
ریاست اسی وقت مضبوط اور قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے جب وہ اپنے شہریوں کو یہ یقین دلائے کہ ان کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا لیکن جب کسی شخص کو خواہ اس کے چشم دید گواہ موجود ہوں اور اسے عدالت میں پیش کیے بغیر قتل کر دیا جائے، جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی الزام، تفتیش اور سزا دینے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیں، تو یہ صورتِ حال کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتی ہے کہ کیا ریاست اپنے عدالتی نظام پر اعتماد کرنے کے بجائے فوری اور غیر عدالتی اقدامات کو ترجیح دینے لگی ہے؟
جب کسی ملزم کو عدالتی عمل سے گزارنے کے بجائے ریاستی طاقت کے استعمال سے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے، تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کے بعض ادارے اپنے ہی عدالتی نظام کو مؤثر نہیں سمجھتے یا اس کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بجائے خود فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
ماورائے عدالت قتل کے حق میں بعض اوقات یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عدالتی نظام سست روی کا شکار ہے، مقدمات برسوں چلتے ہیں، گواہان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور بااثر ملزمان سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں بعض لوگ فوری کارروائی کو جرائم کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے کہ انصاف میں تاخیر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ لیکن اس کا حل عدالتی عمل کو نظرانداز کرنا نہیں، بلکہ اسے تیز، مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔ اگر ریاست خود قانون سے تجاوز کرنے لگے تو وہ انھی اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہے جن کی حفاظت کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔
فوری کارروائی اور فوری انصاف میں بنیادی فرق ہے۔ فوری انصاف کا مطلب یہ ہے کہ تفتیش جلد مکمل ہو، مقدمے کی سماعت بروقت ہو اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اس کے برعکس، ماورائے عدالت قتل میں ملزم کو دفاع کا موقع نہیں ملتا، شواہد کی آزادانہ جانچ نہیں ہوتی اور غلط شناخت یا جھوٹے الزام کی صورت میں بے گناہ شخص کی زندگی بھی چھن سکتی ہے۔
پاکستان کا آئین شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ آرٹیکل 9 شخص کی زندگی اور آزادی کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10-A منصفانہ سماعت اور قانونی عمل کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ ان آئینی ضمانتوں کا تقاضا ہے کہ کسی شخص کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق ہو اور اسے منصفانہ سماعت کا موقع دیا جائے۔
ان حقوق کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کسی شخص پر سنگین جرم کا الزام ہو۔ قانون کی حکمرانی کا امتحان اس بات میں نہیں کہ ریاست بے گناہ افراد کے حقوق کا احترام کس حد تک کرتی ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ ایک مشتبہ یا ملزم شخص کے ساتھ کس طرح پیش آتی ہے۔ اگر ریاست کسی ملزم کو بھی قانونی تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو پھر کسی بھی شہری کے حقوق غیر محفوظ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ماورائے عدالت قتل کے اثرات مقتول اور اس کے خاندان تک محدود نہیں رہتے۔ جب کسی واقعے کی شفاف تحقیقات نہیں ہوتیں، تو معاشرے میں خوف، بے یقینی اور بداعتمادی بڑھ سکتی ہے۔ شہری یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ قانون کے بجائے طاقت، تعلقات یا سماجی حیثیت پر منحصر ہے۔
پاکستان میں ماورائے عدالت قتل کا مسئلہ محض پولیس کارروائیوں یا امن و امان تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاستی اختیار، عدالتی آزادی، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے واقعات یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ آیا بعض ادارے عدالتی عمل پر اعتماد کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم، اس سوال کا حتمی جواب عمومی تاثر کے بجائے شواہد، تحقیقات اور ادارہ جاتی طرزِ عمل کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے۔
ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو قانون سے بالاتر ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنی طاقت کو بھی قانون کے تابع رکھے۔ اگر کوئی شخص مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، شواہد کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر سزا دی جائے۔ یہی طریقہ انصاف، امن اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ریاست کی اصل قوت بندوق کی طاقت میں نہیں، بلکہ قانون کی غیر جانب داری، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے اس اعتماد میں ہے کہ کسی کی جان اور آزادی کا فیصلہ ذاتی خواہش یا ماورائے عدالت اختیار کے تحت نہیں، بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔
واپس کریں