موجودہ معاشی صورتِ حال میں ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہم شرح سود کے ذریعے معیشت کو مستحکم کر رہے ہیں یا ایک ایسے مالیاتی نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں جس میں حکومت قرض لیتی ہے، بینک منافع کماتے ہیں، مگر صنعت، کاروبار، روزگار اور پیداواری ترقی اپنی مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر پاتے؟
پاکستان کا معاشی مسئلہ محض شرح سود کا نہیں، بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرضوں پر انحصار کرتی ہے اور بینکاری نظام کے لیے حکومتی قرضے ایک پرکشش کاروبار بن جاتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر رقوم درکار ہوتی ہیں، بینکوں کے پاس عوام کے جمع کردہ ڈپازٹس اور دیگر مالی وسائل ہوتے ہیں، چنانچہ بینک حکومتی ٹریژری بلز اور بانڈز میں سرمایہ لگاتے ہیں اور طے شدہ شرائط کے مطابق منافع حاصل کرتے ہیں۔ اس انتظام میں حکومت کو اپنے اخراجات چلانے کے لیے رقم مل جاتی ہے اور بینکوں کو نسبتاً قابلِ پیش گوئی آمدنی کا ذریعہ دستیاب ہو جاتا ہے، لیکن اس سارے عمل میں ایک بنیادی سوال نظرانداز ہو جاتا ہے کہ ملک میں نئی دولت، نئی صنعتیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟
یہ محض ایک نظریاتی خدشہ نہیں۔ سٹیٹ بینک کی مالیاتی جائزہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی بینکوں کے اثاثوں میں حکومتی سکیورٹیز کا حصہ بہت بڑھ چکا ہے۔ جب بینکاری نظام کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں کی مالی معاونت میں مصروف ہو تو نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی، ان کی لاگت اور سرمایہ کاری کی ترجیحات پر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ معاشیات میں اس رجحان کو کراؤڈنگ آؤٹ (Crowding Out) کہا جاتا ہے، یعنی حکومت کی بھاری قرض طلب نجی شعبے کے لیے مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی گنجائش کم کر دیتی ہے۔
ایک بینک کے سامنے دو راستے ہوں تو وہ لازماً اس راستے کو ترجیح دے گا جس میں خطرہ کم، انتظامی اخراجات محدود اور منافع نسبتاً قابلِ پیش گوئی ہو۔ حکومت کو قرض دینا عموماً اس کے لیے ایک آسان انتخاب ہوتا ہے، جبکہ کسی نئی فیکٹری، چھوٹی صنعت، زرعی کاروبار یا برآمدی منصوبے کو قرض دینے کے لیے کاروبار کی جانچ، ضمانتوں، نگرانی اور قرض کی واپسی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر حکومتی سکیورٹیز پُرکشش منافع دے رہی ہوں تو بینکوں کے لیے پیداواری شعبوں میں سرمایہ لگانے کی ترغیب کم ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بینک نجی شعبے کو قرض دیتے ہی نہیں یا حکومتی قرضوں میں کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ سرمایہ کاری کی ترجیحات اور دونوں راستوں کے درمیان ترغیبات کا ہے۔
اس صورتِ حال کے اثرات عام شہری کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ کوئی نوجوان کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے، کوئی صنعت کار مشینری درآمد کرکے پیداوار بڑھانا چاہتا ہے، کوئی کسان جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنا چاہتا ہے اور کوئی چھوٹا تاجر اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ اگر ان سب کے لیے قرض مہنگا ہو یا دستیاب نہ ہو تو منصوبے کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوتیں، پیداوار میں اضافہ سست پڑ جاتا ہے اور ملک کی برآمدی صلاحیت مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھتی۔ دوسری طرف حکومتی قرضوں پر منافع کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یوں مالیاتی نظام میں سرگرمی تو دکھائی دیتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سرگرمی کے نتیجے میں قومی پیداواری صلاحیت بھی اسی تناسب سے بڑھے۔
یہاں حکومت کی ذمہ داری کا سوال سب سے اہم ہے۔ حکومت اگر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لیتی رہے، تو قرضوں پر سود اور منافع کی ادائیگی بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔ پھر ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، تحقیق، آب پاشی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ نئے قرضوں سے پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگی کا دباؤ بڑھتا جائے تو معیشت ایک ایسے چکر میں پھنس سکتی ہے جس میں قرض لینے کی ضرورت مزید قرض پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سرکاری قرض نقصان دہ ہے۔ اگر قرض پیداواری منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور ایسی سرمایہ کاری پر خرچ ہو جو مستقبل میں آمدنی اور معاشی صلاحیت بڑھائے تو اس کا جواز موجود ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قرض بڑھتا رہے مگر اس کے مقابلے میں پیداواری صلاحیت، برآمدات اور سرکاری آمدنی میں مناسب اضافہ نہ ہو۔
شرح سود میں اضافہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بلند پالیسی ریٹ عام طور پر کاروباری قرضوں کی لاگت بڑھاتا ہے، سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کرتا ہے اور معاشی سرگرمی کو سست کر سکتا ہے۔ تاہم سٹیٹ بینک کے پاس مہنگائی پر قابو پانے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے شرح سود ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ہو یا مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ ہو تو مرکزی بینک شرح سود میں اضافے کو ضروری سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اس پالیسی کی کامیابی کا جائزہ صرف اس بات سے نہیں لیا جا سکتا کہ شرح سود بڑھا دی گئی؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مہنگائی کتنی کم ہوئی، کاروباری سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑا، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کس سمت گئی اور معاشی نمو میں کتنا اضافہ ہوا۔
ایک اور سوال بینکوں کی کاروباری ترجیحات کا ہے۔ اگر بینکوں کی آمدنی کا بڑا حصہ حکومتی سکیورٹیز سے حاصل ہو رہا ہو تو انہیں صنعتی قرضوں، چھوٹے کاروباروں اور نئے پیداواری منصوبوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مؤثر معاشی ترغیبات اور مناسب ضابطہ جاتی پالیسی درکار ہوگی۔ اس کا حل بینکوں کو زبردستی قرض دینے پر مجبور کرنا نہیں، کیونکہ غیر محتاط قرضوں سے بینکاری نظام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اصل حل ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں قابلِ عمل کاروباروں کو مناسب شرائط پر مالی وسائل میسر ہوں، قرض کی واپسی کا نظام بہتر ہو، کاروباری قوانین واضح ہوں اور سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کے اچانک بدلنے کا خوف نہ ہو۔
حکومت کو بھی اپنے طرزِ حکمرانی میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا، سرکاری اداروں کے خسارے پر قابو پانا، ترقیاتی بجٹ کو پیداواری ترجیحات سے جوڑنا اور قرضوں کے استعمال میں شفافیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ محض مزید ٹیکس لگا کر یا شرح سود بڑھا کر معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کو ایسی صنعتوں کی ضرورت ہے جو مقامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ برآمدات میں اضافہ کریں، ایسے زرعی منصوبوں کی ضرورت ہے جو فی ایکڑ پیداوار بڑھائیں، اور ایسی چھوٹی و درمیانی صنعتوں کی ضرورت ہے جو کم سرمایہ سے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کر سکیں۔
سٹیٹ بینک اور حکومت کی ذمہ داریاں بھی الگ الگ مگر باہم مربوط ہیں۔ مرکزی بینک کو قیمتوں کے استحکام اور مالیاتی پالیسی کے اثرات پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ حکومت کو مالیاتی خسارے، قرضوں، پیداواری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا چاہیے۔ اگر حکومت اپنی قرض طلب کم نہیں کرتی اور بینکوں کے لیے حکومتی قرضے مسلسل سب سے پُرکشش راستہ بنے رہتے ہیں تو صرف پالیسی ریٹ میں کمی بھی نجی سرمایہ کاری میں مطلوبہ اضافہ یقینی نہیں بنا سکتی۔ اس کے برعکس اگر کاروباری ماحول بہتر ہو، حکومت کے قرض لینے کی ضرورت گھٹے اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں تو بینکاری نظام قومی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی معیشت کا بنیادی مقصد محض قرضوں کے ذریعے موجودہ اخراجات چلانا ہے یا پیداوار، برآمدات، روزگار اور قومی آمدنی میں مستقل اضافہ کرنا۔ بینکوں کا منافع اپنی جگہ، حکومتی مالی ضروریات اپنی جگہ، اور مہنگائی پر قابو پانا بھی ضروری ہے، لیکن ان سب کے درمیان عام شہری، صنعت کار، کسان، مزدور اور بے روزگار نوجوان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ معیشت کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ حکومت کو مزید قرض مل گیا یا بینکوں نے زیادہ منافع کما لیا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ملک میں کتنی نئی صنعتیں لگیں، کتنے روزگار پیدا ہوئے، کتنی پیداوار بڑھی، برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا اور عام آدمی کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔
قرض لینا بذاتِ خود معاشی جرم نہیں، لیکن قرض کو مستقل طرزِ حکمرانی بنا لینا خطرناک ہے۔ شرح سود معاشی پالیسی کا ایک آلہ ہے، ترقی کا متبادل نہیں۔ پاکستان کو قرضوں پر چلنے والی معیشت سے نکل کر پیداوار اور سرمایہ کاری پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ورنہ حکومت قرض لیتی رہے گی، بینک منافع کماتے رہیں گے، سود کی ادائیگیاں بڑھتی رہیں گی اور ملک کی حقیقی معاشی ترقی اپنی صلاحیت سے بہت کم رہے گی۔
واپس کریں