دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کا سیاسی ہنی مون! حبِ جمہوریت یا بغضِ فیلڈ مارشل؟
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان
سیاست میں مخالفین کا ایک جگہ جمع ہونا کوئی انہونی بات نہیں، لیکن جب ایک دوسرے کو نظریاتی طور پر ناقابلِ قبول قرار دینے والے رہنما اچانک ایک دوسرے کے سیاسی حقوق کے محافظ بن جائیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کے نظریات میں تبدیلی آئی ہے یا حالات نے ان کی ترجیحات بدل دی ہیں؟ عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کی موجودہ سیاسی قربت اسی سوال کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ محض تین رہنماؤں کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاست میں اصول، اقتدار، جمہوریت اور سیاسی ضرورت کے باہمی تعلق کو سمجھنے کا موقع بھی ہے۔
اس اتحاد کو سمجھنے کے لیے تینوں رہنماؤں کی سیاسی تاریخ کو ان کے اپنے دعووں کی کسوٹی پر رکھنا ہوگا۔ عمران خان تبدیلی، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمٰن مذہبی سیاست، اسلامی نظام اور دینی اقدار کی نمائندگی کے دعوے کے ساتھ کئی دہائیوں سے سیاست میں موجود ہیں۔ محمود خان اچکزئی آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری اور سیاست میں فوجی مداخلت کی مخالفت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ بظاہر تینوں کی منزلیں الگ ہیں، لیکن آج ان کی سیاسی ترجیحات ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس قربت کے پیچھے کوئی مشترکہ نظریاتی بنیاد موجود ہے یا موجودہ سیاسی حالات نے انہیں ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیا ہے؟
عمران خان کی سیاست کا تضاد ان کے اقتدار سے پہلے اور اقتدار کے دوران اختیار کیے گئے رویوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک عرصے تک فوجی قیادت کے ساتھ ہم آہنگی کو اپنی حکومت کے استحکام کا ذریعہ سمجھتے رہے اور اپنی حکومت کے ابتدائی دور میں اس قربت کو سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ بعد میں یہی تعلق شدید تصادم میں بدل گیا۔ ان کے حامی اس تبدیلی کو مداخلت کے خلاف مزاحمت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر فوج کی سیاست میں مداخلت بنیادی طور پر غلط ہے تو اس اصول کا اطلاق اس وقت بھی ہونا چاہیے تھا جب سیاسی حالات عمران خان کے حق میں تھے۔ کسی بھی رہنما کی جمہوریت پسندی کا امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب اس کے خلاف فیصلے ہو رہے ہوں، بلکہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب اسے طاقت ور حلقوں کی حمایت حاصل ہو۔
اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے دوران ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے اقدامات کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے، جسے عمران خان کے سیاسی ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا پارلیمانی طریقۂ کار کی پاسداری کا اصول سیاسی بحران میں بھی اتنا ہی اہم رہتا ہے جتنا اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہوتا ہے؟
عمران خان کی محمود خان اچکزئی کے روایتی پشتون چادر کا مذاق اڑانے کے واقعے کو محض دو سیاست دانوں کی باہمی تلخی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ پشتون معاشرے میں روایتی لباس ثقافتی شناخت اور وقار کی علامت ہے۔ کسی شخص کی سیاسی پالیسی پر سخت تنقید کرنا ایک بات ہے اور اس کی ثقافتی شناخت کو تمسخر کا نشانہ بنانا دوسری بات۔
عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ’’ڈیزل‘‘ جیسا تحقیر آمیز لقب استعمال کیا اور ان کی سیاست کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا بھی عمران خان کی سیاست اور طرزِ حکومت کے شدید مخالف رہے۔ آج اگر دونوں ایک دوسرے کے سیاسی حقوق کے تحفظ اور مشترکہ سیاسی جدوجہد کے لیے قریب آ رہے ہیں تو اسے محض ماضی کی تلخیوں کو بھلانا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی اختلاف کے باوجود تعاون جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اگر کل کسی رہنما کو ذاتی یا نظریاتی بنیاد پر ناقابلِ قبول کہا جاتا تھا اور آج اسی کے ساتھ تعاون ضروری ہو گیا ہے تو عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ تبدیلی کن اصولوں کی بنیاد پر آئی ہے۔ سیاسی بلوغت یہ ہے کہ مخالف کو بھی اس کے جائز حقوق دیے جائیں؛ سیاسی مصلحت یہ ہے کہ مخالف کے حقوق کا احساس صرف اس وقت جاگے جب اپنے حقوق خطرے میں ہوں۔ ان دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کا جائزہ بھی اسی معیار پر لیا جانا چاہیے۔ وہ جمہوریت اور پارلیمانی سیاست کے حامی رہے ہیں، لیکن ان کا سیاسی ریکارڈ اقتدار اور آئینی سمجھوتوں سے خالی نہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں متحدہ مجلس عمل نے طویل مذاکرات کے بعد 2003 میں سترھویں آئینی ترمیم کی منظوری میں حصہ لیا۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں مشرف کے فوجی اقتدار کو آئینی جواز ملا اور ان کی صدارت برقرار رکھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس وقت اس فیصلے کو سیاسی مصلحت اور جمہوری اصولوں سے انحراف کے تناظر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
مولانا کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی سیاست میں اصول اور مصلحت کے درمیان کشمکش نئی نہیں۔ مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دوسری جماعتوں کے ساتھ ان کا تعاون اس بات کی مثال ہے کہ وہ سیاسی حالات کے مطابق اپنے اتحادی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اصول بھی اتحادیوں کے ساتھ بدل جاتے ہیں؟ اگر فوجی مداخلت کے خلاف مزاحمت جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے تو اس کا معیار مشرف کے دور میں بھی وہی ہونا چاہیے تھا جو آج ہے۔ اور اگر کسی وقت سیاسی سمجھوتہ ناگزیر تھا تو آج کے سیاسی سمجھوتے کو بھی اسی حقیقت پسندانہ معیار پر جانچنا ہوگا، نہ کہ اسے خودبخود اصولی جدوجہد قرار دے دیا جائے۔
مولانا کی سیاست میں ایک اور اہم سوال مذہبی اصولوں اور عملی سیاسی فیصلوں کے تعلق کا ہے۔ بینظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے معاملے میں مذہبی سیاست کے اندر عورت کی حکمرانی کے بارے میں پائے جانے والے اعتراضات اور بعد میں بینظیر حکومتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کا تقابل کیا جا سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت نے مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی تعاون کیا۔ اصل سوال بہرحال اہم ہے کہ مذہبی سیاست میں جو اصول عورت کی سیاسی قیادت کے بارے میں بیان کیے جاتے ہیں، کیا وہ ہر جماعت اور ہر سیاسی صورت حال پر یکساں لاگو ہوتے ہیں؟ اگر سیاسی ضرورت کے تحت سابقہ اختلافات پر نظرثانی کی جائے تو اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی کردار کا ایک اور اہم امتحان ہے۔ اکتوبر 2024 میں انہوں نے ترمیم کے مسودے پر مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کیا اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں حصہ لیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترمیم عدلیہ اور پارلیمان کے تعلقات کو بہتر بنانے اور جمہوری نظام کے تحفظ میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری طرف ناقدین نے عدالتی تقرریوں، آئینی بنچوں اور عدلیہ کی آزادی پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں اعتراضات اٹھائے۔ مولانا نے بعد میں بعض حکومتی اقدامات، خصوصاً انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ایسی تبدیلیوں کی مخالفت کی جنہیں انہوں نے جمہوریت اور شہری حقوق کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
اس معاملے میں سوال یہ نہیں کہ آئینی ترمیم کی حمایت کرنا بذاتِ خود آمرانہ طرزِ عمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ترمیم کے ذریعے ریاستی اداروں کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی کے بارے میں جو سمجھوتہ کیا گیا، وہ مولانا کے جمہوری اصولوں سے مطابقت رکھتا تھا؟ اگر ان کا مؤقف یہ تھا کہ ترمیم جمہوریت کو مضبوط کرے گی تو اس کے عملی نتائج کا جائزہ بھی اسی معیار پر ہونا چاہیے۔ کسی آئینی تبدیلی کو محض اس وجہ سے جمہوری نہیں کہا جا سکتا کہ اسے پارلیمان نے منظور کیا، اور نہ ہی ہر آئینی سمجھوتے کو بلا تفریق آمرانہ قرار دینا درست ہے۔ اصل معیار اس کے مندرجات، طریقۂ منظوری اور جمہوری اداروں پر اثرات ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا معاملہ کچھ مختلف ہے، کیونکہ ان کی سیاسی شناخت نسبتاً واضح طور پر آئین کی بالادستی اور فوجی مداخلت کی مخالفت سے جڑی رہی ہے۔ ان کے مؤقف کو محض اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ آج وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کسی سیاسی رہنما کے درست مؤقف کی تائید اس کے ماضی کے اختلافات کی بنیاد پر نہیں بلکہ دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ تاہم اچکزئی کے اپنے سیاسی طرزِ عمل کو بھی اسی معیار سے جانچنا ضروری ہے جس کا وہ ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں۔
ان کے خاندان کے افراد کی اہم سیاسی اور سرکاری مناصب تک رسائی، ان کی جماعت میں طویل عرصے سے قیادت کا تسلسل، اور فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت ایسے معاملات ہیں جن پر سنجیدہ سیاسی بحث کی گنجائش موجود ہے۔ یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جماعتوں کے اندر قیادت کی تبدیلی، سیاسی خاندانوں کے اثرورسوخ اور قبائلی عوام کے آئینی حقوق کے بارے میں ان کے اصول کیا ہیں؟ آئین کی بالادستی کا دعویٰ صرف وفاقی حکومت یا فوجی قیادت کے سامنے نہیں، اپنی جماعت، اپنے خاندان اور اپنے سیاسی فیصلوں کے معاملے میں بھی جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔
اچکزئی کی سیاست میں افغان طالبان کے بارے میں ان کے مؤقف کو بھی اسی تناظر میں جانچنے کی ضرورت ہے۔ وہ خود کو پشتون قوم پرست اور پشتون حقوق کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔ مگر ان سے یہ بیان بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ افغان طالبان کے وزیر خارجہ ہیں۔ تاہم اچکزئی وسیع تر سیاسی تناظر میں پشتون قوم پرستی، افغان طالبان کے ساتھ سیاسی ہمدردی اور پاکستانی پشتون علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی مسلح کارروائیوں کے درمیان فرق کو کس طرح واضح کرینگے؟
پاکستانی پشتون آبادی نے تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی، قتل و غارت، بے دخلی اور عدم تحفظ کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس لیے پشتون قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی رہنما سے یہ پوچھنا جائز ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے تشدد اور پشتون عوام کے قتل کے بارے میں کیا واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ اگر وہ عمران خان کے ساتھ سیاسی اتحاد کرتے ہیں تو عمران خان کی سابقہ حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی، مذاکرات اور ریاستی ذمہ داریوں پر بھی کھلی بحث ہونی چاہیے اور گورنر راج،ایمرجنسی اور
فاٹا کے انضمام پر اختلاف کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ قبائلی علاقوں کے مستقبل، انتظامی تیاری، مقامی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں تحفظات اپنی جگہ قابلِ بحث تھے، لیکن قبائلی عوام کو ملک کے دوسرے شہریوں کے برابر آئینی حقوق دینے کا بنیادی سوال بھی اہم تھا۔ کسی مؤقف کی جمہوری حیثیت کا تعین اس سے نہیں ہوتا کہ اسے کس جماعت نے اختیار کیا، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ عوام کے حقوق، نمائندگی اور اختیار کے لیے کتنا موزوں تھا۔
یہ ایک واضح تاریخی حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی دونوں نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی تھی۔ مولانا نے انضمام کو غیر ملکی ایجنڈے سے جوڑا، جبکہ اچکزئی نے قبائلی علاقوں کے لیے متبادل انتظامی ڈھانچے کی تجاویز پیش کیں۔ اس وقت انضمام کے حامیوں میں عمران خان کی جماعت بھی شامل تھی۔ آج اگر قبائلی علاقوں میں پرانے انتظامی نظام کی بحالی، اختیارات کی مرکزیت یا عوامی حقوق میں ممکنہ کمی کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں تو یہ پوچھنا ضروری ہے کہ مولانا اور اچکزئی کے سابقہ مؤقف اور موجودہ اعتراضات میں کیا تعلق ہے۔ کیا وہ اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہیں؟ کیا انہوں نے قبائلی عوام کے تجربات کی روشنی میں اپنی رائے تبدیل کی ہے؟ یا اب اس معاملے کی اہمیت سیاسی حالات کے مطابق بدل گئی ہے؟ کسی نئے نظام یا فوجی کردار کی بحالی کے الزام کو الگ سے ثابت کرنا ہوگا، لیکن ماضی کے ریکارڈ کا موجودہ مؤقف سے تقابل بہرحال ناگزیر ہے۔
اب تینوں رہنماؤں کی موجودہ قربت کی طرف آئیے۔ عمران خان کی سیاست کا بنیادی نعرہ تبدیلی اور احتساب رہا، مولانا کی سیاست مذہبی نظریے اور سیاسی مفاہمت کے امتزاج سے آگے بڑھی، جبکہ اچکزئی نے آئینی بالادستی کو اپنی سیاسی شناخت کا مرکزی حصہ بنایا۔ ان تینوں میں نظریاتی یکسانیت کا دعویٰ کرنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود جب سیاسی حقوق، پارلیمان کے کردار اور ریاستی طاقت کے استعمال کے معاملات میں ان کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو تعاون کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ یہ تعاون جمہوری سیاست میں جائز بھی ہو سکتا ہے اور ضروری بھی۔ لیکن اس کی اصل حیثیت کا فیصلہ مشترکہ مخالف کی موجودگی نہیں، مشترکہ اصولوں کی پابندی کرے گی۔
یہاں اس مضمون کے سرخی کا دوسرا حصہ سامنے آتا ہے کہ حبِ جمہوریت یا بغضِ فیلڈ مارشل؟ یہ سوال اپنی جگہ تیکھا ہے، لیکن اس کا جواب کسی ایک رہنما کی نیت کے بارے میں قیاس آرائی کرکے نہیں دیا جا سکتا۔ فیلڈ مارشل سے مخالفت بذاتِ خود جمہوریت پسندی کا ثبوت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے کسی فوجی قیادت سے قربت بذاتِ خود کسی سیاست دان کو جمہوریت دشمن ثابت نہیں کرتی۔ اصل معیار یہ ہے کہ سیاسی رہنما ریاستی اداروں کے آئینی دائرۂ اختیار، پارلیمان کی خودمختاری، آزاد سیاسی سرگرمی، اختلافِ رائے اور عوام کے ووٹ کی حرمت کے بارے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں اور عملی طور پر اس پر کتنا قائم رہتے ہیں۔
یہاں عمران خان کے سیاسی مخالفین کے سابقہ مؤقف کا تضاد بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک وقت تھا جب مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی جیسے سیاسی مخالفین عمران خان کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ حکومت قرار دیتے تھے اور ان کی سیاسی حیثیت پر سوال اٹھاتے تھے۔ آج وہی عمران خان ان کے سیاسی تعاون کا مرکز ہیں۔ اس تبدیلی کو جمہوری مفاہمت کا نام دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا عمران خان کے بارے میں ان کا سابقہ تجزیہ غلط تھا، کیا حالات بدل گئے ہیں، یا اب جمہوریت کا اصول انہیں سابقہ اختلافات سے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہا ہے؟ اگر کل عمران خان کو فوجی قیادت کا بغل بچہ قرار دیا جاتا تھا اور آج ان کی سیاسی جدوجہد کو جمہوریت کی جدوجہد سمجھا جا رہا ہے تو اس تبدیلی کی بنیاد بھی عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
اگر عمران خان آج اس اصول کے حامی ہیں کہ منتخب حکومتوں کے معاملات میں غیر آئینی مداخلت نہیں ہونی چاہیے تو اس اصول کو اپنے دورِ اقتدار کے واقعات کے تناظر میں بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن جمہوریت کو سیاسی جدوجہد کا بنیادی معیار سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے سابقہ سیاسی سمجھوتوں کا بھی اسی معیار پر دفاع کرنا ہوگا۔ اگر محمود خان اچکزئی آئینی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو ان کے اپنے سیاسی اور جماعتی طرزِ عمل کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ اصول کی ساکھ اسی وقت قائم ہوتی ہے جب وہ اپنے حامیوں اور مخالفین دونوں کے لیے یکساں ہو۔
یہاں ایک اور بات بھی اہم ہے۔ سیاسی اتحاد کو صرف اس بنیاد پر رد کر دینا کہ اس میں ماضی کے مخالفین اکٹھے ہو گئے ہیں، جمہوریت کے مفہوم کو محدود کرنا ہوگا۔ سیاست میں اختلافات کے باوجود مشترکہ نکات تلاش کرنا ایک مثبت عمل ہے۔ عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی اگر واقعی پارلیمان کی بالادستی، سیاسی قیدیوں کے قانونی حقوق، آزادانہ سیاسی سرگرمی اور آئینی حدود کی پاسداری کے لیے مل کر کام کرتے ہیں تو اس تعاون کو محض ذاتی دشمنی کا نتیجہ قرار دینا انصاف نہیں ہوگا۔ لیکن اگر یہ اتحاد صرف موجودہ طاقت کے مراکز سے تصادم تک محدود رہتا ہے، اور کل حالات بدلنے پر یہی رہنما وہی اصول بھلا دیتے ہیں، تو پھر اسے جمہوری تبدیلی کے بجائے وقتی سیاسی مصلحت کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی ایک دوسرے کے قریب کیوں آ گئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس قربت نے ان کے سیاسی طرزِ عمل میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ کیا یہ اتحاد اپنے شرکا کو ماضی کے تضادات کا جائزہ لینے، سیاسی مخالفین کے حقوق تسلیم کرنے اور پارلیمانی جمہوریت کے لیے مستقل اصول وضع کرنے پر آمادہ کرتا ہے؟ کیا یہ رہنما اپنے اپنے حامیوں کو بھی سمجھانے کے لیے تیار ہیں کہ جمہوریت صرف اس وقت عزیز نہیں ہونی چاہیے جب اقتدار ہاتھ سے نکل جائے؟ کیا یہ اتحاد اپنے مخالفین کے لیے بھی وہی قانونی اور سیاسی آزادی قبول کرے گا جس کا مطالبہ آج اپنے لیے کیا جا رہا ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آتے ہیں تو اس سیاسی ہنی مون کو ایک وسیع تر جمہوری مفاہمت کا آغاز سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا اور مشترکہ مخالفت ہی اس اتحاد کی واحد بنیاد رہتی ہے تو اس کی پائیداری اور اصولی حیثیت دونوں مشکوک رہیں گی۔
میری رائے میں ان تینوں رہنماؤں کی موجودہ قربت کو نہ پہلے ہی مرحلے پر جمہوریت کی فتح قرار دینا درست ہے اور نہ اسے محض بغضِ فیلڈ مارشل کا نتیجہ سمجھ کر مسترد کرنا۔ ان کے ماضی میں اصولی جدوجہد بھی موجود ہے اور ایسے سیاسی فیصلے بھی جن پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ لیکن ان کی موجودہ سیاست کا فیصلہ ان کے دعووں سے نہیں، ان کے آئندہ طرزِ عمل سے ہوگا۔ اگر جمہوریت واقعی ان کی مشترکہ منزل ہے تو اس کا ثبوت صرف مخالفت میں نہیں، اقتدار، اختلاف، احتساب اور آئینی پابندی کے ہر مرحلے پر دینا ہوگا۔
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اکثر اصول اس وقت یاد آتے ہیں جب سیاسی نقصان اپنا ہو، اور وہی اصول اس وقت پس منظر میں چلے جاتے ہیں جب اقتدار یا سیاسی فائدہ سامنے ہو۔ عمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی کے لیے بھی اصل امتحان یہی ہے کہ کیا وہ جمہوریت کو اپنے لیے تحفظ کی ڈھال سمجھتے ہیں یا ایک ایسا اصول جس کی پابندی اپنے مخالفین کے حق میں بھی لازم ہے؟
سیاسی ہنی مون کی کامیابی کا فیصلہ مشترکہ مخالف نہیں کرے گا۔ فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ یہ تینوں اپنے ماضی سے کیا سیکھتے ہیں اور مستقبل میں کن اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔ ورنہ آج کی قربت کل کی ایک اور سیاسی صف بندی بن کر رہ جائے گی، اور عوام ایک بار پھر یہی پوچھتے رہ جائیں گے کہ سیاست میں اصول بدلے تھے یا صرف مفادات کے ساتھی؟
واپس کریں