تیرہ سالہ اقتدار، دو تہائی اکثریت اور احتجاج سے خالی سڑکیں ۔ خالد خان

دو تہائی اکثریت کی جماعت سے حکومت چھین لی گئی، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت آگئی، مگر پی ٹی آئی کی مسلسل تین صوبائی حکومتوں اور تیرہ سالہ طویل اقتدار کے باوجود کارکنوں کا وہ سیلاب سڑکوں پر نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی کوئی ایسی عوامی تحریک نہیں اٹھی جو ریاستی فیصلوں کو چیلنج کرسکتی۔ پنجاب سے کوئی بڑا رہنما کنٹینر پر نہیں چڑھا اور خیبرپختونخوا کے بڑے رہنما بھی عوام کو متحرک کرنے میں وہ کردار ادا نہ کرسکے جس کی توقع ایک مقبول جماعت سے کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، لیکن ایک بنیادی وجہ اس سیاسی طبقے کا رویہ بھی ہے جس نے تیرہ سال اقتدار کے ثمرات سمیٹے، مگر مشکل وقت میں عوام کے سامنے آکر قیادت کرنے کا حوصلہ نہیں دکھایا۔
سیاسی جماعتیں صرف انتخابی جلسوں، نعروں اور سوشل میڈیا کی مقبولیت سے طاقتور نہیں بنتیں۔ ان کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب انہیں اقتدار سے محرومی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہو۔ ایسے مواقع پر کارکن قیادت کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ جو لوگ اقتدار میں ان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے تھے، کیا وہ اب ان کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود بھی کوئی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
پی ٹی آئی کے معاملے میں یہی سوال اہم ہے۔ تیرہ سال تک خیبرپختونخوا میں حکومت کرنے والی جماعت اگر اپنے اقتدار کے خلاف پیدا ہونے والی صورت حال میں عوام کو منظم احتجاج کے لیے تیار نہیں کرسکی تو اس کی ذمہ داری صرف کارکنوں پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ تنظیم سازی، عوام سے مسلسل رابطہ اور مشکل وقت کے لیے سیاسی تیاری قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر عوام کو صرف انتخابی مہم اور اقتدار کے حصول کے لیے متحرک کیا جائے تو محض مقبولیت کی بنیاد پر کسی بڑی عوامی مزاحمت کی توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
دوسرا پہلو خود قیادت کا طرزِ عمل ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما ریاست کے ساتھ براہِ راست تصادم کے نتائج سے بے خبر نہیں تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ احتجاج کو کس حد تک لے جانے کی کیا قیمت ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بہت سے رہنما تصادم سے بچنا چاہتے ہوں، لیکن اس احتیاط اور کارکنوں سے مزاحمت کی توقع کے درمیان ایک واضح تضاد موجود ہے۔ اگر قیادت خود خطرات مول لینے کے لیے تیار نہ ہو تو کارکنوں سے غیر معمولی قربانیوں کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟
اس صورت حال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پوزیشن بھی اہم ہے۔ ان کے سامنے بظاہر ایک مشکل انتخاب تھا۔ احتجاج نہ کرتے تو عمران خان کی ناراضی اور وزارتِ اعلیٰ سے محرومی کا خطرہ تھا، جبکہ احتجاج کرتے تو ریاست کے ساتھ تصادم اور اپنی حکومت کے خاتمے کا خدشہ موجود تھا۔ انہیں اپنی سیاسی وفاداری ثابت کرنے اور اپنا اقتدار بچانے کے درمیان توازن قائم کرنا تھا۔
اس تناظر میں سہیل آفریدی کے احتجاجی کردار کو ایک ایسی سیاسی مجبوری کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں مزاحمت کی علامت بننا ان کے لیے ضروری تھا، مگر اس مزاحمت کی پوری قیمت ادا کرنا شاید ان کے مفاد میں نہیں تھا۔ ایک ممکنہ تعبیر یہ ہے کہ انہوں نے سیاسی شہادت کا راستہ اختیار کیا، لیکن لانگ مارچ کی قیادت اور اس کے ممکنہ نتائج سے خود کو بچائے رکھا۔ یوں وہ عمران خان کے سامنے وفاداری کا مظاہرہ بھی کرسکتے تھے اور براہِ راست تصادم کے تمام خطرات اپنے سر لینے سے بھی بچ سکتے تھے۔
حکومت کے خاتمے کا ایک اور سیاسی پہلو بھی ہے۔ جب حکومت ہی باقی نہ رہے تو کسی دوسرے پی ٹی آئی رہنما کے لیے اسی صوبائی حکومت میں سہیل آفریدی کی جگہ لینے کا امکان بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا احتجاج اور وزارتِ اعلیٰ کے مستقبل کے فیصلوں میں ان تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا گیا تھا۔ تاہم اسے سہیل آفریدی کی باقاعدہ منصوبہ بندی یا دانستہ حکمتِ عملی قرار دینے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
یہاں شفیع جان، شاہد خٹک اور جنید اکبر جیسے رہنماؤں کے کردار پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اگر انہوں نے سہیل آفریدی کو احتجاجی سیاست میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی تو کیا انہیں زمینی حقائق، کارکنوں کی تیاری اور ریاستی ردعمل کا درست اندازہ تھا؟ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ کو ایسی سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس کے نتائج برداشت کرنے کے لیے پوری جماعت تیار تھی؟ یا پھر جذباتی سیاسی ماحول میں ایسے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کی گئی جن کی قیمت بالآخر سہیل آفریدی اور ان کی حکومت کو ادا کرنا پڑی؟
یہ سوالات محض شخصیات پر تنقید نہیں بلکہ جماعت کی فیصلہ سازی اور داخلی مشاورت کا جائزہ لینے کے لیے اہم ہیں۔ احتجاج کی آگ بھڑکانے اور اس کی قیادت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ کارکنوں کو جذباتی تقریروں کے ذریعے متحرک کرنا ایک بات ہے، لیکن ان کے ساتھ خود خطرات مول لینا، سیاسی حکمتِ عملی کی ذمہ داری قبول کرنا اور نتائج کا سامنا کرنا بالکل مختلف معاملہ ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے یہ صورت حال محض ایک حکومت کے خاتمے یا ایک احتجاج کی ناکامی کا معاملہ نہیں۔ یہ اس سوال سے جڑی ہے کہ تیرہ سال اقتدار میں رہنے کے بعد جماعت نے کتنی مضبوط تنظیم، کتنی مؤثر عوامی وابستگی اور کتنی اجتماعی سیاسی قوت پیدا کی۔ انتخابی مقبولیت اور سیاسی مزاحمت کی صلاحیت ایک چیز نہیں۔ ووٹ حاصل کرنا اور لوگوں کو کسی مقصد کے لیے مسلسل اور منظم انداز میں متحرک کرنا دو الگ صلاحیتیں ہیں۔
اگر ایک جماعت اپنے اقتدار کے خاتمے یا سیاسی اختیار کو محدود کیے جانے پر بھی ملک گیر عوامی تحریک پیدا نہیں کرسکتی تو اسے صرف ریاستی دباؤ یا کارکنوں کی بے عملی کا نتیجہ قرار دینا کافی نہیں۔ اسے اپنی قیادت، تنظیم، عوامی رابطوں اور اقتدار کے دوران قائم کیے گئے سیاسی تعلقات کا بھی احتساب کرنا ہوگا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکن کیوں نہیں نکلے۔ اصل سوال یہ ہے کہ تیرہ سال اقتدار میں رہنے والی جماعت نے انہیں کس حد تک منظم کیا، ان کے ساتھ کس نوعیت کا سیاسی تعلق قائم رکھا اور مشکل وقت میں خود اس کی قیادت کتنی قربانی دینے کے لیے تیار تھی۔
سیاسی جماعتوں کی اصل آزمائش اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اقتدار سے محرومی کے وقت اپنے کارکنوں اور عوام کے ساتھ کھڑے رہنا ہے۔ جب قیادت اپنے تحفظ، عہدوں اور داخلی مفادات کے حصار سے باہر نہیں نکلتی تو مقبولیت کے بڑے بڑے دعوے بھی سڑکوں پر عوامی قوت میں تبدیل نہیں ہوتے۔
واپس کریں