تجاوزات تو گرا دیں، مگر سرکاری سرپرستوں کا احتساب کون کرے گا؟

(پشاور) رپورٹ خالد خان
پشاور کے رنگ روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن ایک اچھا اور ضروری اقدام ہے۔ سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے، سڑکوں کی توسیع میں رکاوٹیں اور عوامی مقامات پر ناجائز تعمیرات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی عمل داری یقینی بنائے اور سرکاری زمینوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرائے۔ لیکن قانون کی عمل داری کا مطلب صرف عمارتیں گرانا نہیں، بلکہ ان تمام کرداروں کا احتساب بھی ہے جن کی غفلت، نااہلی یا مبینہ ملی بھگت سے یہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔
رنگ روڈ پر دو سو سے زائد دکانوں، مارکیٹوں اور دیگر تجاوزات کو مسمار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ آپریشن کی ویڈیوز میں ایسے مناظر بھی دکھائی دیے جن میں تاجروں کو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو ملبے میں تبدیل ہوتے دیکھ کر روتے اور فریاد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان مناظر میں ایک 22 سالہ نوجوان کی کہانی خاص طور پر توجہ طلب ہے، جس کے مطابق اس نے ولنس فارمیسی کے نام سے اپنی دکان قائم کرنے پر ساڑھے تین کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔
اس نوجوان کی باتوں میں ایک ایسے پاکستانی کا دکھ نمایاں تھا جو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن بالآخر خود کو بے یارومددگار محسوس کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ چاہتا تو دبئی یا کسی دوسرے ملک میں سرمایہ کاری کر سکتا تھا، مگر اس نے اپنے ملک کو ترجیح دی۔ اب اس کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور وہ دوسروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے منع کرنے کی بات کر رہا ہے۔
اس نوجوان کے دعووں، خصوصاً سرمایہ کاری کی مالیت، این او سی کی قانونی حیثیت اور تعمیر کی اجازت سے متعلق حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ لیکن اس کی فریاد نے ایک ایسا سوال ضرور اٹھایا ہے جس کا جواب حکومت اور متعلقہ اداروں کو دینا چاہیے۔
جب یہ دکانیں تعمیر ہو رہی تھیں تو متعلقہ سرکاری ادارے کہاں تھے؟
کیا یہ تعمیرات ایک رات میں کھڑی ہوگئی تھیں؟ کیا سینکڑوں دکانوں اور مارکیٹوں کی تعمیر کسی کی نظر میں نہیں آئی؟ کیا متعلقہ محکموں کے اہلکاروں نے کبھی موقع کا معائنہ نہیں کیا؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ سرکاری زمین کہاں ہے، سڑک کی حدود کیا ہیں اور کہاں تعمیر کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
اگر یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں تو انہیں ابتدا ہی میں کیوں نہیں روکا گیا؟ اگر ان کے مالکان نے قانون کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف اسی وقت کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اور اگر متعلقہ اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی تھیں تو پھر اتنی بڑی تعداد میں تجاوزات قائم کیسے ہوگئیں؟
یہ سوالات محض انتظامی نوعیت کے نہیں، بلکہ ریاستی نظم و نسق، سرکاری جواب دہی اور عوام کے معاشی مفادات سے تعلق رکھتے ہیں۔
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ان دکانوں کو بجلی، گیس، پانی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ جیسی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ مختلف محکموں نے اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کنکشن یا اجازت نامے جاری کیے ہوں گے۔ ان تمام معاملات کی چھان بین ہونی چاہیے۔ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کن دکانوں کے پاس قانونی منظوری تھی، کن کے پاس نامکمل یا غیر مؤثر دستاویزات تھیں اور کن تعمیرات کو کسی اجازت کے بغیر قائم کیا گیا۔
اگر کسی تاجر نے متعلقہ ادارے سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی تو اس اجازت نامے کی قانونی حیثیت کا تعین ضروری ہے۔ اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی منظوری دی، کسی نے رشوت لے کر آنکھیں بند رکھیں، کسی نے سیاسی دباؤ میں قانون کی خلاف ورزی کی یا کسی افسر نے اپنے فرائض سے دانستہ غفلت برتی تو اس کا جواب بھی سامنے آنا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی غیر قانونی تعمیر کو بعد میں گرانا انتظامی کارروائی ہے، جبکہ اسے غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے دینے والوں کی ذمہ داری کا تعین احتساب ہے۔ پہلی کارروائی سے زمین واگزار ہو سکتی ہے، لیکن دوسری کارروائی کے بغیر نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر قانون کی گرفت اس شخص تک پہنچتی ہے جو سامنے نظر آتا ہے، جبکہ اس کے پیچھے موجود سرکاری مشینری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ تجاوزات قائم کرنے والے تاجر ہوں یا قبضہ مافیا کے بااثر کردار، قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن اگر سرکاری اہلکاروں کی سرپرستی، غفلت یا بدعنوانی نے ان غیر قانونی تعمیرات کو ممکن بنایا تو ان اہلکاروں کو محض اس لیے بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا کہ اب عمارتیں گرا دی گئی ہیں۔
ریاست کا اختیار صرف مسمار کرنے کے لیے نہیں، شہریوں کو بروقت خبردار کرنے، قانون کی پابندی یقینی بنانے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔
حکومت کو اس معاملے میں قانون سے انحراف نہیں کرنا چاہیے، لیکن اسے یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سرمایہ کاری اور روزگار کا تحفظ معاشی ترقی کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کے لیے واضح قوانین، شفاف منظوریوں اور قابل اعتماد انتظامی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر شہری سرکاری اداروں سے اجازت حاصل کرنے کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہیں تو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی محض تقریروں سے نہیں ہو سکتی۔
اس لیے ضروری ہے کہ رنگ روڈ آپریشن کے ساتھ ایک باقاعدہ تحقیقاتی عمل بھی شروع کیا جائے۔ تمام متاثرہ دکانوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے، تعمیرات کی تاریخ معلوم کی جائے، متعلقہ این او سیز اور اجازت ناموں کی جانچ ہو، یوٹیلیٹی کنکشن جاری کرنے والے اداروں سے جواب طلب کیا جائے اور اس عرصے میں تعینات متعلقہ اہلکاروں اور افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے۔
اگر کسی نے رشوت لی، غیر قانونی اجازت دی، ریکارڈ میں ردوبدل کیا یا دانستہ طور پر تجاوزات قائم ہونے دیں تو اس کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے۔ محکمانہ کارروائی کی جائے، غیر قانونی مالی فوائد اور سرکاری نقصان کی قانونی ریکوری کی جائے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
یہ کارروائی صرف موجودہ اہلکاروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ سابق افسران اور ریٹائرڈ ملازمین کے کردار کی بھی تحقیق ہونی چاہیے، جہاں قانون کے تحت کارروائی ممکن ہو۔ عہدے سے ریٹائرمنٹ کسی شخص کو اس کے سابقہ اعمال کی جواب دہی سے خودبخود مستثنیٰ نہیں کرتی۔
اس کے ساتھ یہ اصول بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہر متاثرہ تاجر بے گناہ اور ہر سرکاری اہلکار مجرم نہیں ہوتا۔ جس نے جان بوجھ کر قانون توڑا، اسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے، اور جس نے قانون کے مطابق کاروبار قائم کیا یا سرکاری ادارے کی غلط رہنمائی پر انحصار کیا، اس کے معاملے کو الگ سے دیکھا جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ذمہ داری کا تعین شواہد اور قانون کے مطابق ہو۔
اگر کسی سرکاری ادارے کی غلطی سے کسی شہری کو نقصان پہنچا ہو تو اس کی قانونی ذمہ داری اور ممکنہ تلافی کا سوال بھی زیر غور آنا چاہیے۔ ریاست اپنے اداروں کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے کمزور نہیں ہوتی؛ اس کے برعکس، اپنی غلطی درست کرنے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے سے شہریوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک نوجوان، چند دکانوں یا پشاور کے رنگ روڈ تک محدود نہیں۔ یہ پاکستان میں کاروبار کرنے والے ہر شخص کے اعتماد کا معاملہ ہے۔ سرمایہ کار کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ قانون کے مطابق اجازت حاصل کرتا ہے تو ریاست اس کے قانونی حقوق کا تحفظ کرے گی، اور اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اسی طرح سرکاری اہلکار کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اختیارات کا غلط استعمال، دانستہ غفلت یا بدعنوانی بعد میں عمارتیں گرانے سے معاف نہیں ہو جائے گی۔
تجاوزات آج ختم ہو جائیں گی، سڑکیں کشادہ ہو جائیں گی اور سرکاری زمین واگزار ہو جائے گی، لیکن اگر ان تجاوزات کو پیدا کرنے والا نظام اپنی جگہ برقرار رہا تو کل یہی کہانی کسی دوسری سڑک، کسی دوسری مارکیٹ اور کسی دوسرے شہر میں دہرائی جا سکتی ہے۔
اگر یہ تعمیرات غیر قانونی تھیں تو انہیں بننے کس نے دیا؟ اگر این او سیز غیر قانونی تھے تو انہیں جاری کس نے کیا؟ اگر متعلقہ اہلکاروں نے غفلت برتی تو انہیں سزا کون دے گا؟ اور اگر کسی نے اپنے اختیارات فروخت کیے تو اس سے قومی خزانے اور متاثرہ شہریوں کے نقصان کا حساب کون لے گا؟
حکومت کو رنگ روڈ کی زمین واگزار کرانے پر ضرور مبارک باد دی جانی چاہیے، بشرطیکہ کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہو۔ لیکن اس اقدام کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تجاوزات کے ساتھ ساتھ ان کی سرکاری سرپرستی، غفلت یا بدعنوانی کے ذمہ دار کرداروں کا بھی احتساب ہوگا۔
صرف دکانیں گرانے سے تجاوزات ختم ہوتی ہیں، تجاوزات پیدا کرنے والا نظام نہیں۔ جب تک اس نظام کو جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، کل بھی یہی کارروائیاں جاری رہیں گی، آج بھی سرمایہ ڈوبتا رہے گا اور کل بھی کوئی نوجوان اپنے ہی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے فیصلے پر پچھتائے گا۔
واپس کریں