دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
رنگ روڈ پر 52.5 فٹ اراضی کی کٹوتی کا تنازع، مالکانِ زمین کا معاوضے اور مذاکرات کا مطالبہ
No image (پشاور) خالد خان سے
پشاور رنگ روڈ کے اطراف اراضی کی حد بندی اور تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی نے زمین مالکان اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان تنازع کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ رِنگ روڈ لینڈ اونرز ایسوسی ایشن پشاور نے پشاور پریس کلب میں منعقدہ ہنگامی اجلاس کے دوران مؤقف اختیار کیا ہے کہ رنگ روڈ کے ساتھ 52.5 فٹ اراضی کی کٹوتی کے معاملے میں نجی ملکیت کے حقوق اور معاوضے کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ہاشم علی خان اور رہنما حاجی شفاعت اللہ کی قیادت میں منعقدہ اجلاس میں مالکانِ اراضی نے مطالبہ کیا کہ کارروائی سے متاثر ہونے والی زمین کی ملکیت کا تعین متعلقہ ریونیو ریکارڈ، انتقالات اور دیگر قانونی دستاویزات کی بنیاد پر کیا جائے اور اگر نجی اراضی عوامی منصوبے کے لیے حاصل کرنا ضروری ہو تو قانون کے مطابق منصفانہ معاوضہ ادا کیا جائے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ضلعی انتظامیہ نے رنگ روڈ پر تجاوزات کے خلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس کارروائی کا مقصد سڑک کی حدود بحال کرنا، غیرقانونی تعمیرات ہٹانا اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ہے۔ دوسری جانب مالکانِ اراضی کا کہنا ہے کہ نجی ملکیت کی حامل زمین اور سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کے درمیان واضح فرق کرنا ضروری ہے۔
اس معاملے پر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا بھی ستمبر 2024 میں قرارداد نمبر 86 منظور کر چکی ہے۔ قرارداد میں رنگ روڈ کے ساتھ اراضی کے مالکان کو واجبات ادا کرنے، مزید درکار زمین کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقرر کرنے اور ادائیگی تک پی ڈی اے کی کارروائی روکنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس قرارداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاوضے اور اراضی کے حقوق کا معاملہ حالیہ کارروائی سے پہلے بھی صوبائی سطح پر اٹھایا جا چکا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے رواں ماہ رنگ روڈ کے شمالی حصے کی تعمیر کے لیے پہلے سے حاصل کی گئی اراضی کے ایک مقدمے میں معاوضے کی شرح آٹھ لاکھ روپے فی مرلہ سے کم کرکے چار لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کی تھی، جبکہ قانونی شرائط کے مطابق اضافی معاوضے اور سود کا معاملہ بھی فیصلے میں شامل تھا۔ تاہم یہ عدالتی فیصلہ مخصوص اراضی کے حصول سے متعلق ہے؛ اسے موجودہ کارروائی میں زیرِ بحث تمام زمینوں کے معاوضے کی عمومی شرح قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایسوسی ایشن نے حکومتِ خیبر پختونخوا، پی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مالکان کے تحفظات سننے کے لیے فوری مذاکرات کیے جائیں، زمین کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اور معاوضے کے معاملے کو قانون کے مطابق حل کیا جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق مالکان ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں، لیکن اپنی نجی اراضی کے حقوق متاثر ہونے کی صورت میں وہ پُرامن اور قانونی راستے اختیار کریں گے۔
اب اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کارروائی کے دوران زیرِ اعتراض زمین کی اصل قانونی حیثیت کیا ہے، 52.5 فٹ کی حد بندی کس منظور شدہ نقشے یا قانونی حکم کے تحت کی جا رہی ہے، اور آیا متعلقہ اراضی پہلے ہی حاصل کرکے اس کا معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے یا نہیں۔ ان سوالات کا جواب متعلقہ نقشوں، حصولِ اراضی کے نوٹیفکیشنز، ریونیو ریکارڈ اور پی ڈی اے کے مؤقف سے ہی واضح ہو سکتا ہے۔
واپس کریں